سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 13

سوال نمبر 719: اتحاد قائم کرنے اور اختلافات دور کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی حل ممکن ہے کہ شیعہ و سنی مشترکہ خلیفہ کو مرکز ہدایت مان کر سارے جھگڑے ختم کر دیں؟

جواب: اتحاد کا معقول طریقہ تو ہم بتا چکے ہیں کہ اس میں مدعی اسلام ہر فریق کو اپنا اپنا حق مل جاتا ہے لیکن اگر آپ اپنی ضد پر اڑے ہیں تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا قانون نافذ کرائیے اور ایک تابعی کے نام سے فقہ جعفری نافذ کرانے کا مطالبہ واپس لیجیے۔ یہ خیال غلط کر دکھائیے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے دورِ حکومت میں تقیہ کیا تھا اور حق چھپا کر باطل کی حکومت چلائی اور اس کی سرپرستی کی پھر اپنے سب مذہب کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ ظاہرہ باہرہ کی کسوٹی پر پرکھیے جو مطابق ہو نافذ کرائیے جو ناجائز اور بدعت و اضافہ ہو اسے چھوڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کیجیے کیونکہ آپ کے بقول سیدنا علیؓ کے دستخط کے بغیر کوئی مسئلہ ہدایت والا نہیں بن سکتا۔ کیا عہدِ مرتضوی میں امام باڑے تھے؟ ذوالجناح اور ماتمی جلوس نکلتے تھے؟ کھلے ہاتھ نماز پڑھی جاتی تھی؟ زکوٰۃ و عشر کا نظام شیعوں کے لیے الگ تھا؟ سیدنا جعفر طیارؒ مظلوم کا تعزیہ یا حضور اکرمﷺ‏ کی قبر مبارک کی تشبیہہ پوجی جاتی تھی۔ اس پر ماتم ہوتا تھا؟ سیاہ لباس اور مکانوں پر کالے جھنڈے لگے ہوتے تھے؟ اور علی ولی اللہ والی اذان اور کلمہ پڑھا جاتا تھا؟ مرثیہ خواں ذاکروں کا ٹولہ ہوتا تھا؟ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم پر تبّرا ہوتا تھا؟ یا علی مدد کا نعرہ لگتا تھا؟ شہداء کے یومِ شادت منائے جاتے تھے؟ متعہ شریف چالو تھا؟ اگر ایسا کچھ بالکل نہ تھا نہ دنیا کی کسی کتاب میں ثبوت مل سکتا ہے تو ان امور سے توبہ کیجیے کہ یہ دین نہیں ہے۔ ورنہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور آپؓ کے پیروکار اور اہلِ بیتؓ اس دین سے محروم نہ ہوتے اور یہی امور ملتِ اسلامیہ میں باعثِ افتراق ہیں۔ ان کا چھوڑنا ہی سنی و شیعہ کو ایک مسلم قوم بنا دے گا۔

اب ذرا ان امور کو خلافتِ مرتضویؓ میں تلاش کیجیے جن کا اپنانا آپ بڑی مصیبت اور انکار کرنا اپنا مذہب جانتے ہیں کہا عہدِ مرتضویؓ میں بیس تراویح نہیں پڑھی جاتی تھی؟ کیا قاضی خلفاءِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے طریقوں پر فیصلہ نہ کرتے تھے؟ کیا از الحمد سے والناس تک قرآن نہیں یاد کیا جاتا تھا؟ کیا خلفاءِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی کھلے بندوں تعریف اور تفضیل نہ ہوتی تھی؟ کیا خطبات نہج البلاغہ اس پر گواہ نہیں؟ کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حضرت علیؓ نے مصالحت کر کے باعزت مدینہ روانہ نہ کیا تھا؟ کیا اہلِ شام و سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے برابر ایمانیات رکھنے والا مؤمن بھائی نہ کہا تھا؟ کیا آخر حکومت میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خود مختاری تسلیم کر کے وصولی محاصل کی اجازت نہ دے دی تھی؟ (طبری) کیا یہ فرما کر حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکومت کو جائز نہ کر دیا؟

