سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟ - ردِ رافضیت…

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 8

تاریخ کے ان دو نازک موڑ پر سیدنا حسنؓ کا مؤقف آپ کے سامنے ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو بہت نرم خو اور صلح پسند بنایا تھا اور آپؓ حضور اکرمﷺ کی رحمت و الفت کی شان کے مظہر تھے۔ پھر حضورﷺ نے اپنے اس ارشاد میں بھی اس کی طرف اشارہ کر دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا اور آپ کی یہ پیشن گوئی پوری ہو کر رہی۔

امام ابو حسن احمد بن عبداللہ العجلیؒ (261ھ) فرماتے ہیں کہ جس طرح حضورﷺ نے فرمایا تھا اسی طرح وہ کر رہا۔

قال العجلی: وکان کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (الثقات: صفحہ 116)

قاضی ابوبکر بن العربیؒ (543ھ) فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی بھی یہی آرزو اور تمنا تھی کہ ایسا ہو جائے اور پھر ایسا ہی ہوا:

وذلک لتحقیق رجاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔(العواصم من القواصم: صفحہ 200)

شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) محدث ابن بطال (449ھ) کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کر لی اور خلافت کا معاملہ آپ کے حوالہ کر دیا تو آپ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے جن شرائط پر بیعت کی ان میں سے یہ بھی تھا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو قائم رکھا جائے گا (وبایعہ علی اقامہ کتاب اللہ وسنۃ نبیہ)

سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کو تین لاکھ درہم دیے اور ایک ہزار پوشاک کے کپڑے، تیس غلام اور ایک سو اونٹ دیے پھر سیدنا حسنؓ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔(فتح الباری بشرح البخاری: جلد 13صفحہ 79طبع بیروت) 

سیدنا حسنؓ کے مدینہ منورہ چلے جانے کے بعد بھی سیدنا معاویہؓ سے ان کے محبانہ تعلقات قائم رہے تھے سیدنا معاویہؓ ان کے لیے مدینہ منورہ سے تحائف اور رقوم بھیجا کرتے تھے اور کبھی سیدنا حسنؓ خود بھی سیدنا معاویہؓ کے پاس آ جاتے تھے، جناب بریدہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب سیدنا معاویہؓ کے پاس آئے تو سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ: 

دخل الحسن بن علی معاویہ، فقال: لاجیزنک بجائزة لم یجزھا احد کان قبلی فاعطاہ اربع مائة الف۔(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 154تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 370، لابن عساکر)

میں آج آپ کو ایسا عطیہ دوں گا کہ اس جیسا اس سے پہلے کسی کو نہیں دیا اور نہ کسی کو اس طرح بعد میں دوں گا، چنانچہ آپ نے انہیں چار لاکھ درہم دیے جسے سیدنا حسنؓ نے قبول فرما لیا۔

امام بیہقیؒ (485ھ) نے امام شعبیؒ (104ھ) سے نقل کیا ہے کہ جب ان دونوں بزرگوں کے درمیان صلح ہو گئی تو سیدنا معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ سے کہا کہ آپ مسلمانوں کے اس اجتماع میں معاہدہ کے بارے میں خود ہی ارشاد فرما دیں۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور حمد و ثناء کے بعد اپنے خطبے میں فرمایا کہ:

اللہ تعالیٰ نے ہمارے اولین آدمی کے ذریعہ تمہیں ہدایت دی اور ہمارے آخری آدمی کے ذریعے تمہارے جان و مال کی حفاظت کی، حقیقت میں تو بہترین پونجی تقویٰ ہے اور بدترین لاچاری بداعمالی ہے۔(سیرت حلبیہ: جلد 3 صفحہ353)

