سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 8 از 8

سیدنا حسنؓ نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا بعد کے حالات و واقعات نے بتایا کہ آپ کا یہ اندیشہ درست ثابت ہوا تھا اور انہی لوگوں نے سیدنا حسینؓ کو دھوکہ دے کر کوفہ بلایا اور دشمنوں کے حوالہ کر دیا تھا۔

سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بڑا اچھا تعلق تھا آپ ہر سال سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس آتے رہے اور نہایت خوشگوار ماحول میں ان دونوں بزرگوں کی ملاقاتیں ہوتیں اور وہ آپ کو عطیات اور تحائف عطاء فرماتے اور سیدنا حسنؓ ان کو بخوشی قبول فرماتے تھے۔

ایک اہم سوال اور اس کا جواب

سوال: سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کی باہمی صلح کے بارے میں جو حضور اکرمﷺ نے جو پیشگوئی فرمائی اس میں یہ الفاظ تو ملتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا لیکن کیا یہ الفاظ بھی کہیں ہیں کہ مؤمنوں کی دو جماعتوں میں صلح ہوگی؟ شیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ مسلمان تو تھے بظاہر کلمہ گو تھے مگر مؤمن نہ تھے مؤمن کبھی مؤمن سے نہیں لڑتا حضرت علیؓ مؤمن تھے ان سے لڑنے والا کیسے مؤمن ہو سکتا ہے؟

حضرت الاستاذ حجۃ الاسلام علامہ خالد محمودؒ اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

حضرت عمار یاسرؓ کی (پرورش کرنے والی) والدہ کہتی ہیں ایک دفعہ سیدنا عمار بن یاسرؓ بیمار ہوئے اور بیماری شدت اختیار کر گئی میں گھبرائی تو سیدنا عمارؓ نے کہا فکر نہ کریں میں اس مرض میں مرنے والا نہیں ہوں مجھے میرے محبوب حضور اکرمﷺ نے بتلا دیا ہوا ہے کہ میری موت قتل سے ہوگی (بیماری سے نہیں) حضرت امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں:

أم عمار قالت اشتکی عمار قال لا أموت فی مرضی حدثنی حبیبی رسول اللهﷺ لا أموت أِلا قتلاً بین فئتین مؤمنین۔ (التاریخ الاوسط: جلد 1، صفحہ 79)

ترجمہ: ام عمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: عمارؓ بیمار ہوئے آپ نے کہا میں اس بیماری سے فوت نہ ہوں گا مجھے میرے حبیب آنحضرتﷺ نے بتایا ہوا ہے کہ میری وفات قتل سے ہو گی اور وہ مقاتلہ مؤمنوں کی دو جماعتوں میں ہو رہا ہوگا۔

اس حدیث میں سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علیؓ کی دونوں جماعتوں کو مؤمنوں کی دونوں جماعتوں سے تعبیر کیا ہے کہ دونوں جماعتیں مؤمنوں کی ہوں گی۔

اور قرآنِ کریم میں بھی ہے:

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ الخ۔

(سورۃ الحجرات: آیت 9)

ترجمہ: اور اگر مؤمنین کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اگر ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرے تو تم ان سے لڑو جو بغاوت کرے یہاں تک کہ وہ حق کی طرف لوٹ پڑے۔

اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن سے لڑنے والے مؤمن بھی ہو سکتے ہیں ضروری نہیں کہ کافر ہوں اور جو باغی ہو وہ بھی بغاوت سے ایمان سے نہیں نکلتا مؤمن رہ سکتا ہے مومن سے کسی اختلاف یا کسی دوسری وجہ سے لڑنا اور بات ہے اور مؤمن سے بوجہ اس کے ایمان کے لڑنا اور بات ہے جو کسی مؤمن کو اس وجہ سے کہ وہ مؤمن کیوں ہیں تو وہ بے شک کافر ہے اور اس کی جگہ جہنم ہے لیکن وجہ قتل کوئی خارجی سبب ہو تو اس کا حکم اور ہے کفر کا نہیں۔

وَمَنۡ يَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَـنَّمُ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 94) 

اس میں حکم مشتق پر ہے اور یہاں اس کے قتل کا موجب اس کا ایمان ہے۔ واللہ علم بالصواب۔

(عقبات: جلد 1، صفحہ 418)



صفحہ 8 از 8