لا تكرهوا امارة معاويه فوالله لو انكم فقد تموه رءيتم الرؤس تندرٔعن کو اھلھا کانما الحنظل (البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 131 وتاریخ الحلفاء)

ترجمہ: لوگو تم سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت کو ناپسند نہ کرو باخدا اگر تم نے ان کو گم کر دیا تو دیکھو گے کہ سر اپنے کندھوں سے حنظل کی طرح کٹ کٹ کر گریں گے۔

کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ باندھ کر نماز نہ پڑھتے تھے اور کیا کافر کو مسلمان کرتے وقت کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ ہی نہ پڑھاتے تھے؟ کیا سیدنا علیؓ کو مشکل کشا، حاجت روا، رب و پروردگار کہنے والے سبائیوں کو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے زندہ نہ جلا دیا تھا؟ کیا جمل و صفین کے موقع پر قاتلانِ سیدنا عثمانؓ پر پھٹکار نہیں کی تھی؟ کیا آپؓ طرفین کے شہداء جمل اور صفین کاجنازہ نہ پڑھتے تھے اور ان کو شہید نہیں کہتے تھے؟ کیا اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بدگوئی کرنے والے دو شخصوں کو 100، 100 درّے نہ لگائے؟ کیا یہ نہ فرمایا تھا جو مجھے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے افضل کہے گا میں اسے جھوٹے کی سزا درّے ماروں گا؟ کیا خلفاءِ ثلاثہؓ کے پیچھے نمازیں نہ پڑھی تھیں؟ کیا ان کے مشیر ہفتی اور قاضی و جلاد نہ تھے؟ کیا ان سے تنخواہ نہ لیتے تھے؟ اگر یہ سب باتیں حقیقت ہیں اور کتبِ شیعہ، تاریخ و سیرت سے یقیناً ثابت ہیں تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کے شیعہ اور تابعدار ہونے کا ثبوت دیجیے، خود ان باتوں کو اپنائیے حکومت سے قانونِ مرتضوی پاس کرائیے۔مسلمانوں کے ساتھ بصورت تقیہ ہی سہی گھل مل کر رہیے۔ خدا آپ کو سنی مسلمانوں کے ساتھ متحد کر دے۔ آمین

سوال نمبر 720 تا 724: حدیث سفینہ مثل اہل بیتی کسفینۃ نوح من رکبھا نجا ومن لم یرکبھا ھلک سے متعلق ہے اور یہ کمزور یا موضوع ہے لہٰذا سوالات ختم ہو گئے تفصیل یہ ہے کہ روایات مستدرک کی ہے۔ اس کا ایک راوی مفصل بن صالح ہے امام ذہبیؒ فرماتے ہیں صرف ترمذی نے اس سے روایت کی سب نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ (مستدرک: جلد، 2 صفحہ، 343) 

امام بخاری رحمۃ اللہ اور ابو حاتمؒ اسے منکر الحدیث کہتے ہیں امام ترمذیؒ کہتے ہیں اہلِ حدیث کے ہاں ثقہ نہیں ہے۔

وقال ابنِ حيان یروی المضطربات عن الثقات فوجب ترک الاحتجاج به (تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 272)

ترجمہ: ابنِ حیان کہتے ہیں ثقہ لوگوں سے غلط اور بے معنیٰ روایتیں کرتا ہے تو اس سے دلیل نہ پکڑنا واجب ہے۔

سوال نمبر 725: آپ کے ہاں کلمہ گو مسلمان کو کافر کہنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے اسی بناء پر آپ یزید اور قاتلانِ سیدنا حسینؓ کو کافر کہنے سے خاموش ہیں تو پھر شیعوں کو کافر کہہ کر قتلِ عام کیوں کرایا؟

صفحہ 11 از 13