سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 13

جواب: عہدِ نبویﷺ‏ کے غزوات اور خلافتِ راشدہ کی فتوحات ایک ہی سلسلہ، ترقی اسلام کے دو کنارے ہیں۔ غیر مسلم دونوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ ہم دونوں کا جواب دیتے ہیں کہ جہاد تبلیغ کی اجازت نہ ملنے پر ہوتا تھا۔ ورنہ جبراً تلوار سے نہ حضور اکرمﷺ‏ نے کسی کو کلمہ پڑھایا، نہ خلفاءِ اسلام نے، باوجودیکہ آپ صحابہ و اسلام دشمنی میں غیر مسلموں کے آلہ کار ہیں مگر تعجب ہے عہدِ نبویﷺ‏ میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سپاہیانہ خدمات اور قتلِ کفار پر بڑا فخر کرتے ہیں یہ دو رُخی کیوں؟ پھر آپ خلافتِ راشدہ کی فتوحات پر ناخوش ہیں۔ مگر آپ کے خیال میں کسی بزرگ کی خدمت نظر آ جائے تو فخریہ ذکر کرتے ہیں۔ اپنے رسالہ چار یار صفحہ نمبر 166، 167 کے اقتباس ملاحظہ کریں:

1: لیکن جنگِ خندق کے علاوہ اور کسی جنگ میں ان کے کارناموں کی تفصیل نہیں ملتی اسی طرح بعد وفاتِ رسولﷺ‏ کی جنگوں میں ان کو سپہ سالار کی حیثیت سے منتخب کیا گیا مثلاً جنگِ قادسیہ، جلولاء اور حملات فارس میں ان کی کارکردگیاں، ان کو ایک ماہر جنگجو افسر ثابت کرتی ہیں؟

2: شہر مدائن ایک زمانے میں کسروی سلطنت کا دارالحکومت تھا اسے سیدنا سعد بن وقاصؓ (ابی وقاص) نے فتح کیا۔ سیدنا سلمانؓ بھی ایک فوجی دستے کے قائد کی حیثیت سے اس لشکر میں شامل تھے جب مسلمانوں نے مدائن کو فتح کیا تو حضرت سعدؓ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ شہر میں داخل ہونے کے لیے دریائے دجلہ کو عبور کریں اور کہا کہ اگر مسلمان اپنی صفات پر باقی ہیں، تو خدا ضرور عبور کرنے میں مدد کرے گا۔ حضرت سلمانؓ کو جوش آ گیا اور فرمایا اسلام ابھی تازہ ہے اور دریا بھی مسلمانوں کی اسی طرح اطاعت کرے گا جس طرح اہلِ زمین نے کی ہے ۔ یہ سمجھ لو کہ آج کے دن ہماری فوج کا کوئی آدمی ہلاک نہیں ہو گا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی اطلاع کے مطابق پوری فوج سواریوں پر دجلہ عبور کر گئی اور کوئی بھی غرق نہیں ہوا۔

سوال نمبر 681: کا جواب بھی ان اقتباسات سے ہو گیا کہ اگر یہ جارحانہ کارروائی اور وسعت حدود کی ناجائز کوشش ہوتی تو سیدنا سلمانؓ کیوں شریک ہوتے۔ آپ کیوں فخر کرتے اور خدا دریا کو ان کے تابع کیوں کر دیتا معلوم ہوا کہ خلافتِ راشدہ میں مسلمانوں کی یہ فتوحات اسلام کی صداقت اور خلفاء کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

سوال نمبر 682: روضتہ المناظر حاشیہ تاریخ کامل میں ہے کہ باتفاق مفسرین شجره ملعونہ فی القرآن سے مراد بنو امیہ ہیں کیا آپ کو اتفاق ہے؟

