سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 12 از 13

جواب: جب کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہے اور سب ایمانیات کا اقرار کر لیتا ہے اور سابق کفریہ مذہب و عقائد سے توبہ کر لیتا ہے تو مسلم ہو جاتا ہے۔ اسلام اس کی جان و مال اور عزت کا محافظ ہے اور جو شخص چوری، زنا، قتل وغیرہ کا ارتکاب کرے تو اس فعل سے فاسق ہو جاتا ہے کافر نہیں ہوتا۔ الا یہ کہ گناہ جائز سمجھ لے۔ پھر شرعی حد قصاص وغیرہ کی سزا دنیا میں باقاعدہ پا لے تو آخرت میں پاک و بری سمجھا جائے گا۔ اب رہا وہ شخص جو ظاہراً سب ایمانیات کا اقرار کرے مگر دل سے کسی بات کو سچا نہ سمجھے وہ منافق ہوتا ہے۔ ایسا شخص اقرار میں بھی کسی چیز کا انکار کر دے یا کفریہ عقیدہ ساتھ ملا لے تو مرتد اور کافر سمجھا جائے گا۔ جیسے منکرینِ زکوٰۃ اور متنبی کذاب کو مرتد قرار دے کر جنگ کی گئی۔ شیعہ گروہ کو کہتے ہیں۔ عہدِ اول میں شیعہ سیدنا عثمانؓ، شیعہ سیدنا علیؓ، شیعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ تین گروہ تھے۔ سب کو کافر نہیں کہا گیا بلکہ سب سے پہلے شیعانِ حضرت علیؓ کی اس سبائی غالی گروہ کو حضرت علی المرتضیٰؓ نے کافر و مرتد قرار دے کر آگ میں جلایا جو آپؓ کو رب، مشکل کشا، خدائی صفات والا کہنے لگے۔ پھر وہ جو قرآن کے منکر بنے دنیا میں موجود قرآن کو بدلا ہوا اور کفر کے ستونوں سے بھرا ہوا ماننا اور اصلی قرآن کے متعلق یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ وہ تو اماموں نے صرف اپنے پاس چھپا رکھا تھا اور اب مہدی رحمۃ اللہ کے پاس غار میں ہے۔ 

جو لوگ چار پانچ افراد کے سوا تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مرتد یا منافق کہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایمانی صحابیت کا انکار کریں۔ نصوص اور اجماع برحق سے ثابت خلافتوں کا انکار کریں۔ ان کا بھی یہی حکم ہے۔ جو اپنے 12 اماموں کو رسولوں سے افضل اور حضور اکرمﷺ‏ کے برابر درجہ میں مانیں اور ان کو معصوم مفترض الطاعة صاحبِ وحی و کلمہ کہیں اور ان سے اختلاف رکھنے والے کو کافر کہیں۔ وہ چونکہ ختمِ نبوت کی حقیقت کا انکار کرتے ہیں یا شرک فی الرسالت کرتے ہیں لہٰذا وہ بھی کفر سے بچ نہیں سکتے۔

یزید سے ان کفریات کا صدور نہیں ہوا قاتلانِ حضرت حسینؓ قاتلانِ حضرت عثمانؓ میں سے مفاد پرست لوگ تھے۔ لہٰذا ہم ان کے دین و ایمان کی گواہی نہیں دیتے۔

اب کچھ شیعوں کو ماضی میں کافر کہا گیا یا مسلمانوں پر چڑھائی کے ردِّعمل میں ان کا کہیں قتل ہوا تو اس کی وجوہ ظاہر تھیں ورنہ مطلقاً شیعوں کو نہ ہم کافر کہتے ہیں نہ قتل کرتے ہیں۔

سوال نمبر 726: کیا کوئی شیعہ اہلِ بیتؓ منکر کلمہ ثابت ہے؟

جواب: لفظوں کا تو منکر نہیں جیسے مرزائی نبوت محمدیہ کا منکر نہیں۔ کسی عہدہ میں برابر کا اضافہ اور شرک بھی کفر ہوتا ہے جیسے مرزائی مرزا کو نبی ماننے سے کافر ہو گئے اس طرح امام کا کلمہ بنا لینے سے شیعہ نے شرک فی الکلمہ کا جرم کیا اور مسلمان نہ رہے۔

