جنازہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، الصلوات خیر من النوم، تراویح…

جنازہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، الصلوات خیر من النوم، تراویح ، ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھروں میں رہنے کا حکم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھاپر جھوٹ(مغافیر بولنے کا الزام)

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 2

اس آیت سے سفر کرنے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی  اس لیے قرن کا تو وقر یقر وقارا سے مشتق ہے اور یا قار یقار سے جس کا معنیٰ اجتماع کا ہوتا ہے، ہو سکتا ہے قریقر قراراً سے ہو، احتمال کی وجہ سے استدلال تام نہیں اگر استقرار کے معنیٰ میں بھی ہو تو بھی ظاہر  ہے کہ اس سے مراد تستر اور پردہ کرنا ہے جس کی تاکید تبرج کی نہی سے کی جا رہی ہے تو اس میں سفر کرنے کی نہی نہیں ہے اس لئے کہ پردہ کرتے ہوئے بھی سفر ہو سکتا ہے

دیکھیے ازواج مطہرات رسولﷺ کے ساتھ حج اور غزوات پر ساتھ سفر میں جاتی تھیں اگر اس آیت میں مطلق خروج سے منع ہوتی تو آپ نہ لے جاتے

 دوسری بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بصرہ جانا کسی فساد کے لیے نہ تھا بلکہ آپس کی اصلاح کے طور پر تھا جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت جو کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے اس لئے کہ یہ دونوں بزرگ جنگ میں شہید ہوئے اگر باغی ہوتے تو حدیث بالا میں شہید کا اطلاق نہ ہوتا

تیسری بات عورت کی حکمرانی سے رسول نے منع فرمایا آپ شیعہ ایسے بد بخت اور بد نسل یہود قوم ہیں جو فرمان رسولﷺ کو جُھٹلا کر مذاق بنا رہے ہیں 

شیعہ سوال 5

مُتعہ ۔۔۔ کو قرآن کی آیت اور رسوُل اللہﷺ کی حدیث نے حلال کیا تھا 

خلیفہؑ اوّل کے دور میں بھی حلال ھی تھا 

پھر قرآن و حدیث کیخلاف اسکو بند کرکے زنا سے بچنے کا راستہ بند کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا بند کرنے والے کو؟؟ 

کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی طریقہ ہے ہی نہیں ایک شادی شدہ مرد کیلیۓ جو گھر سے دور ہو کہ وہ حرام کاری سے بچ سکے۔

جواب الجواب اہلسنّت 

متعہ تو زنا ہے کیا زنا کو قرآن نے حلال کہا؟ نعوذباللہ 

شیعہ رافضی صاحب جس آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ نکاح کے بارے ہے نا کہ متعہ (زنا) کے بارے ویسے سمجھ آتی آپ پر متعہ (زنا) کا نشہ اتنا کیوں سوار رہتا ہے 

ویسے بھی آپ کے شیعہ مذہب میں تو متعہ (زنا) کی بڑی فضیلت ہے تبھی شام غریباں میں اپنی ماں بہن بیٹی کو بھی نہیں معاف کرتے جیسے آپ کے بہت بڑے محدث عالم علامہ نوبختی اپنی کتاب "فرق شیعہ" میں لکھا ہے کہ "ماں بہن بیٹی سے بھی متعہ (زنا) ہو سکتا ہے شاباش شیعہ عالم صاحب

اب آپ بتائیں اپنے عالم کی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنی ماں بہن بیٹی سے کتنی بار متعہ (زنا) کا ثواب پا چکے ہو جناب؟ اگر نہیں تو اپنوں کا انکار کیوں؟ 

شیعہ سوال.6

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے باغ فِدک  "اولاد فاطمہؑ سلام اللہ علیہا " کو یہ کہہ کر واپس کر دیا تھا کہ"یہ تمہارا حق تھا اور پہلے اس معاملے میں فیصلہ کرنے والے سے اجتہادی غلطی ہوئی" 

جواب الجواب اہلسنت

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے یہ الفاظ کس اہلسنّت کتاب میں لکھے ہیں؟؟  

            جھوٹوں پر اللہ کی لعنت 

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فدک بلکل نہیں دیا جب رسول اللہ نے ہی نہیں دیا تو خلفاء راشدینؓ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کیسے دیتے؟؟ 

 تفصیل سنی لائبریری ویب سائٹ میں پڑھیں تاکہ آپ کے دجل و فریب کاری کا آپ کو بھی پتا چلے 

حضرت عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ تو بعد میں پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ آتے ہیں انہوں نے اولادِ فاطمہ کو فدک کیوں نہ دیا؟؟

شیعہ سوال 7 

 ویسے تو امید نہیں کہ آپ جواب دیں پائیں لیکن پهر بھی کوشش کیجئے گا. ......

