مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 12

ومعاویۃ تجعله کاتبا بین یدیک قال نعم تؤمر لی حتی اقاتل الکفار کما کنت اقاتل المسلمین قال نعم۔ 

ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اپنا کاتب (وحی و خطوط) بنا دیں۔ حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا ہاں بنا دیا۔ مجھے امیرِ لشکر بنائیں کہ کفار سے جنگ کروں جیسے مسلمانوں سے کرتا تھا آپﷺ‏ نے فرمایا۔ ہاں بنا دیا۔

سوال نمبر 624: مدارج النبوۃ میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتبِ وحی ہونا ثابت نہیں؟

جواب: غلط الزام ہے۔ آپؓ کاتبِ وحی تھے۔ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

1: ایک خصوصیت آپؓ کی یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے کاتبوں میں سے تھے جیسے مسلم وغیرہ میں صحیح روایت ہے۔ 

2: ایک حدیث میں ہے جس کی سند حسن ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نبی کریمﷺ‏ کے سامنے لکھا کرتے تھے۔

3: ابو نعیم کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے کاتبوں سے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اچھی عمدہ کتابت والے فصیح زبان اور بردبار و معزز تھے۔

4: مدائنی کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ صرف وحی لکھتے تھے اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ آپﷺ‏ اور دیگر عربوں کے درمیان وحی وغیرہ کی کتابت کرتے تھے۔ وہ خدا کی وحی پر رسول اللہﷺ کے آمین تھے یہ بلند مرتبہ کوئی معمولی نہیں ہے۔ (تطہیر الجنان: صفحہ، 10) ممکن ہے صاحبِ مدارج النبوۃ کا یہی مطلب ہو کہ وہ صرف کاتبِ وحی نہ تھے پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے۔

5: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے سامنے لکھا کرتے تھے۔ (رواہ الطبرانی و اسنادہ حسن مجمع الزوائد: جلد، 9 صفحہ، 357)

6: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ‏ کے پاس یہ وحی لے کر آئے تو فرمایا اے محمدﷺ‏ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے لکھوایا کرو کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے امین ہیں اور بہترین امین ہیں۔ (رواہ الطبرانی فی الأوسط مجمع الزوائد)

7: قاضی عیاض نے سیدنا معافی بن عمرانؓ مشہور محدث سے نقل کیا ہے ان سے پوچھا گیا کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں؟ تو سیدنا معافی بہت غصے میں آ گئے اور فرمایا رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ کسی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ آپﷺ‏ کے صحابی برادرِ نسبتی کاتبِ رسول اور اللہ کی وحی پر امین تھے جو آپؓ کو برا بھلا کہے اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی اس پر لعنت ہو۔ (تطہیر الجنان: صفحہ، 10 البدایہ والنہایہ: جلد، 8 صفحہ، 139)

سوال نمبر 625، 626: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کسریٰ و قیصر سے کیوں تشبیہ دی پھر کیوں نہ یہ مماثلت حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ کو بخشی جائے؟

جواب: سرداری اور لباس کی وضع قطع اور انتظامی اہلیت کے لحاظ سے دی۔ کسی اچھی بات میں کافر سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جیسے آپﷺ‏ نے نوشیرواں کسریٰ کے عدل پر فخر کیا چنانچہ حضرت عمرؓ اس انداز میں فرماتے تھے تم قیصر و کسریٰ اور ان کے علم و دانش کی تعریف کرتے ہو حالانکہ تم میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کے نزدیک نوشیرواں اور قیصر و کسریٰ مذہب یا دیگر امور کے لحاظ سے محترم و معظم نہ تھے اور شیخین رضی اللہ عنہما تو سادہ پیوند لگا لباس پہنتے تھے۔

سوال نمبر 627: اصحابِ عشرہ مبشرہ میں سے کسی صحابیؓ سے کوئی سی تین احادیث رواة کی توثیق کے ساتھ نقل کریں؟

جواب: صحیح فضائل کی احادیث کا مطلقاً ثبوت کافی ہوتا ہے۔ شخصیات کی پابندیاں لگانا ضد بازی ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کثیر الفضائل ہیں۔ اس پابندی سے شاید ان کے فضائل بھی ثابت نہ ہو سکیں۔

سوال نمبر 628: اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بھائیوں کے تنازعات میں اہلِ سنت دخل نہیں دیتے تو پھر ابولہب و ابوجہل کو کیوں برا کہتے ہیں؟

جواب: شیعہ میں یہی سمجھ کا قصور ہے کہ ذاتی معاملات کو مخالفتِ دین سے گڈ مڈ کر دیا۔ ابوجہل و ابولہب کو حضور اکرمﷺ‏ سے یا آپﷺ‏ کو ان سے ذاتی دشمنی نہ تھی۔ دین کی مخالفت پر دشمنی تھی اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو حضورﷺ‏ کے اسی طرح دوست ہوتے جیسے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ مگر حضرت امیرِ معاویہؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ میں کوئی دینی اعتقادی مذہب کا اختلاف نہ تھا ایک ہی دین کے پیروکار مؤمن بھائی تھے۔ (دیکھیے خطبہ نہج البلاغہ، ان ربنا واحد و دیننا واحد الخ)

یہ مخالفت یا شکر رنجی و کدورت سیاسی اور انتظامی معاملات میں تھی لہٰذا یہاں بھائیوں کے معاملات میں دخل نہ دیا جائے گا۔ کیونکہ خدا فرما چکا ہے: ہم جو کچھ ان کے دلوں میں کھوٹ کدورت ہو گی نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ (سورۃ الحجر: پارہ 14 رکوع 4)

سوال نمبر 629: اگر یہ جواب ہے کہ وہ دشمنِ اسلام دشمنِ رسولﷺ‏ تھے تو پھر ہم کہیں گے بھائیوں اور چچوں کا معاملہ ہے آپ اجنبی ہو کر کیوں برا کہتے ہیں۔ ہابیل قابیل کے معاملہ میں کیوں خاموش نہیں ہوتے؟

جواب: جب اختلافِ دین کا تھا وہ دشمنِ دینِ رسول تھے تو ہم حضور اکرمﷺ‏ کے دینی بھائی ہو کر ابوجہل و ابولہب سے دشمنی رکھیں گے گو شیعہ ان کی نہ دشمنی رسول اچھالیں نہ تبرّے کریں شاید ان کے مذہبی پیشوا صحابہ دشمنی میں یہی ابوجہل و ابولہب ہیں۔ اسی طرح قابیل ہابیل کی زبان سے قرآنی الفاظ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ‌ الخ کے مطابق قطعی و دوزخی ہو چکا تھا تو اختلافِ دین ثابت ہوا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ و حضرت امیرِ معاویہؓ میں یہ مثال بھی برمحل نہیں ہے۔

سوال نمبر 630: کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ ثبوت درکار ہے؟

جواب: یقیناً بیعت کی تبھی تو شیعہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ابھی تک ناراض ہیں اور ان کے کسی بھی کمال و کردار پر کوئی خصوصی تقریب یا مجلس منعقد نہیں کرتے۔ ثبوت ملاحظہ ہوں:

صفحہ 6 از 12