مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 12

یا پھر ایسے لوگوں نے قتل کیا جو نرے باغی اور مفسد تھے صحابی نہ تھے اور اس وقت لشکرِ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں شامل ہو کر قتال کر رہے تھے۔ (جیسے یہ سبائی جنگِ جمل میں حضرت علی المرتضیٰؓ کے لشکر سے اٹھ کر سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے لشکر میں آ گھسے اور فساد کے لیے لشکرِ علوی پر حملہ کر دیا۔) اگر یہ توجیہ نہ بھی کی جائے تو زیادہ سے زیادہ باغی ہونا متصور ہو گا اور بظاہر گو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں باغی تھے دراصل وہ باغی یعنی طالبِ دمِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔

سوال نمبر 617: اہلِ حدیث علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سننِ مشہورہ کی مخالفت کرتے تھے بس جو مذہبِ حضرت امیرِ معاویہؓ پر ہو اس کو ثقہ نہیں کہا جا سکتا۔ (ہدیۃ المہدی)

جواب: آخری عمر میں علامہ وحید الزمان تفضیلی شیعہ ہو گئے تھے ان کا قول حجت نہیں ہے۔ مولانا محمد نافع مدظلہ ان کے تذکرہ نویسوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ان کی طبع میں ایک قسم کی تلون مزاجی اور انتہا پسندی تھی کچھ عرصہ مقلد رہنے کے بعد غیر مقلد بن گئے اور آزادانہ تحقیق کے کاربند ہو گئے اسی دور میں انہوں نے صحاحِ ستہ کے تراجم کیے اور شیعی نظریات کے حامل ہو گئے۔ اسی دور میں انہوں نے انوار اللغتہ ملقب بہ وحید اللغات مرتب کی متعدد مقامات پر انہوں نے اپنے ان شیعی خیالات کا اظہار کیا۔ دیکھیے مادہ عج،ز مادہ عثم، مادہ غرب 18، مادہ صبر، مادہ عود (تفصیلی عبارات بناتِ اربعہ صفحہ، 438 تا 442 ملاحظہ فرمائیں جو اس کی شیعیت کا بر ملا اقرار ہیں۔)

سوال نمبر 618: مشہور محدث امام نسائیؒ کی موت کیسے واقع ہوئی؟

جواب: ناصبیوں نے فضائلِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرنے کے جرم میں شہید کر دیا۔ الحمدللہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت میں شہادت اہلِ سنت کو نصیب ہوئی شیعہ تقیہ بازوں کو تو متعہ اور تبرّا سے فرصت نہیں ہے۔

سوال نمبر 619: عیسائیوں کی صلیب گلے میں لٹکانا۔ (محاضرات راغب اصفہانی)

جواب: بکواس محض ہے۔ ادبی کتابوں کے یہ چٹکلے شرعی سند نہیں رکھتے۔

سوال نمبر 620: فتاویٰ عزیزی صفحہ 130 میں ہے صحیح ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو مرتکب کبائر جاننا چاہیے۔ تو پھر فضیلت کیسی؟

جواب: شاہ صاحب لعن طعن کی آپ سے نفی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اس کام کی انتہا یہ ہے کہ مرتکب کبیرہ اور باغی ہو اور فاسق لعن کا اہل نہیں ہوتا۔ اپنا عقیدہ نہیں بتلایا بلکہ بطور تنزل فرمایا کہ جو لوگ بعض اعمال کی صحیح توجیہ نہ کر سکیں تو یہی سمجھیں اور خصم کی حجت قطع کرنے کے لیے یہ آخری وار ہے مگر فضیلت صحابیت اور دیگر کمالات کی وجہ سے ثابت ہے اور گناہوں کی مغفرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے سب سے زیادہ ہے۔ لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ (الخ)

