سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 4 از 8

بعض لوگ اس صلح پر بڑے برافروختہ ہیں۔ گویا یہ سیدنا حسنؓ و حسینؓ سے فہم و فراست اور دینداری میں آگے ہیں کہ سیدنا حسنؓ نے مملکت اسلامیہ کی باگ دوڑ ایک نا اہل بلکہ باطل کے سپرد کر دی تھی 

آپ کا سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کرنے کا کارنامہ اور ایثار، امت کے لیے تا قیامت سرمایہ افتخار ہے اور مسلمانوں کی دو جماعتوں پر احسان عظیم ہے جو لوگ اس صلح پر چیں بجیں ہیں کیا وہ سیدنا حسنؓ سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں؟ اور کیا یہ لوگ آپ سے زیادہ عقلمند ہیں؟ کیا آپ کا یہ اقدام اسلام کے خلاف تھا ؟کیا سیدنا حسنؓ مرکزی اسلامی حکومت کسی دشمن اسلام کے سپرد کر سکتے تھے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔

بلکہ یہ آپ کا اسلام اور مسلمانوں پر احسان عظیم تھا۔ (اقبال اور حب اصحاب و آل: صفحہ 372)

حضرت الاستاذ علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں:

سیدنا حسنؓ نے جب امت کو دو حصوں میں بٹ گئی تھی پھر سے ایک کرنا چاہا تو آپ نے امیر شام سیدنا معاویہؓ سے صلح کر لی اور اس صلح میں آپ کے بھائی حسینؓ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب سلطنت کا اختلاف جاتا رہا تو اب دونوں بھائی پھر سے مدینہ منورہ آباد ہو گئے اور سیدنا حسنؓ کی شہادت کے بعد بھی سیدنا حسینؓ مدینہ منورہ میں ہی رہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ اگر سیدنا معاویہؓ سے کچھ بھی بدگمان ہوگئے ہوتے تو آپ واپس عراق آ جاتے لیکن جتنا عرصہ سیدنا امیر معاویہؓ زندہ رہے آپ کا مسکن مدینہ منورہ ہی رہا اور سیدنا حسنؓ آپ سے اپنے وظائف بھی قبول کرتے رہے اور وہ حالات سے بے خبر نہ تھے (تجلیات آفتاب: جلد 2 صفحہ 179)

شرائط صلح

سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان کس بات پر صلح ہوئی اور آپؓ نے خلافت کی ذمہ داری سیدنا امیر معاویہؓ کو کس طرح سپرد کی تھی اس سے ہم بخاری کے حوالہ سے پہلے بتلا آئے ہیں کہ جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے وفد سے گفتگو کی تو اس میں مال کا ذکر کیا سیدنا امیر معاویہؓ نے ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے اور مال دینے کا بھی وعدہ فرمایا تو آپ بھی صلح کے لیے راضی ہو گئے اور آپؓ کو سیدنا امیر معاویہؓ کی جانب سے عطیات اور وظائف برابر ملتے رہے اور آپؓ نے جس بات کا وعدہ کیا تھا آپؓ نے اس سے بڑھ کر اس وعدہ کو نبھایا تھا جسے ہم آگے بیان کریں گے۔ اس کے علاوہ صلح کی جو شرطیں تاریخ کی مختلف کتابوں میں ملتی ہیں آئیے ہم ان پر سرسری نظر ڈالتے چلیں۔ شیعہ مؤرخ احمد بن داؤد دینوری (282ھ) میں لکھتا ہے:

ولما راى الحسن من اصحابہ الفشل ارسل الى عبداللہ بن عامر بشرائط اشترطها على معاويہ على ان يسلم لہ الخلافه وكانت الشرائط الايأخذ أحدا من أهل العراق يا حنۃ وان يؤمن الأسود والأحمر ويحتمل ما يكون من هفواتهم ويجعل لہ خراج الاهواز مسلما فی كل عام، ويحمل الى أخيہ الحسين بن على فی كل عام الفى الف ويفضل بنى هاشم فی العطاء الصلات على بنى عبد شمس۔ (اخبار الطوال: صفحہ 218)

