مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 12

جواب: یہ بھی بلاوجہ اعتراض ہے کیونکہ عطایا لینے والوں میں امیر و غریب سبھی تھے۔ تاریخ زائد ہو رہی تھی مرکز سے جزیہ کا مال آتے آتے دیر لگ جاتی اس لیے صدقات یمن سے ادائیگی کی اجازت دی اور یہ ایک مد کا دوسری سے قرض لینا تھا کہ عطیات فنڈز سے یتامیٰ و مساکین کو اتنے مال کی ادائیگی کی جاتی۔ چونکہ ناسمجھی سے لوگوں نے احتجاج کیا تو اس کا بھی احترام کیا گیا۔ آج بھی حکومت کے مختلف ادارے اور شعبے افسرانِ بالا کی اجازت سے دوسری مدوں سے قرض لے کر اپنا حساب کتاب کر لیتے ہیں پھر اپنے فنڈ سے متعلقہ محکمہ کو ادائیگی کر دیتے ہیں اس میں کسی کی حق تلفی نہیں ہوتی۔

سوال نمبر 641: حضرت حجرؒ بن عدی کا مقام مذہب اہلِ سنت میں کیا ہے؟ کیا وہ شہید مظلوم نہ تھے؟

جواب: حضرت حجرؒ کوفہ کے نیک زاہد اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں سے تھے۔ صحابی نہ تھے تابعی تھے۔ لیکن بنو امیہ کے سخت خلاف تھے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر صلح و بیعت سے ناراض تھے۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت تڑوانی چاہی مگر آپؓ نے فرمایا: 

انا قد بایعنا و عاھدنا ولا سبیل الی نقض بیعتنا

(اخبار الطوال الدینوری: صفحہ، 220)

ترجمہ: ہم نے پکی بیعت اور معاہدہ کیا ہے ہم بیعت کسی صورت میں نہیں توڑتے۔ 

پھر ان کے ساتھ بہت سے شرپسند مل گئے اور حکومت کے خلاف کاروائیوں میں لگے رہتے۔ بقول ابنِ جریرؒ و ابنِ کثیرؒ یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بدگوئی کرتے اور ان کے بارے میں ظالمانہ باتیں کرتے اور امراء پر عیب لگاتے تھے اور اس کے معاملے میں غلو کرتے تھے۔

(البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 54)

پھر ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ گورنر کوفہ کو ڈرایا دھمکایا تو انہوں نے معاف کر دیا۔ پھر سات سال بعد زیاد کوفہ کا گورنر ہوا اور اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کی قافلوں پر پھٹکار کی۔ تو سیدنا حجرؒ نے حسبِ معمول کھڑے ہو کر برا بھلا کہا۔ (ابنِ سعد) زیاد نے اس وقت کچھ نہ کہا مگر تنہائی میں بلا کر خوب سمجھایا زبان بند رکھنے کا حکم دیا۔ اب شریر شیعہ ان کے گرد جمع ہو گئے اور زیاد کے خلاف خوب محاذ بنا لیا۔ برسرِ عام گورنر کو اور حامیانِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتے۔ پھر ایک مرتبہ مسجد میں خطبہ کے دوران نمازیوں اور گورنر پر پتھراؤ کیا تو گورنر نے بڑی لڑائی کے بعد ان لوگوں کو گرفتار کیا۔ آزادانہ عینی 40 گواہیاں اس مضمون کی ثبت ہوئیں۔

سیدنا حجرؒ نے اپنے گرد بہت سے جتھے جمع کر لیے ہیں اور خلیفہ کو کھلم کھلا برا کہا ہے اور امیر المؤمنین کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دی ہے اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خلافت کا آلِ آبی طالب کے علاوہ کوئی مستحق نہیں انہوں نے ہنگامہ برپا کر کے امیر المؤمنین کو نکال باہر کیا۔ (تاریخِ طبری: جلد، 4 صفحہ، 193 تا 201)

