سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 13

سوال نمبر 694: آج جو لوگ یزید کو امیر المؤمنین کہتے ہیں کیا دورِ عمرِ ثانیؒ میں ان کو یہ سزا نہ ملتی؟ پھر ابنِ تیمیہؒ، غزالیؒ اور محمود عباسی کی تحقیق کیا مقام رکھتی ہے؟

جواب: پہلا حوالہ درست ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امیرِ معاویہؓ کو بُرا کہا تو اسے عمر ثانی نے تیس کوڑے لگائے۔ کیا اب خدا عمر ثانیؒ کی حکومت دے تو آپ کو تیس تیس کوڑے روزانہ لگنے سے عار تو نہیں ہو گی؟

ابنِ تیمیہؒ نے امیر المؤمنین نہیں کہا۔ وہ کہتے ہیں یزید کے متعلق لوگوں کے تین گروہ ہیں ایک کافر کہتا ہے۔(شیعہ)۔ ایک نبوت کا قائل ہے اور کم از کم برگزیدہ خلیفہ راشد مانتا ہے یزید نہ ایسا تھا نہ ویسا، بلکہ وہ بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا اور مسلمان تھا اس پر لعنت درست نہیں۔

حجتہ الاسلام امام غزالیؒ کی اپنی منفرد تحقیق ہے وہ لعن یزید کی نفی کر کے دعائے رحمت جائز و مستحب کہتے ہیں اور نمازوں میں مؤمنین و مسلمین کے لیے عمومی دعا میں اسے بھی شامل مانتے ہیں۔ 

سوال نمبر 695: قسطلانی شرح بخاری جلد 10 صفحہ 1076 میں لکھتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا: میرے بعد میری امت فتنہ برپا کر کے حقوقِ اہلِ بیتؓ ضبط کرے گی۔ فرمائیں وہ کون سا پہلا حق غصب ہوا؟ غاصب کا کیا نام ہے؟

جواب: قسطلانی دستیاب نہ ہو سکی کہ سیاق و سباق سے مفہوم اخذ کیا جاتا۔ بظاہر یہ اشارہ قاتلینِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف ہے۔ کیونکہ امت میں سب سے پہلا فتنہ انھوں نے برپا کیا۔ حضورﷺ‏ کی دو صاحبزادیوں کے شوہر حضرت عثمان ذوالنورینؓ کو شہید کر کے خلافت غصب کی۔ قرآن و حدیث کے مطابق اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، آلِ محمد و اہلِ بیتؓ نبوی ہیں۔ ان سے جنگ کرنے والے مصری کوفی بلوائی اس کا مصداق ہیں۔

عباسی کی تحقیق سے ہمیں اتفاق نہیں وہ مسلک اہلِ سنت سے ہٹا ہوا ہے۔

سوال نمبر 696: 500 سال پرانی تاریخ اسلام سے اصحابِ ثلاثہؓ کا نمازِ جنازہ دکھائیں؟

جواب: حضرت حسینؓ کو شیعانِ کوفہ بلا کر شہید کر دیں اور جنازہ نہ پڑھیں۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ابنِ ملجم جیسا قسمیہ حب دار علی شہید کر دے اور اہلِ بیتؓ مرتد شیعوں (خوارج) کے خوف سے حضرت علی المرتضیٰؓ کی قبر بھی چھپا دیں۔ آپ ان واقعات پر قیاس کر کے ان بزرگوں کا جنازہ نہ پڑھا جانا باور کراتے ہیں کہ زندگی اور موت دونوں میں تمام مسلمانوں کے محبوب و مطاع تھے اور سب دنیا دست بستہ خادم تھی۔ آج دل ان کی ایمانی محبت سے لبریز ہیں تو قیامت کے دن سب مسلمان حضورﷺ‏ کے ہمراہ ان کے جھنڈوں تلے جمع ہوں گے۔

ہمارے خیال میں تاریخ کی سب سے معتبر و مفصل کتاب البدایہ والنہایہ لابنِ کثیر التوفی 772ھ ہے اور قدیم طبقات ابنِ سعد المتوفی 230 ہجری اچھی ہے۔ ان سے جنازوں کا مختصر بیان سماعت فرمائیں: 

