سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 3 از 8

سیدنا حسنؓ نے نہ صرف اس کی پوری پاسداری کی بلکہ اس عبوری صلح کو ایک مستقل صلح میں بدل دیا، ادھر آنحضرتﷺ کی بھی ایک پیشن گوئی آپ کے حق میں چلی آ رہی تھی۔ حضرت حسن بصریؒ حضرت ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:

ابنی ھذا سید، ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین من المسلمین (صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 530)

ان ابنی ھذا سید ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین (صحیح بخاری: جلد 3 صفحہ 186)

ان ابنی ھذا سید ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین من المسلمین عظیمتین (بحار الانوار: جلد 43 صفحہ 298)

میرا یہ بیٹا سید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑے گروہوں میں صلح کرائیں گے۔

حضورﷺ نے اس حدیث میں سیدنا معاویہؓ اور ان کی پوری جماعت کو مسلمانوں میں ذکر کیا ہے یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ حضرت علیؓ کی امامت کوئی آسمانی منصب نہ ہو، مامور من اللہ کا انکار کفر ہے اور اس کے محارب کبھی مسلمان نہیں سمجھے جاتے۔ پھر حضورﷺ نے مسلمین کے ایک لفظ میں دونوں گروہوں کو یکساں ذکر فرمایا ہے اگر ان میں کوئی گروہ ”فئتہ باغیہ“ ہوتا تو حضورﷺ جو افصح العرب والعجم تھے ضرور ان دو میں فرق کرتے، موقع بیان میں عدم بیان، بیان عدم کا فائدہ دیتا ہے۔

اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ حضورﷺ اس صلح سے سے خوش تھے اگر یہ صلح بالکل ایک نمائشی صلح ہوتی اور اگر کوئی گروہ اندر سے اس میں مخلص نہ ہوتا تو یہ نہ ہو سکتا تھا کہ حضورﷺ اس برائے نام اور محض ایک نمائشی صلح پر اس طرح خوشی کا اظہار فرمائیں۔

اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص سیدنا حسنؓ اور سیدنا معاویہؓ کی اس صلح کا خوشی سے ذکر نہیں کرتا، وہ سید کہلانے کا مستحق نہیں (اس کا خاندان نبوت سے محبت کا دعویٰ جھوٹا ہے) کیونکہ حضورﷺ نے اس کار خیر پر سیدنا حسنؓ کو سید ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے۔

(خلفائے راشدین: جلد 2، صفحہ 457) 

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ (1420ھ) لکھتے ہیں:

میں اپنے تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں صاف کہتا ہوں کہ سیدنا حسنؓ کا اقدام بالکل صحیح تھا جو انہوں نے سیدنا معاویہؓ کے معاملہ میں کیا تھا اور پھر خود آنحضرتﷺ نے سیدنا حسنؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا تھا کہ ”میرا یہ بیٹا سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا“ یہ بات سیدنا حسنؓ کے لیے ایک خبر نہیں تھی بلکہ آپ کے لیے ایک وصیت تھی، منشاء رسول تھا، اللہ کے رسولﷺ کا منشاء بھی اور پیارے نانا جان کا منشاء بھی۔ چنانچہ سیدنا حسنؓ نے اس کو خالص حکمِ نبویﷺ سمجھا اور اس کے مطابق جو اقدام کیا وہ بالکل صحیح تھا کہ معاملہ حضرت معاویہؓ کے ساتھ تھا وہ صحابی تھے، کاتب وحی تھے، قریبی رشتہ دار تھے اور کوئی بات مؤجب خروج اور تلوار اٹھانے کی نہ تھی ان کی مخالفانہ فوجی اقدام کا نتیجہ خون ریزی کے سوا کچھ نہ ہوتا ان کو جب بعض جوشیلے لوگوں نے طعنہ دیا کہ یہ ننگ و عار کی بات ہے تو فرمایا کہ تم جو چاہو کہو مگر یہ عام جہنم کی آگ سے تو بہتر ہے: العار خیر من النار۔ (خطبات علی میاں: جلد 5 صفحہ 314) 

