سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 13

3: نیز دارِ قطنی نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے روایت کی ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا میرے بعد ایک قوم آئے گی جن کا برا لقب رافضی ہو گا تو اگر انہیں پائے تو ان کو قتل کرنا۔ کیونکہ وہ مشرک ہوں گے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہﷺ‏! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ فرمایا تیری تعریف ان اوصاف سے کریں گے جو تجھ میں نہ ہوں گے اور گزشتہ نیک لوگوں (صحابہ رسول و تابعین) کی بدگوئی کریں گے۔ (صواعق محرقہ: صفحہ، 5)

4: نیز حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کو گالی دی اسے قتل کرو اور جس نے میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو گالی دی اسے کوڑے لگاؤ۔ (اخرجہ التمام فی فوائده ریاض النضره: جلد، 1 صفحہ 22)

5: اور یہی روایت شیعہ کی جامع الاخبار لابن بابویہ صفحہ 138 مطبوعہ اسلام آباد میں بھی ہے۔

سوال نمبر 663: تبرّا کے معنیٰ بیان کر دیجئے۔

جواب: لغوی معنیٰ بتکلف کسی سے بیزار ہونا اور نفرت کرنا ہے۔ اصطلاحی یہ ہے کہ ایک شیعہ مذہب والا خدا کی توحید سے، حضور اکرمﷺ‏ کی ہادیت، سنت اور خاتم المعصومیت سے۔ از الحمد تا والناس قرآن شریف سے، چار اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے، بناتِ نبویﷺ‏ اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے، ان کی بدگوئی اور انکار میں اور لعنت و مذمت کرنے میں خوشی محسوس کرے۔

سوال نمبر 664: سبِّ وشتم کا مطلب واضح فرمائیے۔

جواب: سبّ کا لغوی معنیٰ گالی دینا ہے اور شتم کا معنیٰ عار اور عیب کی کسی کی طرف نسبت کرنا اور بے عزتی کرنا ہیں۔ (مصباح اللغات) علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں جب اصل لغت میں کسی اسم کی خاص تعریف نہ ہو اور نہ شریعیت میں مخصوص معنیٰ اور تعریف ہو تو اس کی تعریف و تعیین میں عرفِ عام کا اعتبار ہو گا۔

پس اہلِ عرف اور عوام الناس جس لفظ کو گالی تنقیصِ شان، عیب گیری اور اعتراض میں شمار کرتے ہیں تو ایسا لفظ سبّ میں داخل ہو گا۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول)

سوال نمبر 665: کیا اسلامی شریعت میں عام آدمی پر سبّ وشتم جائز ہے؟

جواب: نہیں مشرکین کے بتوں، معبودوں تک کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے۔

اہلِ سنت کی حدیثِ نبوی ہے: سباب المومن فسوق و قتاله کفر

ترجمہ: مومن کو گالی دینا بڑا گناہ ہے اور اس سے (بلا ضرورتِ شرعی) جنگ کرنا (گویا) کفر ہے۔

شیعہ کی اصولِ کافی جلد 2 صفحہ 359، 360 باب السباب میں امام باقرؒ کی احادیث ملاحظہ ہوں: 

1: کوئی شخص کسی دوسرے پر کفر کی شہادت نہیں دیتا۔ مگر ایک کافر بن ہی جاتا ہے۔ اگر کافر پر شہادت دی تھی تو سچ ہوئی اور اگر مومن مسلمان پر دی تھی تو کہنے والا کافر ہو گا پس تم مسلمانوں پر طعن کرنے سے ضرور بچو۔

2: لعنت جب کسی کے منہ سے نکلتی ہے تو پھرتی ہے اگر لعنت کیا ہوا اہل ہو تو ٹھیک ورنہ لعنت کرنے والے پر آ پڑتی ہے۔

3: کوئی آدمی کسی مسلمان پر طعن نہیں کرتا مگر وہ بری موت مرتا ہے وہ اس لائق ہے کہ بھلائی کی طرف نہ لوٹے۔ (یعنی توبہ کی توفیق اسے نصیب نہیں ہوتی۔)

سوال نمبر 666: اگر تبّرا اور سبّ وشتم ایک ہی چیز ہے تو پھر اہلِ سنت اپنے چھٹے کلمہ ردِّ کفر میں یہ ارتکاب کیوں کرتے ہیں؟

جواب: ہمارے ہاں لغوی معنوں میں استعمال ہوتا ہے: یعنی ایک مسلمان شخص کہتا ہے: اے اللہ! میں کفر سے شرک سے، جھوٹ سے، غیبت سے، چغلی سے، بہتان سے اور تمام گناہوں سے بیزاری اور نفرت رکھتا ہوں اور فرماں بردار ہو کر کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی خدائی حقوق کے لائق اور اس کی صفتوں والا نہیں۔ حضرت محمدﷺ‏ اللہ کے رسول ہیں۔ اور شیعہ کا تبّرا اصطلاحی ہے کہ وہ مذکورہ باتوں سے تبّرا ہرگز نہیں کرتا۔ یہ تو اس کے شیعہ ہونے کی اصل نشانی ہیں۔ اس کا تبّرا سوال نمبر 663 میں ذکر کردہ اشیاء سے ہے۔ حوالہ کی حاجت اس لیے نہیں کہ ہر شیعہ زبان سے ان کا برملا اقرار کرتا ہے۔ جس کا جی چاہے کسی اثناء عشری سے قسم دلا کر پوچھ لے۔

سوال نمبر 667: آپ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر سبّ وشتم نہ کیا۔ مگر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان پر کیا اور شیعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے تابعدار ہیں۔ سبّ وشتم کرتے ہیں۔ اہلِ سنت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہیں۔ کتبِ اربعہ شیعہ سے ثابت کریں کہ مذہبِ شیعہ میں گالی بکنا جائز ہے؟

جواب: یہ ہمارا الزامی جواب ہے جو شیعہ کے عقیدہ کے مطابق ہوتا ہے۔ ورنہ اہلِ سنّت کے ہاں فریقین کا ایک دوسرے کو گالی دینا ثابت ہی نہیں۔ طبری جلد 5 صفحہ 71 پر فریقین کا ایک دوسرے پر قنوت پڑھنا لکھا ہے۔ وہ ابو مخنف رافضی اور ابو جناب کلبی رافضی سے مروی ہے۔ دونوں مشہور کذاب دشمنانِ صحابہ ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ناپاک اتہامات لگاتے رہتے ہیں۔

صفحہ 2 از 13