ترجمہ: جب سیدنا حسنؓ نے اپنے ساتھیوں میں بزدلی دیکھی تو عبداللہ بن عامر کی جانب صلح کے لیے کچھ شرائط ارسال کیں کہ وہ اس پر سیدنا امیر معاویہؓ کو خلافت سپرد کر دیں گے:

1: اہلِ عراق پر دشمنی کی وجہ سے پکڑ نہیں ہوگی۔ 

2: ہر گورے کالے کو عام امان دی جائے گی۔

3: اور ان لوگوں نے اگر کوئی بدگوئی کی تو اسے برداشت کیا جائے گا۔ 

4: اہواز کے علاقے کا خراج سیدنا حسنؓ کے سپرد ہو گا۔

5: سیدنا حسینؓ کو سالانہ 20 لاکھ درہم دیا جائے گا۔

6: عطایا اور صلہ جات میں بنو ہاشم کو بنو عبدشمس پر ترجیح دی جائے گی اور ان کا حق اوپر رکھا جائے گا۔

شیعہ علماء یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ نے اس بات کی بھی شرط لگائی تھی کہ سیدنا امیر معاویہؓ کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدینؓ کے طریقے پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے شیعہ عالم علی بن عیسیٰ اربلی (687ھ) لکھتا ہے:

ھذا ما صالح علیہ الحسن بن علی بن أبی طالب معاويہ بن أبی سفيان: صالحہ على أن يسلم إليه ولايۃ أمر المسلمين على أن يعمل فيهم بكتاب اللہ وسنۃ رسولہﷺ وسيرة الخلفاء وسيرة الخلفاءِ الراشدين (الصالحين) (كشف الغمہ: جلد 2، صفحہ 145 بحار الانوار: جلد 44، صفحہ 65) 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا حسنؓ کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ سب کے سب خلیفہ راشد تھے اور ان سب کی سیرتیں صالح تھیں اور اس لائق تھیں کہ امت ان کے طریقے پر چلے اور ان کی پیروی میں آگے بڑھے۔ آپ نے کھلے بندوں اور ان کے طریقوں کو درست اور نیک کہا ہے اور بتایا کہ آپ کے نزدیک کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدینؓ کی سنت بھی حجت شریعہ ہے اور جو لوگ خلفائے راشدینؓ کے طریقے سے ہٹے ہوئے ہیں ان کا صراط مستقیم پر چلنے کا دعویٰ درست نہیں۔

شیعہ علماء اور بعض رفض زدہ نام نہاد سنی مولویوں کا یہ دعویٰ کہ ان شرائط صلح میں سے ایک یہ بھی تھی کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بعد خلافت واپس سیدنا حسنؓ کو دی جائے گی درست نہیں ہے، افسوس کہ یہ بے پر کی اڑائی ہوئی وہ کہانی ہے جسے اہل سنت تو کجا خود شیعہ کے قدیم علماء اور ان کی قدیم تاریخی کتابیں بھی اس میں ہوا نہیں بھر سکیں اور یہ بات اب تک کسی سند صحیح کے ساتھ اہل سنت کی بھی کسی کتاب میں نہیں ملتی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بعد کے کسی شیعہ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بدنام کرنے کے لیے ان شرائط میں اسے بھی داخل کر دیا تھا۔ فتنہ پرور لوگ اسے سند صحیح کے ساتھ پیش کریں ہم غور کر لیں گے۔ تاہم یہ بات جہاں منقول ہے بے سند ہے اور اگر کہیں سندا منقول ہے تو وہ بھی اس لائق نہیں کہ اس پر اعتراض کی بناء رکھی جائے۔ (41ھ) کا صلح نامہ اگر وہ شخص (عبداللہ بن شوذب) بتائے جو 86ھ میں پیدا ہوا تو کیا اسے مانا جاسکتا ہے؟ اور پھر بتانے والا یہ بھی نہیں بتاتا کہ اس نے کس سے یہ بات سنی ہے؟ اور اس نے کہاں اس صلح نامہ کو دیکھ لیا جس میں یہ شرط بھی موجود تھی!؟ 

2: شیعہ عالم بن عیسیٰ اردبیلی (687ھ) اور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی (1111ھ) نے بحارُ الانوار میں جو شرائطِ صلح نقل کی ہیں اس میں صرف یہ بات ملتی ہے کہ:

صفحہ 4 از 8