سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 13

یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ اپنے اںٔمہ کی تعلیمات کے برخلاف اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوتے جاگتے ہر لمحہ خدا کے ذکر کے بجائے حضور اکرمﷺ‏ کے پاک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے اور ناشرینِ قرآن، خلفاءِ راشدینؓ پر تبّرے اور لعنتوں کے وظیفے پڑھتے ہیں۔ ہمیں ایسے ملعون اور تبّرا و لعنت پر مشتمل خطوط ملتے رہتے ہیں اور مشتاق رافضی نے اس رسالہ میں 100، 100 اعتراضات و مطاعن، قرآن کریم، سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ پر لکھ کر اپنے تبّرا باز اور ساب و شاتم ہونے کا ننگا ثبوت دیا ہے۔ یہاں اصولِ اربعہ کے حوالہ کی کیا ضرورت ہے گو سنی مذہب سچا ہے صفحہ 36، 37 کے مناظرہ میں ایسی روایتیں ہم روضہ کافی، فروعِ کافی وغیرہ سے لکھ چکے ہیں مگر ہم یہاں یہ کہتے ہیں کہ شیعوں نے اسلام دشمنی اور بغضِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبہ سے یہ روایتیں گھڑ کر اپنے اماموں کو بدنام کیا ہے ورنہ ان کی اصل تعلیم، تبّرے اور لعنتوں، گالیوں کی نہیں ہے۔ بطورِ نمونہ صرف ایک روایت اصولِ کافی باب الطاعة والتقوىٰ صفحہ 73، 74 سے ملاحظہ فرمائیں: امام باقرؒ فرماتے ہیں: اے جابر! کیا شیعہ ہونے کے دعویدار کو یہ کافی ہے کہ وہ کہے میں اہلِ بیتؓ کا حب دار دار ہوں۔ اللہ کی قسم! ہمارا شیعہ (تابعدار) تو وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور خدا کی فرماں برداری کرے۔ اے جابر! شیعوں کی پہچان تو عاجزی، خدا سے ڈر، امانت، خدا کے ذکر کی کثرت، روزہ، نماز، والدین سے نیکی کی کثرت، پڑوسیوں کی خبر گیری، فقیروں، مسکینوں، مقروضوں، یتیموں کی دیکھ بھال، سچ بولنے، قرآن پاک کی تلاوت اور بھلائی کے سوا لوگوں سے زبان بند رکھنے سے ہوتی تھی اور وہ ہر بات میں اپنے قبیلوں کے امین ہوتے تھے۔ جابر نے کہا: اے رسول اللہﷺ کے بیٹے! میں آج (آپ کے شیعوں سے) کسی کو ان صفات والا نہیں پاتا تو امام نے فرمایا اے جابر! تجھے مذہب دھوکہ نہ دے کہ آدمی اپنے خیال سے یوں کہتا پھرے میں تو سیدنا علی المرتضیٰؓ سے محبت کرتا اور دوستی رکھتا ہوں پھر اس کے بعد عمل کرنے والا نہ ہو۔ اگر کہے کہ میں رسول اللہﷺ سے محبت رکھتا ہوں حالانکہ رسول اللہﷺ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بہت افضل ہیں۔ پھر وہ نہ آپﷺ‏ کی سیرت پر چلے نہ سنت پر عمل کرے۔ (کہ اہلِ سنّت ہونا گناہ جانے) تو اسے رسول اللہﷺ کی محبت بھی کچھ نفع نہ دے گی۔ پس اللہ سے ڈرو اور خدا کی تعلیمات کے مطابق عمل کرو۔ خدا کے ساتھ کسی کی رشتہ داری نہیں ہے، خدائے تعالیٰ کو سب بندوں سے وہ پیارا اور معزز ہے جو سب سے بڑا پرہیزگار اور عامل و فرماں بردار ہو۔ اے جابرؒ! اللہ کا قرب صرف فرماں برداری سے ہوتا ہے۔ ہمارے پاس دوزخ سے برأت کا ٹکٹ نہیں ہے اور نہ اللہ کے سامنے کسی کی حجت (ہمارے شیعہ کہلانے سے) چلے گی۔ جو اللہ کا فرماں بردار ہو وہی ہمارا دوست ہے اور جو اللہ کا نافرمان ہو وہی ہمارا دشمن ہے۔ ہماری دوستی صرف عمل اور تابعداری سے ہوتی ہے۔

