سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 13

کتب تاریخ میں شہادتِ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا واقعہ پڑھیے کہ ابنِ ملجم کے معاون اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر سب سے پہلے حملہ آور شبیب بن عجرہ کو بنوامیہ کے ہی ایک شخص نے پکڑ کر قتل کیا۔ (صواعقِ محرقہ: صفحہ، 134 مطبوعہ ملتان) یہ سعادت امویوں کو حاصل ہوئی۔ رافضی متعہ باز کی قسمت کہاں؟ اگر بنوامیہ اتنے ہی برے تھے تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے پاس ان کو کیوں رکھا تھا؟ اگر وہ دشمنِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے تو پھر حملہ آور کو کیوں قتل کیا؟ نیز بتائیے زیاد کو آپؓ نے فارس کا گورنر کیوں بنا رکھا تھا؟

سوال نمبر 684: ترمزی میں ہے کہ حضورﷺ‏ تین قبیلوں سے ناخوش گئے۔ بنی ثقیف، بنی خیفہ، بنو امیہ۔ اگر شیعہ خوش نہ ہوں تو سنت ہے یا بدعت؟

جواب نمبر 1: یہ موضوع ہے، منکر ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں، ربیع کچھ نہیں۔ نسائی اسے متروک الحدیث کہتے ہیں۔ ابو حاتم رازی کہتے ہیں: ابنِ ابی یعقوب مجہول ہے۔ (العلل المتناہیہ فی الاحاديث الواہيہ: صفحہ، 293)

جواب نمبر 2: بالفرض مانی جائے تو بھی ان کے کچھ افراد مراد ہیں، تمام نہیں۔ ورنہ حضرت ابو العاص بن ربیع حضرت عثمان، حضرت امِّ حبیبہ، حضرت ابوسفیان، یزید بن ابوسفیان، حضرت امیرِ معاویہ، حضرت سعید بن العاص، حضرت خالد بن العاص رضی اللہ عنہم سے بھی ناخوش ہونا چاہیے۔ حالانکہ ان سے یقیناً خوش تھے معلوم ہوا کہ شیعوں کا ہر کام بدعت اور مخالفِ سنت ہے جن سے حضور اقدسﷺ خوش تھے ان سے یہ دشمنی رکھتے ہیں اور جن کفار بنوامیہ سے آپﷺ‏ ناراض تھے ان سے دشمنی کا شیعہ نے کبھی ذکر ہی نہیں کیا۔

سوال نمبر 685، 686: آفت سے بیزاری اختیار کرنا بہتر ہے یا نہیں؟ فرمانِ رسولﷺ‏ ہے کہ ہر دین کے لیے ایک آفت ہے۔ دینِ اسلام کے لیے بنوامیہ آفت ہیں۔

جواب: موضوع حدیث ہے۔ پھر یہ حدیث مرفوع نہیں، حضرت ابنِ مسعودؓ کی طرف منسوب قول ہے۔ نعیم بن حماد نے فتن میں اسے روایت کیا ہے۔ اگرچہ بعض نے اسے صدوق کہا ہے لیکن ساتھ ہی وہمی کثیر الخطاء کہتے ہیں۔ زبانی حدیثیں بیان کرتے تھے۔ بہت سی منکر اس کے پاس تھیں جن کا تابع نہیں ہے۔ یحییٰ ابنِ معین نے کہا یہ حدیث میں کچھ نہیں۔ ابو داؤد نے کہا اس کے پاس بیس حدیثیں بے اصل ہیں۔ نسائی نے کہا ضعیف اور غیر ثقہ ہے۔ ابنِ حبان نے ثقات میں ذکر کر کے کہا کہ بہت دفعہ غلطیاں کرتا اور وہمی ہے۔ نسائی نے ضعیف کہا اور دوسرے واضع الحدیث کہتے ہیں۔ ابنِ عدی اسے متہم کہتے ہیں۔ (تہذيب التہذيب: جلد، 10 صفحہ، 461)

سوال نمبر 687: یزید نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی زندگی اور ولی عہدی میں بی بی (سیدہ) عائشہ صدیقہؓ سے نکاح کی خواستگاری کیوں کی؟ مدارج النبوة۔ جب کہ اُمُ المومنینؓ امت پر حرام ہے۔ 

جواب: حوالہ ناقص ہے اور روایت جھوٹی ہے۔ مدارج النبوۃ کا تمام باب عائشہ صدیقہؓ دیکھا۔ کہیں یہ ملعون بات نہیں ہے۔ ہاں یہ بات مل گئی کہ طبعی موت سے وفات پائی، کنویں میں گر کر وفات پانے کا قصہ روافض (لعنہم اللہ) کا من گھڑت ہے۔ (مدارج: جلد، 2 صفحہ، 599) 

