سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 5 از 8

وليس لمعاويۃ بن أبی سفيان أن يعهد إلى أحد من بعده عهد ابل يكون الأمر من بعده شوریٰ بين المسلمين۔

(بحارُ الانوار: جلد 44، صفحہ 43، کشف الغمۃ: صفحہ 65 للاردبیلی 687ھ) 

سیدنا امیر معاویہؓ کو یہ اس بات کی اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اپنے بعد کسی کو اپنا ولی عہد مقرر کریں بلکہ مسلمان آپس میں مشورہ کر کے کسی کو مقرر کریں گے۔ 

شیعہ علماء نے تسلیم کیا ہے کہ اس میں بھی کہیں اس شرط کا ذکر نہیں ملتا کہ خلافت سیدنا حسنؓ کو دی جائے گی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شرط بعد میں کسی نے داخل کی ہے۔ 

*نوٹ:* سیدنا حسنؓ کی یہ شرط کہ خلیفہ مسلمانوں کے مشورہ سے منتخب کیا جائے گا بتلاتی ہے کہ سیدنا حسنؓ کے نزدیک امامت (باصطلاح) شیعہ منصوص نہیں ہے اہلِ اسلام جسے منتخب کریں گے وہ مسلمانوں کا امیر ہوگا اگر آپؓ کے عقیدہ میں امامت منصوص ہوتی تو آپ ہی غور کریں کہ کیا سیدنا حسنؓ خود کبھی یہ شرط لکھواتے اور سیدنا حسنؓ سے پسند کرتے؟

3: سیدنا حسنؓ کا انتقال 49ھ یا 50ھ میں ہوا جب کہ سیدنا امیر معاویہؓ ان کے بعد 10 سال حیات رہے۔ آپ کا انتقال 60ھ میں ہوا تھا چاہیے تھا کہ اس شرط کی رو سے جس دن سیدنا حسنؓ کا انتقال ہوا اسی دن سیدنا حسینؓ سیدنا امیر معاویہؓ سے مطالبہ کرتے کہ سیدنا حسنؓ کے بعد اس شرط میں میرا نام شامل کر دیا جائے اگر واقعی میں ان شرائط میں یہ بھی شرط ہوتی کہ سیدنا حسنؓ کیا اس پر کبھی خاموش رہ سکتے تھے نہیں معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان جن شرائط پر مصالحت ہوئی تھی اس میں یہ شرط نہیں تھی سیدنا حسینؓ کا اس پر خاموش رہنا اور سیدنا امیر معاویہؓ سے عطایا اور تحائف لیتے رہنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ شرط اس صلح نامہ میں کہیں موجود نہ تھی۔

4: جب سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنی جان نشینی کے لیے یزید کو منتخب کیا اس وقت بھی سیدنا حسینؓ نے اس شرط کا ذکر نہ چھیڑا اور نہ یہ کہا کہ ان شرائط میں سے ایک آپ کے بعد سیدنا حسنؓ کی خلافت تھی اب جب کہ وہ نہیں رہے تو آپ کو یہ اختیار نہیں رہا کہ اپنے بیٹے کو منتخب کریں چونکہ سیدنا حسنؓ میرے بڑے بھائی تھے اور میں نے بھی انہی شرائط پر آپ کی بیعت کی تھی اس لیے آپ کے بعد خلافت میرے حوالہ کی جائے سیدنا حسینؓ کا یہ مطالبہ بھی کہیں موجود نہیں ہے۔

5: اگر ان شرائط میں یہ شرط واقعی موجود ہوتی تو ان پر تمام شیعہ حضرات کو غور کرنا چاہیے جو اپنے ائمہ کو عالم الغیب سمجھتے ہیں اوریہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہیں اپنی موت کے وقت کا علم ہوتا ہے (دیکھیے شیعہ کی مرکزی کتاب اصول کافی: جلد1، صفحہ 202 کتاب الحجہ باب الائمۃ یعلمون متیٰ يموتون ولا يموتون الاباختيارهم)

اگر سیدنا حسنؓ یہ جانتے کہ میرا انتقال سیدنا امیر معاویہؓ سے 10 سال قبل ہو جائے گا تو آپ ہی بتائیں کہ کیا آپؓ کبھی اس شرط کو لکھتے؟ شیعہ دوستوں کو اس پر غور کرنا ہوگا کہ اگر یہ شرط درست ہے تو انہیں اپنے ائمہ کے بارے میں وضاحت کردہ عقائد پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اگر وہ ائمہ کے بارے میں ان عقائد پر مقر اور اس پر مصر ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا حسنؓ اپنی موت کا علم رکھنے کے باوجود ایک ایسی شرط کیوں لگا رہے تھے کہ جو بالکل بے فائدہ تھی، فافھم وتدبر۔

