سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 6 از 8

سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ اگر لڑائی ہوئی تو اس سے معلوم نہیں کتنے مسلمانوں کی جان جائے گی اور کتنے گھر اجڑیں گے اور مسلمانوں کی قوت پر اس کا کیا اثر پڑے گا اور آپ کو اس بات کا بھی پتہ چل گیا کہ آپ کے گروہ میں کئی غدار موجود ہیں جو وقت آنے پر دھوکہ دے جائیں گے اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو چاہتے تھے مسلمان آپس میں لڑیں تاکہ ان کی قوت کمزور ہو جائے اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسنؓ کے ذریعہ ان تمام دشمنوں کے عزائم ناکام بنا دیے جو یہ آگ لگا رہے تھے۔

مسند الہند حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ (1239ھ) نے صلح حسنؓ میں ایک اور بات اٹھائی ہے آپ لکھتے ہیں:

سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ صلح کیوں کی جب کہ اس وقت آپؓ کی ذات عالی صفات استحقاق امامت میں مخصوص و ممتاز تھی اور فریق ثانی کی لیے استحقاقی واضح اور روشن تھی (اس کی وجہ) یہ ہے کہ حضرت امام واقف تھے اور جانتے تھے کہ خلافت کا زمانہ ختم ہوا بادشاہوں کا وقت آ پہنچا اور ظلم و ستم کا دور دورہ شروع ہوا اگر میں بھی ریاست کا مدعی بنا رہا اور تقدیر میں چونکہ ہے نہیں تو ریاست انتظام پذیر نہ ہو گی اور فتنہ و فساد غصب و عناد رونما ہوں گے اور امامت کے جو مصالح ملحوظ و منظور ہونے چاہئیں وہ یکسر فوت ہو جائیں گے لہٰذا آپ نے ریاست و سیادت سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور امور ریاست سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سپرد کر دیے جو اس وقت ریاست کی اہلیت رکھتے تھے اور آپ نے یہ صلح و تسلیم کسی خامی، کمزوری یا ذلّت کی وجہ سے نہیں تھی اس لیے کہ امام کے ساتھ جانثاروں کی کمی نہیں تھی اور وہ مدد کے لیے تیار تھی لیکن چونکہ مدت امامت جو پوری تیس سال تھی ختم ہو رہی تھی تو آپ نے اس کو ترک کردیا۔ (تحفہ اثناءِ عشریہ: صفحہ 359)

سیدنا حسنؓ کے اخلاص اور مسلمانوں میں یک جہتی کی کوشش اور اس میں کامیابی کی یہ ادا اللہ کو ایسی پسند آئی کہ پھر اللہ تعالیٰ نے پھر سے مسلمانوں کا رعب اور دبدبہ قائم کر دیا اور سیدنا امیر معاویہؓ کے ہاتھوں دنیا کے کئی ملکوں اور علاقوں میں پرچم اسلام پھر سے بڑی بلندی پر لہرایا تھا حافظ ابن كثيرؒ (774ھ) لکھتے ہیں:

واجمعت الرعایا علی بیعتہ فی سنۃ احدی واربعین کما قدمنا فلم یزل مستقلا بالامر فی ھذہ المدۃ الی ھذہ السنۃ التی کانت فیھا وفاتہ والجھاد فی البلاد العدو قائم وکلمۃ الله عالیۃ والغنائم ترد الیہ من اطراف الارض والمسلمون معک فی راحۃ وعدل وصفح وعفو۔

(البدایہ: جلد 8، صفحہ 119)

جیسا کہ ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ 14ھ میں تمام رعایا نے آپ کی بیعت پر اتفاق کر لیا اور آپ اپنی وفات تک باختیار امیر رہے اور آپ کا دشمن ممالک سے جہاد قائم رہا اور اللہ کے کلمہ کا بول بالا رہا اور تمام علاقوں سے غنائم آپ کے پاس آتے رہے اور تمام مسلمان راحت و عدل اور عفو و درگذر کے ساتھ آپ کے ساتھ رہے ہیں۔