معروف ایرانی شیعہ اسکالر اور محقق ڈاکٹر موسیٰ الموسوی (جن کے سابق ایرانی سربراہ خمینی اور ان کے صاحبزادے مصطفیٰ خمینی کے ساتھ قریبی روابط تھے) نے سیدنا حسنؓ کی صلح کو انقلابی اقدام کہا ہے موصوف لکھتے ہیں:

جہاں تک امام حسنؓ کا تعلق ہے جو شیعہ کے دوسرے امام تھے تو وہ بھی تقیہ اور لوگوں کو فریب دینے میں سب سے زیادہ پرہیز کرنے والے تھے معاویہؓ کے ساتھ ان کی صلح اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ امام حسنؓ کا صلح کر لینا انقلابی اقدام تھا اس زمانے کی رائے عامہ جو امام کو گھیرے ہوئی تھی کے خلاف تھا، چنانچہ امام حسنؓ کو بہت سے ساتھیوں کی جانب سے جو صلح نہیں چاہتے تھے کھلی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ سلیمان بن صرد نے جو کہ حضرت علیؓ کے بڑے حامیوں میں سے تھے امام حسنؓ کے کو یہ کہ کر مخاطب کیا السلام علیک یا مذل المئومنین اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے، اس صلح کے مخالفین متشدد اور طاقتور تھے امام کو ان کی جانب سے بہت کچھ برداشت کرنا پڑا لیکن اس سب کچھ نے امام کو کمزوری دکھانے پر مائل نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس مخالفت کا بہادروں کی طرح مقابلہ کیا اب تم خود سوچ لو کہ اگر سیدنا حسنؓ کے دل میں تقیہ کا کوئی مقام ہوتا تو کیا وہ سیدنا معاویہؓ سے صلح کرتے؟

(اصلاح شیعہ اردو ترجمہ الشیعہ والتصحیح: صفحہ 99 طبع 1990ء)

سیدنا حسنؓ نے صلح کیوں کی

نفیر حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسنؓ سے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ خلافت کے خواہاں ہیں آپ نے فرمایا:

کانت جماجم العرب بیدی یسالمون من سالمت ویحاربون من حاربت فترکتھا ابتغاء وجہ اللہ وحقن دماء المسلمین۔ (الذریة الطائرة النبويۃ: صفحہ 71 للدولابی، البدایہ: جلد 8 صفحہ 42)

عربوں کی کھوپڑیاں میرے ہاتھ میں تھیں، جس سے میں صلح کرتا وہ صلح کرتے اور جسے میں جنگ کرتا وہ جنگ کرتے، لیکن میں نے اللہ کی خوشنودی اور مسلمانوں کے خون ریزی سے بچانے کی خاطر خلافت سے دستبرداری کر لی۔

شیعہ محقق ملا علی بن عیسیٰ الاربلی سے بھی سنیے:

وعن جبیر بن نفیر عن ابیہ قال قدمت المدینۃ فقال الحسن بن علی کانت جماجم العرب بیدی یسالمون من سالمت ویحاربون من حاربت فترکتھا ابتغاء وجہ اللہ وحقن دماء المسلمین (کشف الغمہ: جلد 2 صفحہ 44)

شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ مرحوم کہتے ہیں

آں یکے شمع شبستان حرم

حافظ جمیعت خیر الامم

اور ہاں وہ شبستان حرم کی ایک یگانہ روزگار شمع جو کہ خیر الامم (امت محمدیہ) کی جمعیت و وحدت کے محافظ سے (یعنی سیدنا حسنؓ) جو امت کی خاطر سیدنا امیر معاویہؓ کے حق میں دستبردار ہو گئے اور صلح کر لی تاکہ امت کا رشتہ وحدت قائم رہے۔

تا نشید آتش پیکار وکیں

پشت پا زد برسر تاج و نگیں

تاکہ اس صلح کی برکت سے امت میں جنگ و جدل کی آگ کے شعلے بجھ جائیں سو آپ نے تاج و تخت کے سر پر پاؤں کی ٹھوکر لگائی۔

صفحہ 3 از 8