سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 13 از 13

جواب: یہ نام فی نفسہٖ بھی محبوب ہے اور ذات کے لحاظ سے بھی۔ دوست اور دشمن ہر کوئی رکھتا ہے اور صرف نام و نسبت پر فضیلت یا نجات کے (شیعہ عقیدہ کے مطابق) ہم قائل نہیں شکر ہے کہ ایک کٹر شیعہ اور فرزند شیعہ کو آپ نے قاتلِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مان لیا۔ اپنی کتابیں غور سے دیکھیے۔

سوال نمبر 733: اگر آپ کا مفروضہ مان لیا جائے تو خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم نے اپنے اولادوں کے نام اہلِ بیتؓ کے اسماء پر کیوں نہ رکھے کیا ان کو اہلِ بیتؓ سے محبت نہ تھی؟

جواب: پچھلا عقیدت مند پہلے محبوب بزرگ کا نام رکھتا ہے پچھلے (حضرت حسین و حضرت علی رضی اللہ عنہما) جب پہلوں کی اولاد ہوتے وقت یا پیدا نہ ہوئے تھے یا شہرت و بزرگی کو نہ پہنچے تھے تو کوئی کیسے ان کا نام رکھتا۔

مع ہٰذا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک بیٹے کا نام محمد اور بیٹی کا نام کلثوم اسی عقیدت سے رکھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی تین بیٹیوں رقیہ، فاطمہ، زینب کے نام آنحضورﷺ‏ کی بیٹیوں کے نام پر رکھے۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے حضرت عبداللہ اصغر بن سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ اور عبداللہ اکبر حضور اکرمﷺ‏ کے بیٹوں کے نام پر رکھے گئے اور مریم نام کی دو بیٹیوں اور عائشہ کے نام مسمیات سے عقیدہ کی بناء پر رکھے گئے۔ (یہ تفصیل ریاض النضرہ از محب الطبری سے لی گئی۔)

سوال نمبر 734: کیا ائمہ کا اپنی اولاد کا یہ نام رکھنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ شیعوں کو ان ناموں سے کدورت نہیں بلکہ ان کے افعال و مسمیات سے ہے آپ پھر کیوں کہتے ہیں کہ شیعہ ثلاثہ کا نام سننا گوارہ نہیں کرتے؟

جواب: خلفاء ثلاثہؓ کے نام اہلِ بیتؓ ائمہ نے رکھے جو ان کے عقیدت مند تھے شیعوں نے اپنی اولاد کے کبھی یہ نام نہ رکھے، کیونکہ وہ ان کے دشمن اور مذہبِ ائمہ کے مخالف ہیں۔ اپنی 12 صدیوں کی تاریخ میں 12 ایسے شیعہ بتائیں جنہوں نے یہ نام رکھے۔ اگر شیعہ واقعی اہلِ بیتؓ کے محب اور ان کے مذہب پر ہیں تو اولاد کے نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھیں۔ سنی شیعہ اتحاد کا نسخہ اکثیر ہے۔

سوال نمبر 735: روضہ کافی میں ایک واقعہ کی بنیاد پر آپ کہتے ہیں کہ سیدنا زین العابدینؒ نے یزید کی بیعت کر لی۔ کیا آپ کسی معتبر تاریخ سنی و شیعہ سے ثابت کر سکتے ہیں کہ یزید مدینہ میں آیا

جواب: بیعت کے لیے ضروری نہیں کہ یزید مدینہ آئے تب ہو۔ دمشق میں یا بواسطہ نائب مدینے میں ہو سکتی ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے (سابقاً مذکور) فرمان پر ایمان لائیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے سوائے مہدی کے اپنے وقت کے خلیفہ کی بیعت کی ہے۔ (جلاء العیون) دراصل یہ بات خط و کتابت سے طے ہو گئی تھی۔ تاریخِ طبری جلد 5 صفحہ 484 پر ہے:

کہ یزید نے مسلم بن عقبہ کو مدینہ بھیجتے وقت یہ وصیت کی تھی: 

