سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 13

جواب: اس کا حوالہ ہم پہلے دے چکے ہیں۔ ایک راوی کمزور ہے مگر شیعہ کا مفہوم مخالف سے استدلال بتنگڑ ہے۔ نہ شیخین رضی اللہ عنہم کمزور اور غلط مشورہ دینے والے ثابت ہوتے ہیں۔ نہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا فہم حضور اکرمﷺ‏ سے اعلیٰ ثابت ہوتا ہے۔ نہ حدیث کو موضوع کہنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کبھی ہو جاتا ہے کہ کسی پیچیدہ مسئلہ کا حل اور بہتر سوچ بڑے فضلاء اور دانش وروں کے ذہن میں نہیں آتی۔ چھوٹوں کے ذہن میں آ جاتی ہے اور بڑوں کو چھوٹوں سے مشورہ کرنے میں یہی حکمت ہے: وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ (سورۃ آل عمران: آیت 159) حکمِ قرآن حکمت سے خالی نہیں ہے۔ 

اس تشریح سے سوال نمبر 674 اور 675 کا جواب بھی ہو گیا۔

سوال نمبر 676: اگر حضرت امیرِ معاویہؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے جنگ کر کے ان کو گالیاں دے کر اور دلوا کر سیدنا حسنؓ کو زہر دے کر، سنّت کی خلاف ورزی کر کے، قرآن کی مخالفت کے باوجود جنت میں جائے گا تو پھر شیعہ صرف رسول اللہﷺ اور آلِ رسولﷺ‏ کے دشمنوں سے بیزاری کرنے سے کیوں جہنمی ہیں؟

جواب: سیدنا امیرِ معاویہؓ دشمنی کا نشہ اور خمار بھی خوب ہے جو اترتا نہیں۔ جنگ کا عذر ہم مفصل بتا چکے ہیں۔ باقی 4 الزامات صریح جھوٹ ہیں۔ تردید ہو چکی ہے۔ شیعہ کبھی رسول اللہﷺ کے دشمنوں سے بیزاری نہیں کرتے۔ کیا شیعہ کی کسی بھی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ چلتے پھرتے یا نمازوں کے بعد یا کبھی بھی ان کفار و مشرکین سے تبّرا کرو اور لعنتوں کے ورد کرو جو رسولِ خداﷺ‏ سے جنگیں لڑتے رہے!

جب ہرگز اس کا ثبوت نہیں ہے بلکہ ان کا تبّرا اور لعنت بازی صرف ان مسلمانوں اور مؤمنوں پر ہے جو رسولِ خداﷺ‏ کے ساتھ ہو کر مشرکین و کفار سے جنگیں کرتے رہے تو شیعوں کے مسلم دشمن اور کافر دوست ہونے میں کیا شبہ رہا جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ توحید، شرک اور مخالفتِ رسول کے باب میں آج شیعوں کا 95 فیصد مذہب وہی ہے جو مشرکین کا تھا اور رسولِ خداﷺ‏ اسے مٹانے آئے تھے تو شیعوں کے حضرت رسولﷺ‏ سے اور تابعدارانِ رسولﷺ‏ سے بیزار ہونے اور جہنمی ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے۔

سوال نمبر 677: شیعوں کو کیا ان افراد سے ذاتی دشمنی ہے وہ بھی اپنے اجتہاد سے ان کو قرآن و سنت کا مخالف اور مؤذی خانوادۂ رسول جان کر دشمنی رکھتے ہیں؟

جواب: بالکل ذاتی دشمنی ہے جیسے ایک دنیوی سیاست باز اپنے حریف سے شکست کھا کر ان کی کردار کشی کرتا ہے اور پارٹی کے لوگوں کو دشمنی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے اعتقاد میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایسا کچھ بھی نہ کیا۔ مگر نادان شیعوں نے بالکل اسی طرح خلفاءِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے پیروکار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ سے دشمنی اور ان کی کردار کشی کا وطیرہ اپنایا ہوا ہے ورنہ کسی جمہوری ملک میں ایسی شریفانہ مثال نہ ملے گی کہ جیسے انتخاب کے وقت دس بیس حامی بھی نہ ملیں یا وہ عظیم جنگ لڑ کر اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو اس کے پیروکار سب قوم کی لعنت بازی، گالی گلوچ اور کردار کشی پر ایسے اتر آئیں کہ ان کو اپنے دین سے ہی خارج کر دیں۔ 