عرض مؤلف روایت کو غور سے بار بار پڑھیے کیا اس میں مذہب شیعہ کی ایک بات بھی امام نے بتائی۔ کیا تبّرا اور سّب وشتم کو بھی ایمان، عمل اور تقویٰ کا جزو بتایا؟ کیا آج کسی شیعہ میں یہ عادات پائی جاتی ہیں۔ روایت میں جب صراحت ہے کہ امام باقر رحمۃ اللہ کے زمانہ میں بھی ایسا شیعہ ایک نہ تھا تو آج کیسے ہو سکتا ہے؟ یہیں سے ہم کہتے ہیں کہ شیعہ کا موجودہ مذہب ہرگز ائمہ اہلِ بیتؓ کا تعلیم کردہ نہیں ہے یہ صرف فاسق و متعہ بار ذاکروں اور دنیا پرست مجتہدوں کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ وہ آلِ رسول کے دوست و دشمن بتلانے کے گھمنڈ میں، تفریق بین المسلمین کا ناپاک شغل اپنائے ہوئے ہیں حالانکہ امام کے فتویٰ میں وہ خود دشمنِ اہلِ بیتؓ ہیں۔ کیونکہ باقرارِ خود خدا و امام کی تعلیم پر عمل سے عاری اور محروم ہیں اور ان کو ہی امام نے اپنا دشمن کیا ہے۔

سوال نمبر 668: جب مذہب میں یہ فعل مذموم ہے تو لغو اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ 

جواب: اپنے مذہب کے خلاف آپ کے کرتوتوں پر سچا اعتراض کیا جاتا ہے۔

سوال نمبر 669: کیا لعنت گالی ہوتی ہے؟ کسی سُنّی مفتی کا فتویٰ درکار ہے۔ 

جواب: اہلِ سنت کے مفتیوں کے مفتی امام باقرؒ کا فتویٰ یہی ہے۔ اصولِ کافی کے باب السباب میں لعنت کرنے والی احادیث اس کا ثبوت ہیں۔ سوال نمبر 665 کا جواب پھر دیکھ لیں۔

سوال نمبر 670: آپ فاسق و فاجر پر لعنت کرنا جائز نہیں کہتے۔ قرآن میں کاذبین پر لعنت کیوں ہوئی؟

جواب: قرآن مجید میں جن چند مقامات پر کاذبین، ظالمین اور کافرین و مشرکین پر ہوئی وہ سب مجموعہ کافروں پر ہی ہے۔ نہ لعنت شخصی ہے اور نہ مسلمان گنہگاروں پر ہے۔ جن پر اہلِ سنّت لعنت نہیں کرتے اور دلیل وہی حدیثیں ہیں جو سُنّی و شیعہ میں مشہور ہیں کہ لعنت کو اپنا مقام نہ ملے تو لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے یعنی وہ ملعون یا کافر بن جاتا ہے۔

سوال نمبر 671: اگر لعنت گالی ہے تو یہ گالیاں اللہ تعالیٰ نے کیوں دیں؟

جواب: لعنت کا درجہ گالی سے بڑا ہے اور یہ لعنت کفار پر ہے۔ جسے ہم درست کہتے ہیں اور مسلمان گنہگاروں کو تو گالی دینا بھی جائز نہیں۔

سوال نمبر 672: کیا سیدنا امیرِ معاویہؓ کو سُنّی شیخینؓ سے زیادہ قوی و امین مانتے ہیں؟ 

جواب: مطلقاً نہیں، کسی جزںٔی میں تفاوت جدا بات ہے۔

سوال نمبر 673: پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ اور تاریخی حقائق میں یہ روایت کیوں ہے کہ شیخینؓ ایک مسئلہ میں مشورہ نہ دے سکے تو آپﷺ‏ نے فرمایا: حضرت امیرِ معاویہؓ کو بلاؤ معاملہ سامنے رکھو وہ قوی ہیں اور امین ہیں۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

صفحہ 3 از 13