شق صدر اور اس کی حکمتیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شق صدر اور اس کی حکمتیں

  ڈاکٹر طاہر القادری

صفحہ 2 از 2

حضور اکرمﷺ کی صحبت و رفاقت کا یہ فیض تھا یا قدرت ہی کو یہ منظور تھا کہ حضور اقدسﷺ کے رضاعی بھائی عبداللہ کو یہ سب کچھ نظر آ جائے، اس نے جب یہ منظر دیکھا تو کم عمری کے باعث کچھ نہ سمجھ سکا، گاؤں کی طرف بھاگا اور جا کر حضرت حلیمہ سعدیہؓ کو بتایا کہ سفید لباس میں ملبوس دو نورانی آدمیوں نے قریشی بھائی کا پیٹ چاک کر دیا ہے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بے قرار ہو گئی جب وہاں پہنچی تو اس وقت حضور اکرمﷺ واپس تشریف لا رہے تھے، صحیح سلامت دیکھ کر حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کی جان میں جان آئی اور سارا واقعہ سن کر بہت متحیر ہوئی، جس کا پیٹ چاک کر دیا جائے وہ زندہ کیسے رہ سکتا ہے وہ اس کی کوئی توجیہ نہ کر سکی اس نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کر لیا کہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی امانت اب فوراً لوٹا دینی چاہیے۔ 

ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ کے دربارِ اقدس میں کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیٹھے جمال جہاں آرا کی دید سے متمتع ہو رہے تھے کہ ایک شخص نے سب کا ترجمان بن کر عرض کیا۔ 

یا رسول اللہﷺ‏! ہمیں اپنی ذاتِ اقدس کے بارے میں کچھ بتائے؟

آپﷺ نے جواب میں ابتداء سے شقِ صدر تک کا ذکر اس طرح بیان فرمایا۔

و روى ابنِ إسحاق عن نفر من أصحاب رسول الله قالوا له: يا رسول الله أخبرنا عن نفسك قال: (نعم أنا دعوة أبی إبراهيم و بشرى عيسى ورأت أمی حين حملت بی أنه خرج منها نور أضاء لها قصور الشام واسترضعت فی بنی سعد بن بكر فبينا أنا مع أخ لی خلف بيوتنا نرعى بهما لنا إذ أتانی رجلان عليهما ثياب بيض بطست من ذهب مملوء ثلجا ثم أخذانی فشقا بطنی واستخرجا قلبی فشقاه فاستخرجا منه علقة سوداء فطرحاها ثم غسلا قلبی وبطنی بذلك الثلج حتى أنقياه ثم قال أحدهما لصاحبه: زنه بعشرة من أمته فوزننی بهم فوزنتهم ثم قال: زنه بمئة من أمته فوزننی بهم فوزنتهم ثم قال: زنه بألف من أمته فوزننی بهم فوزنتهم فقال: دعه عنك فوالله لو وزنته بأمته لوزنها (و إسناده جيد قوی)

ترجمہ: میں اپنے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور اپنے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں جب میری ذات بصورتِ امانت میری والدہ کے سپرد ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ ان سے ایک نور خارج ہوا جس کی روشنی میں انہوں نے محلاتِ شام دیکھ لیے۔ میری پرورش قبیلہ بنو سعد بن بکر میں ہوئی ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے میں اپنے بھائی کے ساتھ گھروں کے پچھواڑے بکریاں چرا رہا تھا کہ اتنے میں دو آدمی آئے انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ان کے پاس ایک طشت زر میں تھا، جس میں برف بھری ہوئی تھی، انہوں نے مجھے پکڑ کر پیٹ چاک کیا دل نکال کر چیرا اور اس میں سے سودائے قلب کو نکال کر پرے پھینکا پھر دل اور پیٹ کو اسی برف کے ساتھ دھو دیا۔ پھر ایک نے کہا انہیں دس امتیوں کے ساتھ تولو۔ جب انہوں نے تولا تو میرا پڑا بھاری نکلا۔ اس نے کہا۔ اب سو امتیوں کے ساتھ تولو۔ جب تولا تو پھر بھی میرا پلڑا بھاری نکلا۔ اس نے کہا اب ہزار امتیوں کے ساتھ تولو۔ جب تولا تو اس دفعہ بھی میرا پلڑا ہی بھاری نکلا۔ پہلے نے کہا رہنے دو، اگر تم انہیں پوری امت کے ساتھ بھی تولو گے تو پھر بھی ان کا پلڑا ہی بھاری نکلے گا۔

اس واقعہ کو روایت کیا ہے۔ اس روایت کے مطابق ان دو فرشتوں میں سے ایک حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے وہ نشان بھی حضور اکرمﷺ کے سینہ مبارک پر دیکھا ہے۔


صفحہ 2 از 2