جب آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اُمّ المؤمنین کہتے ہیں تو آپ کے خلاف تبّرا و بکواس کا حرام کام بند کیجئے۔ ماں کی کردارکشی و عیب جوئی سے بیٹا حلالی نہیں رہ سکتا۔

سوال نمبر 688: حادثہ حرہ میں یزید نے اہلِ مدینہ کو ڈرایا۔ کیا وہ حدیثِ مسلم کے مطابق لعنتِ خدا و انس و ملک کا مستحق نہ ہوا؟

جواب: اس پر تبصرہ ہم سُنّی کیوں ہیں؟ کے آخری سوال میں ہم کر چکے ہیں۔

سوال نمبر 689: صواعقِ محرقہ میں ہے کہ یزید پلید نے ماں بیٹا، بہن بھائی کا نکاح جائز کر دیا تھا، کیا ایسا خلیفہ برحق ہو سکتا ہے جب کہ آج کل اسے خلیفہ راشد کہا جا رہا ہے۔

جواب: صواعقِ محرقہ اصل دیکھی۔ روایت واقدی سے ہے جو مثالب کی روایتیں خوب گھڑتا ہے پھر سند بھی مذکور نہیں ہے۔ یہ حقیقت نہیں سیاسی رقابت کا اظہار ہے۔ ورنہ اہلِ سنت متفقہ اس کی تکفیر کرتے۔

سوال نمبر 690: کثیر اہلِ سنّت یزید کو لعنتی کہتے ہیں بلکہ اکثریت نے اس کا کافر ہونا تسلیم کیا ہے۔ فرمائیے آج کل جو ہمدردانِ یزید اسے رحمۃ اللہ کہتے ہیں وہ سنّی ہیں؟

جواب: پہلی دو باتیں آپ کی بے دلیل ہیں ہمیں اتفاق نہیں جو رحمۃ اللہ کہہ رہے ہیں وہ بھی سنّی مذہب پر عمل نہیں کر رہے۔ آپ کی صحابہ دشمنی اور لعنتی پیشہ نے ان کو بطورِ ضد و مخالفت دوسری گمراہی میں ڈال دیا ہے۔

سوال نمبر 691: اگر یزید نیک تھا تو اس کے فرزند معاویہ بن یزید رحمۃ اللہ علیہ نے اسے فاسق، فاجر قرار دے کر تخت حکومت کو کیوں ٹھوکر ماری؟

جواب: ماشاء اللہ بنو امیہ کے ایک فرد کو تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کہہ رہے ہیں ذرا اپنے سوال 683 کو مڑ کر دیکھیے، کہیں دشمنِ رسولﷺ‏ تو نہیں بن گئے؟ ورنہ اپنا ناجائز استدلال تو واپس لیجیے۔ اس صالح و دین دار صاحبزادہ پر بھی آپ نے تہمت لگائی کہ اس نے والد کو فاسق و فاجر کہا۔ شیعہ نواز تاریخ طبری کا بیان ملاحظہ ہو: مجھ میں حکومت کا بار اٹھانے کی طاقت نہیں ہے۔ میں نے چاہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی طرح کسی کو اپنا جانشین بنا دوں یا سیدنا عمر فاروقؓ کی طرح چھ آدمیوں کو نامزد کر کے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب شوریٰ پر چھوڑ دوں۔ لیکن نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نظر آیا، نہ ویسے چھ آدمی ملے اس لیے میں اس منصب سے دست بردار ہوتا ہوں۔ تم لوگ جسے چاہو خلیفہ بنا لو۔ حضرت حسنؓ کے بعد دست برداری کی یہ دوسری مثال تھی۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 377)

سوال نمبر 692: حضرت معاویہ بن یزید نے دادا کو کیوں خاطی ٹھہرایا؟

جواب: شیعہ تو آپ جدید ہیں لیکن ان کے جھوٹ بولنے کی قدیم وراثت آپ کو پوری مل گئی ہے۔ ہم نے طبری دیکھ لی۔ یعقوبی کے حوالے پڑھے اور نجیب و ندوی کو بھی دیکھا۔ معاویہ بن یزید کے قصہ میں کہیں نہیں ہے کہ اس نے دادا کو قصور وار ٹھہرایا ہو۔

سوال نمبر 693: اگر یزید نیک تھا تو حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ نے اسے امیر المؤمنین کہنے والے کو بیس کوڑوں کی سزا کیوں دی؟

صفحہ 6 از 13