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جھوٹ بول کر کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے

حضور صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جهوٹ بولنے کے بعد بھی کیا امی عائشہ صدیقہ ہی ہیں؟

کیا ان کی صداقت کا خود ساختہ محل مسمار نہیں ہو جاتا؟ یا امام بخاری پر توہین اماں عائشہ کا فتوٰی نہیں لگتا؟ 

جواب الجواب اہلسنّت 

حقیقت اس کی یہ ہے کہ رسولﷺ کو شہد بے حد پسند تھا اور  حضرت زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پینے کی وجہ سے انہیں زیادہ وقت لگ جاتا تھا، جس کی وجہ سے باقی ازواج خاص طور پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ جدائی بھی ناگوار گزرتی،

انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ ہم رسولﷺ کے آنے پر انہیں کہیں گی کہ ان سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ ازواج مطہرات کی نیت درحقیقت رسولﷺ کی قربت کو حاصل کرنا تھا، اس کی تائید قرآن کریم کی سورۃ تحریم کی پہلی آیت سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ رسولﷺ نے ازواج مطہرات کے کہنے پر شہد نہ کھانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ 

 شیعہ روافض کا اعتراض درست تب ہوتا اگر یہ واقعی بدنیتی والی بات ہوتی تو اللہ عزوجل ازواج مطہرات کی مذمت بیان فرماتے یا رسولﷺ انہیں سزا دیتے،  جبکہ ایسا کچھ نہ ہوا۔ 

اسی واقعہ کو رسولﷺ نے راز رکھنے کو کہا لیکن ازواج مطہرات نے بشریٰ تقاضوں اور عورت کی فطرت سے مجبور ہوکر راز کھول دیا اور ایک دوسرے کو بتادیا۔ جس پر رسولﷺ سخت ناراض ہوئے، ازواج مطہرات سے ایک ماہ کی دوری بھی اختیار کر لی اور ازواج مطہرات کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا لیکن ازواج مطہرات کی عبادت و ریاضت اور عشق رسولﷺ دیکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے رسولﷺ کو طلاق دینے سے منع فرمایا۔ 

ان واقعات سے ازواج مطہرات پر اعتراض نہیں بنتا بلکہ ان کی حمایت اللہ عزوجل کی طرف سے آنے پر شان و عظمت واضح ہوتی ہے، بیشک ازواج مطہرات معصوم نہیں تھیں لیکن خطائیں لغزشیں ہونے کے باوجود دنیا و آخرت میں ہمیشہ رسولﷺ کی ازواج رہیں گی۔

دوسری بات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ہم معصوم نہیں مانتے کہ ان سے خطاب ہو ہی نہ سکے بلکہ صحابہ کرامؓ سے کوئی خطاء ہوئی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے معافی کا اعلان فرما دیا ہے

دوسری بات اگر ان سے خطاء ہوئی تھی تو وہ بھی محبتِ رسولﷺ ہی میں ہوئی اور معافی کے اعلان کے بعد اعتراض نہیں ہو سکتا

 شیعہ بکواس

اب مجھے دیکھنا ہے کہ ان سوالوں کے کیا جواب دیتے ہو اور کیا تم اپنا حلالی پن ثابت کرتے ہو نام نہاد مسلمانوں۔

اہلسنّت جواب 

 الحمدلله آپ کے ایک ایک لفظ کا جواب دلائل و محقق انداز میں دے دیا اب آپ کا کوئی حلالی شیعہ کب ہمت کرے گا؟  یا صرف متعہ (زنا) کے نشہ میں مست رہنا ہے

 


صفحہ 2 از 2