علامہ ابن اثیر الجزریؒ (230ھ) لکھتے ہیں: 

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہد میں مغربی قوموں سے بھی نبرد آزمائیاں ہوئیں اور شہنشاہ روم کی بہت سے ایشیائی اور یورپی مقبوضات پر اسلامی علم نصب ہوا سیدنا امیر معاویہؓ کی مستقل خلافت کے بعد سب سے پہلے 43ھ میں رومیوں سے مقابلہ ہوا رومیوں نے شکست فاش کھائی اور ان کے بطریقوں کی بڑی تعداد کام آئی۔ (الکامل: جلد 3، صفحہ 352) 

حضرت مولانا پیر غلام دستگیر نامیؒ (1380ھ) لکھتے ہیں:

سیدنا امیر معاویہؓ نے حکومت کا یہ بوجھ جس قابلیت سے اٹھایا تاریخ اس کی گواہ ہے سیدنا امیر معاویہؓ کے 20 سال ولایت اور 20 سالہ عہد خلافت میں ان کی سلطنت میں کوئی فتنہ نہیں اٹھا اور تمام مخالف مغلوب رہے بلکہ اسلامی سلطنت میں سجستان، سوڈان اور برقہ کا اضافہ ہوا۔ فالحمدللہ على ذلك۔(سیدنا امیر معاویہؓ: صفحہ41، مطبوعہ1961ء)

آپ آگے چل کر لکھتے ہیں: اپنے زمانہ خلافت میں سیدنا امیر معاویہؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کی فتوحات پر بہت اضافہ کیا تھا آپؓ نے ہندوستان پر دونوں جانب سے فوج کشی کی ایک قدیم راستہ سندھ سے اور 44ھ میں خیبر کی راہ سے، کابل کی سرحدوں سے ہوتے ہوئے مہلب بن ابی صفرہ نے ہندوستان کی سرزمین میں قدم رکھا اور متخاصمین کو شکست دیتا ہوا قیقان کی طرف بڑھا ترک سواروں نے مقابلہ کیا اور مارے گئے مہلب مالِ غنیمت لے کر واپس آیا قندھار بھی اسی دور میں فتح ہوا تھا۔

(سیدنا امیر معاویہؓ: صفحہ 25)

44ھ میں مہلب بن ابی صفرہ درہ خیبر کی راہ سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور پشاور کی وادیوں کو روندتے ہوئے بنوں کو فتح کرتے ہوئے قلات تک پہنچے یہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت کا زمانہ تھا۔

(مشاہیر علماءِ دیوبند: صفحہ 5)

آپؓ کا عہد خلافت اور اس عہد کی فتوحات تفصیلی گفتگو کی محتاج ہے جو دوست اس عہد کی فتوحات اور اس کی تفصیلات جاننے کے خواہش مند ہیں وہ محقق اہلِ سنت حضرت مولانا محمد نافع صاحب قدس سرہ العزیز (2014ء) کی سیرت امیر معاویہؓ ملاحظہ کریں جس سے یہ اندازہ ہوگا کہ آپ کا یہ دور اہلِ اسلام کے لیے کسی قدر شاندار دور کا حامل رہا تھا، حضرت مرحوم نے اس دور کا خلاصہ جن الفاظ میں تحریر فرمایا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں نقل کر دیا جائے اسی سے آپ کو اس پورے عہد کا پتہ چل جائے گا آپ لکھتے ہیں: 

یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ خلافت راشدہ کے مبارک دور کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کا عہد خلافت اسلام میں بڑا اہم دور ہے اس دور میں اسلام کو کامل فروغ حاصل ہوا دین و شریعت کے تمام شعبوں میں ترقی ہوئی اور اس عہد کے باقی مخالف ادیان یہود و نصاریٰ وغیرہم پر اسلام غالب آیا اور اسلام کی مخالفت پر کمر بستہ عظیم سلطنتوں کا زور ٹوٹ گیا۔

صفحہ 6 از 8