سیدنا علی بن حسینؓ کا خیال رکھنا اس سے جنگ نہ کرنا اس سے بہترین سلوک کرنا اور اپنی مجلس کے قریب بٹھانا۔ اس لیے کہ اس نے بغاوت میں کچھ حصہ نہیں لیا۔ جس میں دوسرے لوگ داخل ہو گئے میرے پاس اس کا اطاعت نامہ آیا ہے۔ حضرت زین العابدینؒ کو یہ پتہ نہ تھا کہ یزید نے مسلم کو خاص وصیت کر کے بھیجا ہے۔ جب بنو امیہ شام کی طرف نکلنے لگے تو حضرت زین العابدینؒ کو مروان نے اپنا سامان حفاظت کے لیے دیا تھا اور اس کی بیوی عائشہ بنتِ سیدنا عثمان بن عفانؓ کے ساتھ آپ گاؤں چلے گئے اور اس کے بچے اپنی سواری پر اٹھا لے کر مدینہ سے اس لیے چلے گئے کہ اس بغاوت میں شرکت کو ناپسند کیا۔ (طبری: جلد، 5 صفحہ، 685)

روضہ کافی صفحہ 234 (جہاں بقول مشتاق بیعت یزید کرنا مرقوم ہے) محشی نے لکھا ہے:

یہ عجیب بات ہے کیونکہ سیرت نگاروں کے ہاں مشہور یہ ہے کہ خلافت کے بعد یہ ملعون مدینہ نہیں آیا بلکہ شام سے ہی نکلا یہاں تک کہ مر کر دوزخ میں داخل ہوا۔ شاید یہ واقعہ اس ملعون کے والی مسلم بن عقبہ کے ساتھ پیش آیا جسے یزید نے اہلِ مدینہ کے ساتھ جنگ کے لیے بھیجا تھا اور واقعہ حرہ پیش آیا اور بلاشبہ یہ بات منقول ہے کہ حضرت علی بن حسینؓ اور مسلم بن عقبہ کے مابین اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تو بعض راویوں پر مشتبہ ہو گیا۔ (کہ مسلم کے بجائے یزید کا نام لکھ دیا) انتہیٰ۔

راقم الحروف مہر محمد عرض گزار ہے کہ یہ بات قرین قیاس ہے اور طبری جلد 5 صفحہ 493 پر واقعہ یوں لکھا ہے کہ جب حضرت علی بن حسینؓ مسلم کے پاس آئے تو اس نے اٹھ کر مرحباً و اھلاً خوش آمدید کہی پھر اپنے تخت اور قالین پر بٹھایا اور کہنے لگا۔ امیر المؤمنین نے پہلے سے مجھے آپ کے متعلق وصیت کی ہے اور کہا ہے کہ ان (باغی) خبیثوں نے مجھے الجھا کر تیری دلداری اور صلہ رحمی سے روکا ہے پھر کہنے لگا شاید تمہارے اہلِ خانہ گھبرا گئے ہوں۔ زین العابدینؒ نے کہا جی ہاں خدا کی قسم پھر سواری منگوائی اور زین ڈال کر سوار کرایا اور گھر بھیج دیا۔

اطاعتِ یزید اور بغاوت سے کنارہ کشی تو آپ پہلے سے کیے ہوئے تھے۔ مسلم نے اس ملاقات میں عزت و احترام سے سب باتوں کی تصدیق کی۔ بقولِ مسعودی قدموں پر گرا مرعوب ہو کر معذرت کی۔ مروان وغیرہ بنو امیہ کی مدد کر کے عملاً اس کا ثبوت دیا۔ بس اسی چیز کو شیعہ راویوں نے جل کر واقعہ مسخ کر کے یزید یا ولید کا حضرت زین العابدینؒ کو ڈرانا اور یزید کا خود کو غلام مجبور کہنا چاہے بیچو، چاہے رکھو کا اختیار دینا نقل کر دیا ہے تو روضہ کافی کا یہ واقعہ بیعتِ اصل کے لحاظ سے سچا ہے۔ الفاظ اور ادائیگی میں بغض و عناد سے مسخ شدہ ہے۔



صفحہ 13 از 13