سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 7 از 8

چنانچہ اس زریں عہد کے حالات اور واقعات لا تعداد پائے جاتے ہیں لیکن حسبِ مقدور انہیں کم و بیش بارہ فصلوں کی شکل میں ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ان پر پھر نظر غائر کرنے سے اس دور کی قدر و منزلت اور اہمیت واضح ہو سکے گی اور سیدنا امیر معاویہؓ کی ملی خدمات کا اندازہ ہو سکے گا اور ان کی حکومت عادلہ کا بہترین نقشہ سامنے آ سکے گا لیکن شرط یہ ہے کہ عہد معاویہؓ کی ملی مندرجات پر ناظرین باتمکین ایک منصفانہ نظر فرمائیں اور دور ہذا کے مخالف دوستوں کے پروپیگنڈے پر بھی نگاہ ڈالیں پھر یہ تقاضائے انصاف خود موازنہ کریں اس طریقے سے امید ہے کہ صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں دشواری نا ہو گی۔(سیرتِ امیر معاویہؓ: صفحہ 238)

مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ (1420ھ) لکھتے ہیں: 

اس میں شک نہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد میں اسلام اور مسلمانوں کو فتح و غلبہ حاصل ہوا اسلام کی فتح مندیاں حاصل ہوئیں اور اس کا دائرہ بڑھا سیدنا امیر معاویہؓ نے غزوات کا سلسلہ جاری رکھا اور فتوحات کا سلسلہ بری و بحری راستوں سے وہاں تک پہنچے جہاں مسلمان فاتحین کے قدم پہلے نہیں پڑے تھے ان کی فتوحات بحر اوقیانوس (اٹلانٹک) تک گئیں ان کے مصر کے گورنر نے سوڈان کو اسلامی مملکت میں شامل کر لیا ان کے زمانے میں بحری بیڑے کثرت سے تیار ہوئے ان کو اس بات کا خاص اہتمام تھا یہاں تک کہ ان بیڑیوں کی تعداد سترہ سو تک پہنچ گئی یہ سب کشتیاں ہتھیار اور سپاہیوں سے بھرپور تھیں ان بحری بیڑوں کو وہ مختلف سمتوں میں روانہ کرتے اور وہ کامیاب ہو کر واپس آتے ان کے ذریعہ متعدد علاقے فتح ہوئے جن میں جزیرہ قبرص (سائپرس) اور یونان اور دردنیل کے بعض جزیرے اور جزیرہ رودس بھی شامل ہے خشکی کے علاقوں کو فتح کرنے کے لیے انہوں نے ایک فوج تیار کی تھی جو جہازوں میں جا کر حملہ آور ہوتی جس کو الشواتی کہتے تھے دوسرا دستہ تھا جو گرمیوں میں حملہ کرتا اس کا نام الصوائف تھا یہ غزوات مسلسل جاری تھے اور مسلمانوں کی سرحدیں دشمنوں سے محفوظ تھیں۔ (المرتضیٰ: صفحہ،317)

مولانا عبد القیوم ندویؒ کہتے ہیں: 

سیدنا امیر معاویہؓ نے بہت سے مضبوط قلعے اور کفر کی پناہ گاہوں کو اسلام کے قدموں میں لا ڈالا قیساریہ کا عظیم الشان معرکہ جس میں 80 ہزار رومی مارے گئے تھے آپ ہی کی شجاعت تدبر اور عظیم الشان جنگی و ملکی قابلیتوں کارہیں منت ہے۔ (تاریخ ملت: جلد، 3، صفحہ 26)

شیعہ مؤرخ امیر علی نے آپ کے عہدِ خلافت پر جو تبصرہ کیا ہے اسے بھی دیکھ لیجیے؟

On the whole Muaviyah's rule was prosperous and peaceful at home and successful abroad (History of saracens P: 82) 

مجموعی طور پر سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت اندروں ملک بڑی خوش حال اور پر امن تھی اور خارجی پالیسی کے لحاظ سے بڑی کامیاب تھی۔ 

(سیدنا معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ 252) 

جناب ابو الاعلیٰ مودودی سیدنا معاویہؓ مکہ کے شدید ترین ناقدوں میں سے ہیں موصوف نے اپنی تحریرات میں ان پر نہایت بے بنیاد اور بھونڈے الزامات بھی عائد کیے ہیں تاہم انہیں بھی اس بات کا اقرار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا کہ:

ان (سیدنا معاویہؓ) کی یہ خدمت بھی ناقابل انکار ہے کہ انہوں نے پھر سے دنیائے اسلام کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور دنیا میں اسلام کے ملبے کا دائرہ پیسے سے زیادہ وسیع کر دیا ان پر جو شخص لعن طعن کرتا ہے وہ بلاشبہ زیادتی کرتا ہے۔(خلافت و ملوکیت: صفحہ، 153)

جب معاہدہ طے پا گیا اور سیدنا معاویہؓ کی بیعت بھی ہوگئی تو پھر سیدنا حسنؓ اپنے گھر والوں اور چند خالص ساتھیوں کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور پھر آپؓ نے یہیں اپنی زندگی کے باقی ایام گزارے یہاں کے لوگ آپ کی خدمت میں تشریف لاتے اور آپ کے علم و فضل سے فیضیاب ہوتے رہے ان دنوں حضورﷺ کے اجلہ صحابہ کی بھی ایک بڑی تعداد مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھی اور ان کا علم و عرفان بھی اپنی جگہ پوری طرح جاری و ساری تھا۔

شارح بخاری حافظ ابنِ حجر عسقانیؒ (852ھ) محدث ابنِ بطال (449ھ) کے حوالہ سے لکھتے ہیں:

جب سیدنا حسنؓ سیدنا معاویہؓ صلح کر لی اور خلافت کا معاملہ آپ کے حوالہ کر دیا تو آپ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے جن شرائط پر بیعت کی ان میں سے یہ بھی تھا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو قائم رکھا جائے گا:

وبائعہ علی اقامۃ کتاب الله وسنۃ نبیہ۔

سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کو تین لاکھ درہم دیے اور 1000 پوشاک کے کپڑے 30 غلام اور 100 اونٹ دیے پھر سیدنا حسنؓ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔(فتح الباری بشرح البخاری: جلد 13، صفحہ 79 میں طبع بیروت)

مگر عراق کے وہی شیعہ جنہوں نے آپ کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیوں اور گستاخیوں کا ارتکاب کیا تھا انہوں نے یہاں بھی آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا انہیں معلوم تھا کہ اب سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان کوئی رنجش اور اختلاف باقی نہیں ہے مگر وہ اب بھی برابر اسی کوشش اور سازش میں لگے رہے کہ اختلاف کی یہ آگ کسی طرح ٹھنڈی نہ ہو پھر ایک مرتبہ تیزی سے بھڑکے اور مسلمان پھر سے ایک دوسرے کے مقابل آجائیں اور یہ صلح پھر سے جنگ و جدل میں بدل جائے سو انہوں نے سیدنا حسنؓ کے نام خطوط پر خطوط لکھے اور آپ کو اپنی حمایت اور تعاون کا پھر ایک مرتبہ یقین دلانے کی کوشش کی مگر آپ نے ان میں سے کسی خط کا جواب دینا تو درکنار ان خطوط کو پڑھنا تک گوارا نہ فرمایا۔

جناب یزید بن اصم کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا حسنؓ کاغذوں کا ایک بنڈل لے کر آئے اور ایک بڑا برتن منگوایا پھر آپ نے اس میں پانی ڈالا اور یہ پورا بنڈل اس میں ڈال دیا یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا یہ کس کے خطوط ہیں؟ آپ نے کہا عراق والوں کے یہ وہ لوگ ہیں جو نہ حق کی طرف آتے ہیں اور نہ باطل سے پیچھے ہٹتے ہیں مجھے اپنے بارے میں ان سے کوئی خدشہ نہیں ہے لیکن میں ان کے بارے میں ضرور خدشہ محسوس کرتا ہوں یہ کہہ کر آپ نے سیدنا حسینؓ کی طرف اشارہ کیا:

اما انی لست اخشاھم علی نفسی ولکنی اخشاھم علی ذلک واشر الی الحسین۔(المعجم الکبیر: جلد 3، صفحہ 70 للطبرانی مجمع الزوائد: جلد 6، صفحہ 243)

صفحہ 7 از 8