سوال نمبر 727، 728: خلافت کو یا اصولِ دین سے مانیں یا ہم سے جھگڑا چھوڑیں

جواب: ان دو سوالوں کا جواب ہم سنی کیوں ہیں سوال نمبر 35 میں دیکھیے۔ خلافت کو بالکل توحید رسالت کی طرح اصولی سمجھنا ہی شرک فی النبوت اور جھگڑے کا باعث ہے۔ فروعی مانیں تو سنی شیعہ نزاع ختم ہو جاتا ہے۔

سوال نمبر 729: اگر پیر جیلانی کے اعتقاد میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے سُم کا غبار باعثِ نجات ہے تو خاکِ کربلا کے احترام پر شیعہ پر کیوں اعتراض کرتے ہو؟

جواب: اس گھوڑے پر جہاد فی سبیل اللہ ہوا اور کوئی کافر نہ چڑھا تب یہ فضیلت ہوئی۔ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے غبار کے متعلق آپ بھی ایسا کہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن صدیوں بعد آپ نے ایک جگہ سے مٹی کریدنی شروع کی اور اس کی ٹکیاں بنا کر (بتوں کی طرح) پوجنی شروع کر دیں۔ حالانکہ یہ کوئی یقین نہیں کہ یہیں سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا گھوڑا گزرا تھا اور دشمنوں کے گھوڑے نہ گزرے یا ان کا پلید خون اس مٹی میں جذب نہیں ہوا۔ اہلِ بیتؓ تو شہید یا اسیر تھے۔ دشمنوں میں سے کس عقیدت مند نے اس جگہ کو محفوظ و معین اور متبرک بنا لیا تھا؟ جب محض وہم ہی وہم ہے تو اسے یقینی سمجھنا اور شرک و بدعت کا کاروبار چمکانا قابلِ اعتراض ہے۔

سوال نمبر 730: جب خلیفہ راشد کے دشمن کی شان ایسی ہے تو دوسرے خلفاء کے دشمنوں پر طعنہ زنی کیوں کر درست ہو گی؟

جواب: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور تہمت سے برأت ہو چکی۔ شیعہ دشمنی خلفاء کا اقرار کرتے ہیں تو ہر مقر گرفتار ہو کر اپنی سزا پاتا ہے۔ لہٰذا ہم خلفائے راشدینؓ کے دشمنوں کو مطعون و ملعون جانتے ہیں۔

سوال نمبر 731: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلفاء ثلاثہؓ کے نام جو بیٹوں کے نام رکھے ان سے خلفاء کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی جیسے آپ کے ایک بیٹے کا نام حضرت عبدالرحمٰنؓ تھا اسی طرح حضرت حسنؓ اور سیدنا زین العابدینؒ نے عبدالرحمٰن نام رکھا کیا ان کو قاتلِ امیر المؤمنین سے محبت تھی؟

جواب: نام دو اعتبار سے رکھا جاتا ہے۔ 

1: فی نفسہٖ نام کا مفہوم و استعمال اچھا ہو، اور شرعاً رکھنے کا حکم بھی ہو جیسے عبداللہ، عبدالرحمٰن وغیرہ۔ یہ بالفرض کسی دشمن کے بھی نام ہوں یہ اپنے معنوی مفہوم و فضیلت کے لحاظ سے رکھے جائیں گے۔

2: نام کے الفاظ میں تو خاص مدح و ذم نہ ہو مگر اپنے کسی بزرگ و محبوب کا وہ مشہور نام ہو تو یہ نام بزرگ کی عقیدت و محبت ظاہر کرنے کے لیے رکھا جائے گا۔ اب حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ حضرت عثمان غنیؓ کے جو نام حضرت علی المرتضیٰؓ نے یا حضرت حسینؓ نے اپنی اولادوں کے رکھے وہ ان کے پہلے مسمیّٰ سے عقیدت کی وجہ سے رکھے۔ ورنہ نام میں نفسہٖ لفظی حسن نہ ہو۔ شرح نے بھی مستحب نہ بنایا ہو اور ہو بھی دشمنوں کے خاص نام تو اسے کون رکھ سکتا ہے؟ شیعوں کے ہاں عبدالرحمٰن، شمر، ابوبکر، عمر اور عثمان کا نام آج بھی نہیں رکھا جاتا کیونکہ یہ دشمنوں کے نام ہیں۔ معلوم ہوا کہ اہلِ بیتؓ کے ہاں سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم محترم تھے تبھی ان کے نام رکھے۔

سوال نمبر 732: محمد نام کائنات کا بہترین نام ہے جبکہ قاتلِ حضرت حسینؓ و اہلِ بیت محمد بن اشعث کا یہ نام تھا۔ تو کیا اس کی فضیلت کا سبب ہے؟

صفحہ 12 از 13