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیماری میں حضرت عمر فاروقؓ ولی عہد بنے۔ نمازیں پڑھاتے رہے۔ (البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 18)۔ اور پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ (چار تکبیریں کہیں، قبر رسول اللہﷺ اور منبر کے درمیان جنازہ پڑھا گیا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 55)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ سیدنا صہیبؓ نے پڑھایا۔

چنانچہ البدایہ جلد 7 صفحہ 147 پر ہے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور جنازہ لایا گیا تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و سیدنا عثمانِ غنیؓ دونوں لپکے کہ جنازہ پڑھائیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا تم کو کچھ اختیار نہیں ہے یہ حق صرف حضرت صہیبؓ کا ہے جن کے متعلق سیدنا عمر فاروقؓ وصیت کر گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا۔ مطلب بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دونوں پر مسجدِ نبویﷺ‏ کے اندر منبر کے رو برو نماز پڑھی گئی۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 55)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے جنازہ کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ البدایہ جلد 7 صفحہ 191 پر ہے کہ سیدنا جبیر بن مطعمؓ نے یا سیدنا زبیر بن العوامؓ نے جنازہ پڑھایا اور شرکاء جنازہ میں حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت علیؓ بن ابی طالب اور حضرت عثمانؓ کے ساتھیوں کی ایک جماعت تھی۔ عورتوں میں آپ کی بیوی سیدہ نائلہؓ اور حضرت ام البنینؓ نے بھی جنازہ میں شرکت کی۔

سوال نمبر 697: فرمانِ نبویﷺ‏ ہے: علی خلیفتى عليكم من حياتی و فی مماتی فمن عصاه فقد عصانی۔ کہ حضرت علی المرتضیٰؓ میری حیات اور میری ممات میں تم پر خلیفہ ہے اس کا نافرمان میرا نافرمان ہے۔ کیا کسی اور صحابی کی شان میں کوئی ایسا حکم موجود ہے؟

جواب: روضتہ الاحباب بوگس اور غیر معتبر کتاب ہے۔ حدیث بے سند بلکہ باطل ہے۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ‏ کی زندگی میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خلیفہ و حاکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نبوت حضور اقدسﷺ‏ سے چھین کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مل گئی؟ اس کے برعکس ایسی ہی روایت خطیب بغدادیؒ نے حضورﷺ‏ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے دین اور وحی میں میرا خلیفہ بنایا ہے، تم اس کی بات سنو، نجات پاؤ گے۔ فرمانبرداری کرو ہدایت پاؤ گے۔ حضرت عباسؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم لوگوں نے اطاعت کی تو ہدایت پائی۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ اس میں عمر بن ابراہیم کردی کمزور راوی ہے۔ (تنزيہہ الشريعتہ المرفوعہ عن الأخبار الشنيعتہ الموضوعہ على بن محمد الكنانی باب مناقب الخلفاء الاربعہ)

سوال نمبر 698: حضورﷺ‏ مثیلِ موسیٰ ہیں (مزمل) قوم موسیٰ کے بارہ سردار مقرر ہوئے (مائدہ) کیا قوم محمدﷺ‏ کے بھی سردار ہوں گے یا نہیں؟

جواب: تفصیل تو ہم سُنّی کیوں ہیں؟ حصہ اول میں دیکھیں۔ حاصل یہ ہے کہ مماثلت من کل الوجوہ نہیں پھر وہ بارہ سردار بارہ قبیلوں کے قبائلی سردار تھے، مذہبی نہ تھے۔ پھر بنصِ قرآن دو عہد پر قائم رہے اور دس غدار نکلے۔ کیا شیعہ اپنے بارہ اماموں کو ایسا ہی جانتے ہیں؟

سوال نمبر 699: پھر صحیح مسلم میں بارہ سرداروں والی احادیث کیوں درج ہیں؟

صفحہ 7 از 13