6: جو لوگ کہتے ہیں کہ ان شرائط میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے بعد خلافت سیدنا حسنؓ کو واپس دی جائے گی مگر افسوس کہ ان کی یہ بات غلط ہے اور ہم اوپر بتلا آئے ہیں کہ تاریخ کی مشہور کتابیں تاریخِ یعقوبی، تاریخ ابنِ کثیر، تاریخِ طبری، تاریخُ الکامل مروج الذہب میں اس شرط کا کہیں تذکرہ نہیں اور خود شیعہ علماء تسلیم کرتے ہیں کہ ان شرائط میں ایسی کوئی بات تھی ہی نہیں بلکہ الٹا سیدنا حسنؓ کے فوجی یہ کہتے تھے کہ سیدنا حسنؓ نے یہ شرط کیوں نہ رکھوائی شیعہ کا ممتاز محدث ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ جب صلح نامہ لکھا گیا اس پر دستخط بھی ہو گئے تو جناب سلیمان بن صرد خزاعی نے سیدنا حسنؓ کو مخاطب کر کے کہا آپؓ نے پیمانِ محکم صلح نامہ میں نہ لیا اور بہرہ کامل عطاء میں نہ لکھوایا اگر بروقت مصالحہ اہلِ مشرق و مغرب کو آپ گواہ کرتے اور نوشتہ اس سے لیتے کے بعد اس کے خلافت آپ میں ہوتی اور ہمارا کام بہت آسان ہوتا (جلاءُ العیون: جلد 1، صفحہ 381 اردو ترجمہ) 

مؤرخ جناب اکبر شاہ خان نجیب آبادی تو یہ بھی لکھتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ تو اس شرط کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار تھے مگر خود سیدنا حسنؓ اس پر راضی نہ تھے موصوف لکھتے ہیں: 

لوگوں کو عام طور پر اس کا علم تھا کہ سیدنا حسنؓ سے مصالحت کرتے وقت عبداللہ بن عامر کی کوشش کے موافق سیدنا امیر معاویہؓ معاہدہ صلح میں اس اقرار کو اپنی طرف سے درج کرنے پر امادہ تھے کہ ان کے بعد سیدنا حسنؓ خلیفہ بنائے جائیں لیکن سیدنا حسنؓ نے یہ بات صلح نامہ میں درج نہیں کرائی لوگوں کا خیال تھا کہ اگرچہ سیدنا حسنؓ کی آئندہ خلافت کا کوئی تذکرہ عہد نامہ میں نہیں ہوا مگر عالمِ اسلام سیدنا حسنؓ کی خلافت پر متفق ہو جائے گا۔

(تاریخِ اسلام: جلد 2، صفحہ 38 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی) 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ شیعہ علماء اور اس قبیل کے لوگ جس شرط کا دعویٰ کرتے ہیں اس شرط کا تو خیر سے متعصب و تبرا باز شیعہ علماء بھی نہیں کرتے سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف مخالفت میں حقائق مسخ کرنے والے یوں تو کچھ کم نہیں ہیں مگر لکھنؤ کا ایک نادان سلمان ندوی سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف جتنا بھڑکا اور بھڑکا ہے ہمیں کم از کم اس کی امید نہ تھی! 

حاصل یہ ہے کہ سیدنا حسنؓ نے صلح کی جو شرائط لکھیں عبداللہ بن عامر نے آپ کی یہ شرطیں سیدنا امیر معاویہؓ کو بھیج دیں اور انہوں نے آپ کی یہ شرطیں قبول کر لیں اور اس پر ان کے درمیان صلح ہوگئی۔

چنانچہ اس کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کوفہ آئے اور یہاں سب لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی یہاں مسلمانوں کا بڑا اجتماع تھا لوگ جنگ ٹل جانے کی بناء پر بہت خوش تھے اس سال کو اتفاق اور جماعت کا سال کہا گیا:

فسمیت سنۃ الجماعۃ لاجتماع الناس وانقطاع الحرب۔

سیدنا حسنؓ نے صلح کیوں کی؟(ایک نکتہ)

صفحہ 5 از 8