سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید…

سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 13

جواب: ایک فرضی بات ہے نہ محبت ہے نہ نیک نیتی۔ یہ سب دعا دی، جوش و خروش کے ساتھ تاریخ میں مذکور انتشار اور مسلمانوں پر لشکرکشی حبِّ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں بغضِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگر خلوص ہوتا تو یہ ضرب المثل مشہور نہ ہوتی۔ اگر اخلاص ہوتا حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے فاضل و شجاعت حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابل اپنے مقاصد میں ناکام نہ ہوتے۔ اگر شیعہ علی نیک نیت ہوتے تو حضرت علیؓ یہ تمنا اور بد دعا کبھی نہ کرتے۔ اے اللہ میں ان سے تنگ آ گیا یہ مجھ سے تنگ آ گئے میں ان سے دکھی ہوں یہ مجھ سے دکھی ہیں۔ اے اللہ مجھے (موت دے کر) ان سے آرام نصیب فرما اور ان کا اس شخص سے سابقہ پیدا کر کے مجھے یاد کریں۔ (جلاء العیون: صفحہ، 184) 

اگر خلوص ہوتا تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ یہ ارشاد نہ فرماتے: اللہ کی قسم حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے لیے بہتر ہے اس جماعت سے جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ میرے شیعہ ہیں لیکن مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا اور میرا مال لوٹ لیا۔ (منتہی الآمال: صفحہ، 232)

اور خلوص و ایمان ہوتا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر شہید کرنے والے یہ بددعا اور القابات نہ لیتے۔ 

پس تم پر اور تمہارے ارادوں پر لعنت ہو بے وفاؤ! ظالمو! غدارو! ہمیں مجبوری کے وقت اپنی امداد کے لیے بلایا۔ (جیسے آج بھی یا حسین یا علی مدد کے نعرے لگاتے ہیں) جب ہم نے بات مان لی اور تمہاری ہدایت اور امداد کے لیے آ پہنچے تو تم نے دشمنی کی تلواریں ہم پر کھینچ لیں اپنے دشمنوں کی ہمارے خلاف مدد کی اور خدا کے دوستوں سے ہاتھ اٹھا لیا۔ بس تمہارے چہرے بدشکل اور منہ کالے ہوں اے امت کے گمراہو کتاب اللہ کو چھوڑنے والو (کہ غار میں امام مہدی کے پاس چھپا دی) گروہوں میں بٹنے والو اہلِ تشیع (شیطان) کے پیروکارو، سنت خیر الانام چھوڑنے والو، پیغمبر کی اولاد کے قاتلو، الخ (جلاء العیون: صفحہ، 391 منتہی الآمال: صفحہ، 346)

سوال نمبر 714: کیا محبوبِ خدا اور رسولﷺ‏ کی محبت ہدایت یافتہ ہونے کا باعث ہے یا نہیں؟

جواب: یقیناً ہے تبھی تو ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ والے محبوبِ خداوندی) کے ہم محب اور ہدایت یافتہ ہیں اور ان کے دشمنوں کو خدا کا دشمن اور ہدایت سے محروم جانتے ہیں۔

سوال نمبر 715: کیا اعلانیہ دشمن محبوب رسولِ خداﷺ‏ سے دشمنی رکھنا چاہیے یا محبت یا دو رخی پالیسی اختیار کر کے خاموش رہنا چاہیے؟

جواب: تمام محبوبِ خدا و رسولﷺ‏، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنوں سے دشمنی رکھنی چاہیے محبت ہرگز نہ کی جائے دو رخی پالیسی منافق اور دوزخیوں کا کام ہے کہ منافقانہ کلمہ پڑھنے کی طرح بظاہر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسلمان بھی کہہ جاتے ہیں اور دل سے ان کو معاذ اللہ مومن نہیں مانتے اور ان سے کافرانہ دشمنی رکھتے ہیں۔