ان گواہیوں میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ، حضرت کثیر بن شہاب رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ، حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور ابو بردہ رحمۃ اللہ موسیٰ بن طلحہٰ رحمۃ اللہ اسحاق بن طلحہٰ رحمۃ اللہ جیسے فقہاء و تابعین بھی تھے۔ 

ظاہر ہے ان کا جرمِ بغاوت ثابت ہو چکا تھا اور باغی کی سزا موت ہے۔ تاہم سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مزید تردد کیا اور گورنر کوفہ کو لکھا کہ قتل کی نسبت معاف کرنا افضل جانتا ہوں مگر زیاد نے لکھا اگر آپؓ کو شہر کوفہ کی ضرورت ہے تو حجرؒ اور ان کے ساتھیوں کو واپس نہ بھیجیے۔ پھر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے چھ افراد کو تو سفارش پر چھوڑ دیا اور آٹھ کو جلاد کے حوالے کر دیا۔ بعد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سفارشی خط آیا اور قاصد جلاد کے پاس گیا۔ تو حجرؒ قتل کیے جا چکے تھے۔ رحمۃ اللہ (البدایہ مختصراً) 

اس سب تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضرت حجر بن عدی کندی رحمۃ اللہ باقاعدہ جرم بغاوت کی بناء پر قتل کیے گئے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کوئی بڑی خون ریز بغاوت برپا کر دیتے۔ شرعی جزا پا کر پاک ہو گئے۔

سوال نمبر 642: کیا کبیرہ گناہ کرنے والا امیر المؤمنین ہو سکتا ہے؟

جواب: حدیث مشہور ہے۔ ولا عبد للناس من امیر بر او فاجر۔ نیک یا بد امیر کا لوگوں پر ہونا ضروری ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بھی یہی ہے لیکن حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا حجرؒ بن عدی کے قتل کرنے میں گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ کہا جائے گا کیونکہ انہوں نے اسلامی تعزیراتی سزا نافذ فرمائی۔ اگر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے متوقع بغاوت کو دبانے کے لیے جنگِ جمل اور صفین میں ہوا تو سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ثابت شدہ بغاوت (مع شہادات) پر اگر صرف آٹھ افراد کو قتل کیا تو کوئی جرم نہیں کیا انتظامی امور میں قانون حاکم کی طرف داری کرتا ہے۔ 

سنہ 1977ء کی قومی اتحاد کی تحریک میں بھٹو حکومت نے ہزاروں افراد کو خاک و خون میں تڑپایا مگر قانون نے ان سب واقعات سے درگزر کر کے صرف احمد رضا قصوری کے والد مرحوم کے خفیہ اور سازشی قتل میں بھٹو کو گرفتار کرا کر سولی پر لٹکایا۔

سوال نمبر 643: اگر نہیں ہو سکتا تو شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ نے تحفہ اثناء عشریہ میں اعتراف کیا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ مرتکبِ کبیرہ تھا آپ اسے خلیفہ کیوں مانتے ہیں؟

جواب: گو خلافت و امارت کے لیے عصمت شرط نہیں جیسے حدیث بالا گزری تاہم شاہ صاحب کا یہ قول جنگِ صفین کی ظاہری شکل پر مبنی ہے کہ شاہ صاحب کے ہاں وہ ناجائز اور گناہ تھی۔ یہ مطلب نہیں کہ اس اجتہادی اقدام اور انتظامی معاملات کے علاوہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی ذاتی سیرت و کردار میں عیب دار یا مرتکبِ کبیرہ تھے جیسے شیعہ تاثر دے رہے ہیں اور جنگِ صفین میں مقابلہ کا عذر اور اجتہاداً مجبوری ہم واضح کر چکے ہیں اور آپؓ کی خلافتِ صحیحہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری کے بعد ہے۔ اس 20 سالہ دور میں کسی کبیرہ کا ارتکاب نہیں ہوا تو ہم امیر المؤمنین اور خلیفہ بجا مانتے ہیں۔

صفحہ 9 از 12