مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 12

دوسری یہ ہے: دیة ذمی دیة مسلم کہ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔ (سنن الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 102)

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ اور ابوسفیان ثوریؒ کا مسلک اسی حدیث پر مبنی ہے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا پہلی حدیث پر ہے۔ دراصل حضرت امیرِ معاویہؓ نے دو مختلف حدیثوں میں بہترین تطبیق دی کہ قاتل سے تو دیت پوری مسلمان والی لی۔ مگر مقتول کے ورثاء کو حدیثِ اول کے مطابق آدھی دی اور آدھی بیت المال میں جمع کر دی کہ قتل سے بیت المال کا بھی نقصان ہوا اور خراج کی آمدنی وغیرہ گھٹ گئی۔ 

ایک مجتہد کو علمی انداز سے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے اختلاف کا حق ہے مگر اسے قانون کی بالاتری کا خاتمہ کہنا یا خلافِ سنت قانون بنانے کا الزام لگانا غلط ہے۔ (کذا فی معاویہؓ و تاریخی حقائق: صفحہ، 20)

سوال نمبر 635: قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کی بدعت سب سے پہلے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کی؟ 

جواب: حضرت امیرِ معاویہؓ دشمنی میں بات کا پتنگڑ بنایا گیا ہے ورنہ ضرورت کے موقع پر خود رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ کیا۔ سنن ابی داؤد: جلد، 2 صفحہ، 152 پر باب ہے باب الیمین والشاہد اور اس میں سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے قسم اور ایک گواہ پر (ایک دفعہ) فیصلہ کیا تھا۔

ائمہ ثلاثہؒ اس پر فیصلہ کے قائل ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ نہیں کیونکہ کتاب اللہ میں دو گواہ ضروری ہیں۔ 

حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف راوی نے پہل کی یا لغوی بدعت کی نسبت اس لیے کی ہے کہ خلفاء راشدینؓ کو ایسے فیصلے کی ضرورت نہ پڑی تھی۔

سوال نمبر 636: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت لینے کے لیے سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کو ایک لاکھ درہم بھیجے اس نے انکار کیا۔ رشوت لینا دینا کیسا ہے؟

جواب: رشوت لینا دینا حرام ہے مگر رشوت کی تعریف یہ ہے کہ سرکاری افسر کے ذمے بحیثیتِ عہدہ ایک کام کرنا ضروری ہو اور وہ لیے بغیر نہ کرے۔ یا کوئی شخص اس سے ناجائز کام نکالنے کے لیے رقم دے۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نہ حاکم تھے نہ ان کے ذمے بیعت کرنا ضروری تھا کیونکہ انہوں بیعت نہیں کی تب بھی یزید کو خلیفہ مان لیا گیا تو یہ پیشکش رشوت کی مد میں نہ آئے گی۔ ہاں تالیفِ قلب اور حسنِ تعلقات بنانا کہہ سکتے ہیں جیسے کسی شخص کو مسلمان کرنے کے لیے یا اسلام پر برقرار رکھنے کے لیے زکوٰۃ خرچ کرنے کی مد قرآن میں مذکور ہے اور اسے قبولِ اسلام پر رشوت دہی نہ کہا جائے گا۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کمالِ تقویٰ سے اس میں حصہ لینا اور زیر بار احسان ہونا گوارہ نہ کیا۔ رضی اللہ عنہ

سوال نمبر 637: مسوّٰی شرح مؤطا میں ہے کہ سرکاری عطیات میں سب سے پہلے زکوٰۃ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے وصول کی۔ کیا یہ بدعت ہے کہ نہیں؟

جواب: سرکاری عطیات بھی لینے والے کا مال مملوک بن جاتا ہے۔ سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ مسوّٰی میں اسی جگہ ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں: عطیہ مفید مال ہے۔ زکوٰۃ اس میں تب ہو گی کہ سال گزر جائے اسے بہیقی نے سنن میں ذکر کیا ہے۔ پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

انما اخذ ابوبکر و عثمان من العطایا لما عندھم من النقود ما حال علیه الحول (مسوّٰی: جلد، 1 صفحہ، 224)

ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی سرکاری عطایا میں لوگوں سے زکوٰۃ لی تھی کیونکہ وہ اس نقدی سے مل گئے جن پر سال گزر چکا تھا۔

معلوم ہوا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کا فعل اتباعِ اسلام اور اتباعِ خلفاء ہے بدعت نہیں امام زہری رحمۃ اللہ کا اسے اوّل کہنا ناواقفیت ہے۔

سوال نمبر 638: مولوی مودودی خلافت و ملوکیت میں لکھتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیمت میں سے سونا چاندی اپنے لیے نکالنے کا باقی شرع پر تقسیم کرنے کا حکم دیا؟

جواب: پانچوں حوالوں میں کتربیونت کی گئی ہے ورنہ البدایہ والنہایہ میں صراحت ہے:  

یعنی الذہب والفضة یجمع کلہ من ھذہ الغنیمة لبیت المال، یعنی مالِ غنیمت کا یہ سونا چاندی بیت المال کے لیے اکٹھا کیا جائے۔ اور پھر یہ حکم صراحۃً نہیں ہے بلکہ زیاد نے لکھا کہ امیر المؤمنین کا خط آیا ہے۔ یہ تحقیق اپنی جگہ باقی ہے کہ واقعی خط بھی آیا تھا یا زیاد نے از خود منسوب کر کے حکم دیا۔

سوال نمبر 639: اگر بیت المال کے لیے نکالنا تھا تو بھی قرآن و سنت کے خلاف ہے کہ زمانہ رسولﷺ‏ سے زمانہ سیدنا علیؓ تک سونا چاندی مال سے علیحدہ نہ کیا گیا؟

جواب: ہو سکتا ہے کہ اس وقت بیت المال میں ان دو چیزوں کی کمی ہو اور بطورِ زر ان کا سٹیٹ بنک میں رہنا ضروری ہے۔ اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو علم ہو کہ وہ سب مال کا خمس بنتا ہے۔ زیادہ نہیں تو ایسا انتظامی حکم دیا۔ مگر فی نفسہٖ وہ سونا چاندی خمس سے زائد تھا۔ اسی لیے حضرت حکم و عمرو رضی اللہ عنہما نے اس حکم پر عمل نہ کیا۔

اسے کتاب و سنت کے خلاف کہنا جرأتِ دشمنانہ ہے گو سابق کسی خلیفہ کو اس کی ضرورت پیش نہ آئی تھی تاہم عقلی اور فقہی اعتبار سے یہ ناجائز نہیں ہے اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے کہ زکوٰۃ کے مصارف ثمانیہ میں سے صرف ایک مد میں زکوٰۃ خرچ کی جائے یا جب مختلف نصابوں کی نکال لی جائے تو کسی خاص نصاب میں سے (سونا چاندی یا غلہ کپڑا یا تجارتی سامان) تمام نصابوں کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو سب کے ہاں درست ہے۔ اسی طرح مختلف مدات کے مال سے سب کا خمس کسی خاص مد سے کمانڈر انچیف یا خلیفہ نکال کر بیت المال میں دے دے اور بقیہ تقسیم کر دے تو درست ہے۔

سوال نمبر 640: کتاب الاموال میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یمن کی زکوٰۃ سے لوگوں کو عطیات دینے کا حکم دیا لوگوں نے احتجاج کیا کہ ہم یتیموں کا مال نہیں لیتے تب عطایا بھیجے گئے؟

صفحہ 8 از 12