سوال نمبر 716: جب سارے صحابی عادل ہیں اور ستارے ہیں کسی ایک کی پیروی کر لینا ہی کافی ہے تو پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پیروکاروں کی پیروی آپ کیوں کافی نہیں جانتے کیا جنابِ امیر زمرہ اصحاب و نجوم سے باہر ہیں؟

جواب: آپ واقعی بزرگ صحابی اور نجم ہدایت ہیں ہم ان کی پیروی کرتے ہیں شیعوں کی طرح نافرمان نہیں جس کا نمونہ سابق گزرا مگر یہ حصر نہیں مانتے کہ صرف ان کی پیروی کریں اور باقی سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا انکار یا نافرمانی کریں؟ بايھم اقتديتم اهتديتم کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایک کی پیروی ہی کافی ہے۔ باقی سب سے دشمنی رکھی جائے بلکہ مثبت مطلب اتنا ہے کہ کسی بات میں کسی صحابی کی مخلصانہ اور دیانت دارانہ پیروی کرنے والا ہدایت پر ہو گا گمراہ نہ ہو گا۔ گو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا عمل مختلف ہو اور امت کے لیے فروعی اجتہادی مسائل میں اس سے آسانی پیدا ہوئی اور دور دراز دیہاتوں ملکوں تک پہنچنے والے مبلغین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کی سند مل گئی۔

سوال نمبر 717: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اجتہادی، غیر اجتہادی اختلافات تو تھے ہی افتراق سے بچنے کی یہ صورت ہے کہ اس صحابی کی اتباع کی جائے جس پر اکثریت اتفاق کرے۔ آپ کا جھکاؤ جمہوری رائے کی طرف ہے؟

جواب: جب اجتہادی اختلافات کا وجود آپ اصولاً مانتے ہیں تو ایک مجتہد دوسرے مجتہد کا مقلد نہیں ہوا کرتا۔ اسے اپنے صوابدید رائے اور اجتہاد پر عمل کرنا ناگزیر ہے اور جمہوری طرزِ فکر میں بھی یہ اسے قانونی حق حاصل ہے اب صرف ایک صحابیؓ اور امام کی رائے پر عمل لازمی قرار دینا گویا اسے نبوت کا حق دینا ہے اس سے باقیوں کا حق سلب ہو گا۔ لہٰذا جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فروع میں پیروی ہو گی۔ دیگر مجتہدین کی بھی کی جائے گی۔ اس سے حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عائشہ اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہم کے پیروکاروں کا گمراہی سے محفوظ ہونا ثابت ہوا۔

سوال نمبر 718: کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سنی شیعہ کی مشترکہ مسلمہ ہستی نہیں؟

جواب: اب تمام مسلمانوں کی طرف نسبت سے بات کرنی ہو گی۔ بے شک اب سنی و شیعہ کے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مسلمہ امام ہیں تو دیگر خارجی ناصبی فرقے ان کو اپنا امام نہیں مانتے۔ اگر آپ ان کو اس وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں تو ٹھیک اسی دلیل سے ہم آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ فرقہ مانتے ہیں۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو ماننے والے اب 95 فیصد سوادِ اعظم اہلِ سنت مسلمان ہی یہ حق رکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی تابعداری تمام خلفائے راشدینؓ سمیت کریں اور وہ قانون نافذ کرائیں جو خلافتِ راشدہ میں متفقہ اور معمول بِہا رہے۔ کیونکہ صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ماننے پر خارجی، ناصبی خوش نہیں۔ صرف خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کو ماننے پر رافضی شیعہ خوش نہیں اور جمہوری 95 فیصد کی اکثریت سے بالترتیب چاروں کے ماننے سے کسی فرقہ کو شکایت نہیں رہتی کیونکہ چاروں خلافتوں کے اصول و ضوابط یکساں تھے اور ہر گروہ کو اپنی مرضی کے مطابق ہدایت ان چاروں نجوم ہدایت سے حاصل ہو جاتی ہے۔

صفحہ 10 از 13