جہاں تک خلافت کے معاملے میں میرے اور معاویہ کے مابین اختلاف ہوا تھا اس بارے میں وہ زیادہ حقدار ہیں یا میں اس کا حقدار ہوں۔ اگر تو وہ حقدار ہیں تو میں خلافت سے دستکش ہو چکا ہوں اور سیدنا معاویہؓ کو اپنا حق مل چکا ہے اور اگر میں اس کا حقدار تھا تو سن لو، کہ میں اہلِ اسلام کی بھلائی کے لیے اور ان کی خون ریزی کی حفاظت کے لیے اپنا حق ترک کرتا ہوں اور پھر استغفار فرما کر ممبر سے اترے۔

الا وان ھذا الامر الذی اختلفت فیہ انا ومعاویة حق لامری کان احق بہ منی او حق لی ترکته لمعاویة ارادہ اصلاح المسلمین وحقن دمائھم، الخ (سنن کبریٰ: جلد 8 صفحہ 173، حلیۃ الاولیاء: جلد 2صفحہ 46)

قاضی ابوبکر بن العربیؒ (543ھ) اس حدیث پر فرماتے ہیں کہ

ھذا الحدیث فی ذکر الحسن بالبشار لہ والثناء علیہ، لجریان الصلح بین یدیہ وتسیلم الامر لمعاویۃ عقد منہ لہ۔ (العواصم من القواصم: صفحہ 201)

اس حدیث میں سیدنا حسنؓ کے لیے نبوی بشارت اور ان کے لیے نہایت عمدہ تعریف ہے اس لیے کہ آپ کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان صلح ہو گئی اور خلافت سیدنا امیر معاویہؓ کے سپرد کر دی گئی انہوں نے آپ کے ہاتھ بیعت کر لی (اس طرح مسلمانوں کے مابین ہونے والی جنگ کا خاتمہ ہو گیا) 

حضرت الاستاذ حجۃ الاسلام حضرت علامہ خالد محمود صاحبؒ ایک بحث میں لکھتے ہیں:

سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کرنا ہرگز غلطی نہ تھا بلکہ اسی مصالحت نے انہیں سید ہونے کی شان سے ممتاز فرمایا خود حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ:

میرا یہ بیٹا سید ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں اصلاح فرمائیں گے۔ (الحدیث)

یہاں لسان نبوت سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے لیے بھی مسلمان ہونے کے الفاظ وارد ہیں، بس یہ اختلافات کوئی کفر و اسلام کے اختلافات نہ تھے، محض انتظام و معاملات کے تھے غور کیجیے کہ سیدنا حسنؓ کا یہ عمل اگر کسی طرح غلط ہوتا تو حضورﷺ اس پر انہیں سید ہونے کی بشارت نہ دیتے۔

عن ابی جعفر قال: واللہ الذی صنعہ الحسن ابن علی علیھما السلام کان خیر الھذہ الامة مما طلعت الشمس،(بحار الانوار: جلد 44 صفحہ 25، الروضۃ من الکافی: جلد 2 صفحہ 252)

سیدنا حسنؓ نے جو کچھ کیا وہ اس امت کے لیے ہر اس چیز سے بہتر تھا جس پر کبھی سورج طلوع ہوا (عبقات: جلد 1 صفحہ 55)

حضرت علامہ حسنؒ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: 

سیدنا حسنؓ کو جو سیاسی حالات اپنے والد سے وراثت میں ملے اور بطور خلیفہ پنجم آپ نے اپنی راہ میں جو مشکلات دیکھیں ان میں پہلے نمبر پر اہل کوفہ کی انتہا درجے کی ایذا رسانیاں ہیں۔

حضرت علیؓ اپنی شہادت سے ایک سال پہلے سیدنا معاویہؓ سے عبوری صلح کر چکے تھے، سیدنا حسنؓ نے یہی سیاسی سطح وراثت میں پائی تھی، آپ کا انتخاب شوریٰ سے عمل میں آیا۔ سیدنا علیؓ نے انہیں نامزد نہ کیا تھا لیکن حضرت علیؓ کے جانشین ہونے کی حیثیت سے آپ پر اس معاہدے کی پابندی لازم تھی جو عام الہدنہ میں وقت کے ان دو بڑوں میں ہوا تھا۔ 

صفحہ 2 از 8