شیعہ نہ اہلِ اجتہاد ہیں نہ اپنی تاریخ سیاہ کے آئینہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اور خانوادۂ رسولﷺ‏ کی دفاعی نمائندگی کا حق رکھتے ہیں تفصیل کسی مقام پر آ جائے گی۔

سوال نمبر 678: مطاعنِ شیعہ کا جواب آپ یہ دیتے ہیں: 1: اصحابؓ کے معاملے میں نیک گمان رکھنا چاہیے۔ 2: اپنی کتب سے استدلال پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ طریقہ معقول ہے؟

جواب: دونوں طریقے معقول ہیں۔ نیک گمان رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے:

اجۡتَنِبُوۡا كَثِيۡرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ‌ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا (سورۃ الحجرات: آیت 12)

ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو بلاشبہ کئی بدگمانیاں گناہ ہیں اور کسی کے خفیہ عیب تلاش نہ کرو۔

جب شیعہ مذہب کا سارا لٹریچر، نوشت و خواند کا ایک ایک صفحہ، جملہ تاریخِ شیعہ کا دفتر سیاہ اور پوری قوم کا متواتر عمل اس حکمِ قرآنی کی مخالفت، بدظنی، الزام تراشی اور عیب گیری کا سٹاک ہے۔ آخر مطاعنِ شیعہ کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے؟

ناجائز اتہام و الزام سے صفائی دنیا کا ہر معقول انسان، اپنے گھر، اپنے عمل اور اپنی کتب سے پیش کیا کرتا ہے۔ ہاں دوسرے پر الزام اپنے عقیدہ اور کتب کی بناء پر لگانا غیر معقول ہے جو شیعہ دستور ہے۔

سوال نمبر 679: اہلِ بیتؓ کے فضائل کی احادیث آپ کے بقول شیعوں کی ہوتی ہیں لیکن مخالفین اہلِ بیتؓ کے مناقب جب شیعہ یہ کہہ کر تسلیم نہیں کرتے کہ یہ سُنّیوں کے ہیں تو آپ اودھم کیوں مچاتے ہیں؟

جواب: یہ نرا مغالطہ ہے۔ اہلِ سنت فضائل اہلِ بیتؓ کی جن روایات کو صحیح مستند اور ثقہ لوگوں سے مروی مانتے ہیں ان کو شیعہ کی کہہ کر کبھی رد نہیں کرتے بلکہ عقیدت سے پھیلاتے ہیں۔ لیکن شیعہ کتب اور لٹریچر میں اہلِ بیتؓ کے لیے بھی ابواب المناقب اور کتاب الفضائل ہے ہی نہیں کہ وہ باقاعدہ سند و روایات سے ثقات کی معرفت رسول اللہﷺ سے نقل کریں۔ لا محالہ وہ اہلِ سنت کی چوری کر کے گھر کے اخراجات چلاتے ہیں۔ اب اہلِ سنّت اس فطری اور معقول طریقہ سے ان کو پابند کرتے ہیں کہ جب سُنّی کتب کی ان سندوں سے فضائلِ اہلِ بیتؓ کی احادیثِ نبوی مسلّم ہیں تو پھر انہی کتب اور سندوں سے فضائلِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشاداتِ نبویﷺ‏ کیوں تسلیم نہیں؟ آخر بغضِ اصحابؓ کے سوا اور کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ پھر اہلِ سنّت شیعہ کتب سے احادیث اہلِ بیتؓ سے در مناقبِ اصحاب کرام رضی اللہ عنہم پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں سے متحد ہو جانے کی درخواست کرتے ہیں مگر وہ بالکل نہیں مانتے تو شتر مُرغ کی اس مثال پر ہم اودھم نہ مچائیں تو کیا کریں؟

سوال نمبر 680: جب غیر مسلم کہتے ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا تو آپ اس کی تردید کرتے ہیں لیکن سلاطین اسلام کی توسیع پسندی کو سنہری فتوحات کہہ کر نشر کرتے ہیں۔ یہ دو رُخی کیوں؟

صفحہ 4 از 13