جواب: تعجب ہے کہ دعویٰ تفسیر کا ہے اور حوالہ تاریخ کے حاشیہ کا دیا جا رہا ہے۔ پھر یہ صریح جھوٹ ہے۔ ایک معتبر تفسیری قول بھی نہیں ہے چہ جائیکہ مفسرین کا اتفاق بتایا جائے۔ ہمارے سامنے تفسیری اقوال کی ڈکشنری تفسیر طبری جلد 7 صفحہ 78، 79 کھلی ہے۔ اس میں 15 اقوال و آثار ہیں کہ شجرہ ملعونہ سے مراد درخت زقوم ہے۔ جس کے متعلق سورۃ صافات میں ہے کہ یہ درخت دوزخ کی جڑ میں ہو گا جیسے شیطانوں کے سر ہوتے ہیں۔ اسے مشرکین پیٹ بھر کر کھائیں گے۔ الآیۃ۔ ابوجہل نے شیطانی عقل سے خدائی فرمان کا مقابلہ کر کے کہا کہ دوزخ میں آگ ہو گی وہاں درخت کیسے اگے گا؟ تو یہ آیت اتری کہ لوگوں کی آزمائش ہم نے اس درخت کو بنایا ہے۔ ہم ڈرا بھی رہے ہیں پھر یہ بڑی سرکشی میں بڑھے جاتے ہیں۔ (القرآن) اور یہ تفسیر ابنِ عباسؓ، عکرمہ مسروق، ابو مالک، ابنِ مبارک، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ، ضحاک وغیرہم سے مروی ہے۔ ایک قول میں درخت پر لپٹ جانے والی بل دار بوٹی مراد ہے۔ بنوامیہ مراد ہونے پر ایک تفسیری قول بھی نہیں ہے۔ شیعہ تفسیر مجمع البیان جلد 3 صفحہ 424 میں بھی، ابنِ عباس، حسن بصریؒ سے درخت زقوم مراد ہے۔ ایک تفسیر میں یہودی مراد ہیں۔ ایک شیعہ تفسیر کا قول بنوامیہ کے متعلق ہے جو تفسیر قمی میں بھی ہے۔ دراصل سیاق اور مفہوم قرآن سے بالکل الگ ایک قسم کا یہ تحریفی قول بعض شیعہ کا ہے مگر اسے اہلِ سنت کی متفقہ تفسیر باور کرایا جا رہا ہے۔ یا للعجب۔

سوال نمبر 683: تطہیر الجنان میں ہے کہ تمام قبیلوں میں جنابِ رسول خدا کے نزدیک بنوامیہ اور معاویہ سب سے زیادہ قابلِ نفرت، شریر اور مضر لوگوں سے تھے۔ کیا سیدنا معاویہؓ کو ایسا سمجھنا سنّتِ رسولﷺ‏ نہیں؟

جواب: بددیانتی کی انتہا ہے کہ ناقص سوال تو لے لیا اور جواب کو دیکھا نہیں، حدیث کے الفاظ یہ ہیں: کہ سب قبائل سے یا سب لوگوں سے حضور اکرمﷺ‏ کو زیادہ ناپسند بنوامیہ تھے۔ 

ومعاوية من بنی امية فهو من الاشرار کا جملہ شیعہ معترض کا اپنا استدلال ہے حدیثِ رسولﷺ‏ نہیں ہے۔ مگر مشتاقِ خیانت نے اسے حدیثِ نبویﷺ‏ بنا کر ترجمہ غلط کر دیا۔ اس ناجائز استدلال کا جواب علامہ ابنِ حجر ہیتمیؒ نے یہ دیا ہے کہ معترض کا یہ فھو من الاشرار سے استدلال جہالت ہے۔ اسے تو علم کی ابجد بھی نہیں آتی۔ چہ جائیکہ گہرائی میں قدم رکھے کیونکہ اگر یہی نتیجہ مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ کو بھی اہلیتِ خلافت حاصل نہ ہو اور وہ اشرار میں سے ہوں۔ یہ مسلمانوں کے اجماع کا انکار ہے اور دین میں الحاد ہے۔ حدیث کی مراد یہ ہے کہ اکثر بنوامیہ شر اور بغض سے موصوف ہیں۔ یہ اس کے خلاف نہیں کہ قلیل بنوامیہ شریر نہ ہوں اور مبغوض نہ ہوں بلکہ وہ امت کے بہترین افراد اور بڑے اماموں سے ہیں۔ کیونکہ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ کی خلافتِ صحیحہ پر اتفاق ہے اور حضرت حسنؓ کی دستبرداری کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت پر بھی اجماع ہے اور ایسی صحیح احادیث آئی ہیں جو اجماع کی طرح عموم شریت سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو نکال دیتی ہیں۔ (تطہیر الجنان: صفحہ، 30)

صفحہ 5 از 13