مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 12

1: کتاب احتجاج جلد 2 صفحہ 471 میں روایت ہے کہ جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ پر صلح کر لی۔ لوگ حاضر ہوئے اور بعضوں نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے پر آپؓ کو ملامت کی۔ حضرت نے فرمایا تم پر افسوس ہے تم نہیں جانتے کہ میں نے تمہارے لیے کیا اچھا کام کیا۔ خدا کی قسم جو میں نے کیا وہ میرے شیعوں کے لیے بہتر ہے:

آیا نمی دانید کہ ہیچک ازمانیست مگر آنکہ درگردن او بیعتے از خلیفہ جورے کہ در زمان اوست واقع میشود مگر قائم ما۔ (جلاء العیون: صفحہ، 261 از ملا باقر علی محلبسی و منتہی الامال قمی: جلد، 1 صفحہ، 331)

ترجمہ: کیا تم نہیں جانتے کہ قائم مہدی کے سوا ہم سب شیعہ امام اپنے اپنے زمانے کے خلیفہ جور کی بیعت اپنی گردن میں ڈالتے ہیں۔ 

2: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوراً ان کی شرائط کو منظور کر لیا اس کے بعد انہوں (حضرت حسن رضی اللہ عنہ) اور ان کے ہمراہیوں نے بھی آ کر بیعت کر لی۔ حضرت حسنؓ نے حضرت امیرِ معاویہؓ سے کہا آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے اصرار نہ کریں۔ آپ کی بیعت کرنے کے مقابلے میں ان کا اپنا فخر عزیز تر ہے یہ سن کر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے لیکن بعد میں پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔ (تاریخِ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 458 از اکبر شاہ نجیب آبادی)

سوال نمبر 631، 632: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے حکومت سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کن شرائط پر کاربند رہنے کا تحریری عہد کیا۔ شرائطِ صلح کی نقل مؤثقہ شائع کی جائے؟

جواب: شرائطِ صلح: مختلف تاریخوں میں شرائط کی دفعات و تفصیلات میں اختلاف ہے دنیوری کا بیان اس باب میں زیادہ مستند ہے اور قرین قیاس بھی معلوم ہوتا ہے. اس کے بیان کے مطابق مصالہت کی دفعات یہ تھی: 

1: کسی عراقی کو محض پرانی عداوت کی بناء پر نہ پکڑا جائے۔ 2: بلا استثناء سب کو امان دی جائے۔ 3: اہلِ عراق کی بد زبانیوں کو انگیز کیا جائے۔ 4: دارالجرد کا پورا خراج حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے مخصوص کیا جائے۔ 5: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دو لاکھ سالانہ دیئے جائیں۔ وظائف میں بنی ہاشم کو بنو امیہ پر ترجیح دی جائے گی۔ 

سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے بلا کسی ترمیم کے یہ تمام شرطیں منظور کر لیں اور اپنے قلم سے اقرار نامہ لکھ کر اس پر مہر کر کے اکابرِ شام کی شہادتیں لکھوا کر سیدنا عبید اللہ بن عامر کے ذریعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجوا دیا۔

(اخبار الطوال: صفحہ، 231 و طبری بحوالہ تاریخ الاسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 308)  

شیعہ کی جلاء العیون صفحہ 254 اور منتہی الآمال صفحہ 230 پر ہے: 

سیدنا حسنؓ بن سیدنا علیؓ نے حضرت امیرِ معاویہؓ بن سیدنا ابو سفیانؓ کے ساتھ صلح کی ہے کہ حضرت حسنؓ اس کا مقابلہ نہ کریں گے بشرطیکہ:

1: وہ لوگوں کے درمیان کتابِ خدا، سنتِ رسولﷺ‏ و سیرتِ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے مطابق حکومت کریں۔ 

2: اپنے بعد کسی شخص کو امرِ خلافت کے مقرر نہ کریں۔ 

3: شام، عراق، حجاز، یمن کے لوگ جہاں بھی رہیں اس کی گرفت سے بے فکر رہیں۔ 

4: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب اور شیعہ اپنی جان و مال اور زن و اولاد سمیت محفوظ رہیں گے۔

ان شرطوں پر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے عہد و پیمان لیا گیا۔ (حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ ان شرائط پر کاربند رہے تبھی تو حضرت حسنؓ نے مقابلہ نہ کیا۔) ولی عہدی خود نہ کی تھی بعض عمال کے مشورے اور پھر سب کی تائید سے کی تاکہ جھگڑا نہ پیدا ہو۔

سوال نمبر 633: کافر و مسلم کے مابین وراثت کا مسئلہ، سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سنت کو بدلا، وہ کیوں محترم ہے؟

جواب: مولانا تقی عثمانی قاضی وفاقی شرعی کورٹ کی کتاب حضرت امیرِ معاویہؓ اور تاریخی حقائق بازار سے منگوائی۔ بلفظہٖ حوالہ غلط ہے۔ انہوں نے اس مفہوم کی عبارت البدایہ سے نقل کر کے مولانا مودودی کے استدلال کی تغلیط کی ہے۔ پھر جواب یہ فرماتے ہیں: واقعہ اصل میں یہ ہے کہ یہ مسئلہ عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف فیہ رہا ہے۔ اس بات پر تو اتفاق ہے کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا لیکن اس میں اختلاف ہے کہ مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس اختلاف کی تشریح علامہ بدرالدین عینی کی زبانی سنیے: 

رہی یہ بات کہ مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے یا نہیں۔ سو عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قول تو یہی ہے کہ وہ وارث نہ ہو گا اور اس کو ہمارے علماء (حنفیہ) اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے اختیار کیا ہے لیکن یہ استحسان ہے۔ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ وارث ہو اور یہی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے اور اسی کو مسروق، حسن، محمد بن الحنفیہؒ اور محمد بن علی بن حسینؓ (شیعہ کے سیدنا باقر رحمۃ اللہ) نے اختیار کیا ہے۔ (سیدنا امیرِ معاویہؓ: صفحہ، 15 16) 

مسئلہ خالص فقہی اور قانونی ہے اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اختلاف میں تنہا نہیں بلکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے اعلم الحلال والحرام صحابی اور سیدنا باقرؒ جیسے فقیہ تابعی بھی آپ کے ہم نوا ہیں لہٰذا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنت کا مخالف یا بدعت کا مرتکب نہ کہا جائے۔

سوال نمبر 634: معاہد کی دیت حضرت امیرِ معاویہؓ نے کامل بنا کر آدھی خود لے لی فیصلہ خلافِ سنت ہوا۔

جواب: زہری کے قول میں یہ صراحت ہے والقی النصف فی بیت المال کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے آدھی مقتول کے وارثوں کو دی اور آدھی بیت المال میں داخل کی۔ (سنن بہیقی: جلد، 8 صفحہ، 108)

تو خود لینے والی بات غلط ثابت ہوئی پھر امام زہریؒ اس کی نسبت صرف سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معاہد کی دیت کے بارے میں آنحضورﷺ‏ سے مختلف روایتیں مروی ہیں اس لیے یہ مسئلہ عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف فیہ چلا آ رہا ہے۔ 

ایک حدیث یہ ہے: عقل الکافر نصف دیة المسلم (احمد، نسائی، ترمذی) 

صفحہ 7 از 12