ایک عالم کی نظر میں ایک فعل غلط یا گناہ ہو مگر جو اہلِ اجہتاد اپنی دیانت دارانہ رائے سے وہ کام کر رہا ہو اسے فاسق نہ کہا جائے گا۔ علامہ ابنِ قدامہؒ فرماتے ہیں۔ اگر کوئی شخص جو اجہتاد کی اہلیت رکھتا ہے اپنے دیانت دارانہ اجہتاد کی رو سے اسے جائز سمجھتا ہو تو اس کی بناء پر وہ فاسق نہیں ہوتا بلکہ اس کی غلطی کو خطائے اجہتادی کہا جاتا ہے۔ (بحوالہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق: صفحہ، 212)

سوال نمبر 621: الامامۃ والسیاستہ صفحہ 145 پر ہے جب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے بڑی خوشی منائی اور سجدہ شکر ادا کیا۔ 

جواب نمبر 1: غلط ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت امیرِ معاویہؓ کو حضرت علی المرتضیٰؓ کی شہادت پہنچی تو رونے لگے۔ بیوی نے کہا اب روتے ہو حالانکہ ان سے جنگ کی ہے۔ فرمایا تجھے پتہ نہیں کہ آج لوگ کتنے علم و فضل اور فقہ سے محروم ہو گئے۔ (البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 130)

جواب نمبر 2: الامامۃ والسیاستہ معتبر کتاب نہیں ہے کسی رافضی کی ہے جس نے ابنِ قتیبہ رحمۃ اللہ کی طرف منسوب کر دیا علامہ ابن العربی العواصم من القواصم میں فرماتے ہیں: 

لوگوں پر سب سے زیادہ سخت جاہل عقل والا ہے یا چالاک بدعتی ہے۔ 

جاہل ابنِ قتیبہؒ ہے جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اچھی باتیں تحریر نہیں کیں۔ امامت و سیاست میں اگر سب کچھ اس کا صحیح سمجھا جائے یا مبرد اپنی ادبی کتاب میں جہالت کا ثبوت دیتا ہے اور بدعتی مسعودی ہے کیونکہ وہ متعفن الحاد کی باتیں روایت کرتا ہے اور بدعت ہونے میں تو کوئی شک نہیں۔ علماء محققین نے ذکر کیا ہے کہ امامت و سیاست ابنِ قتیبہؒ کی نہیں ہے کیونکہ وہ مصر کے دو بڑے عالموں سے روایت کی جاتی ہے۔ علامہ ابنِ قتیبہؒ نہ مصر گئے نہ ان سے کچھ روایت کی۔ مبرد کے متعلق مشہور یہ ہے کہ وہ خارجیوں کی طرف مائل ہے۔ رہا مسعودی تو وہ چوٹی کا شیعہ ہے اور شیعہ مذہب پر اس کی کئی کتابیں ہیں۔ (بحوالہ حاشیہ تطہیر الجنان: صفحہ، 44 عربی طبع ملتان)

سوال نمبر 622: لا یشبع اللہ بطنہ حضور اکرمﷺ‏ نے یہ دعا کس بزرگ کے حق میں کہی؟

جواب: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ روٹی کھا رہے تھے۔ طلبی ہوئی تو جلدی نہ جا سکے۔ تب آپﷺ‏ نے ایسا فرمایا۔ استاد اپنے شاگرد کو ایسے الفاظ سے جھڑک دے تو کوئی مذمت و عیب نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب فرمانا بھی اسی قسم کا ہے ہم تو اسے مقامِ مدح میں شمار کرتے ہیں مگر شیعہ ہر بات کو عیب بنا دیتے ہیں۔ نیز ایک مرتبہ نبی کریمﷺ‏ نے دعا میں فرمایا جس مسلمان کو میں نے برا بھلا کہا ہو یا پھٹکار کی ہو تو میں بھی آدم کا بیٹا ہوں ان کی طرح غصہ آتا ہے اے اللہ تو نے مجھے رحمۃ اللعالمین بنایا قیامت کے دن میری اس بددعا کو اس کے حق میں رحمت بنا دے۔ (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 284 باب النہی عن سبِّ أصحابِؓ رسول اللہﷺ) تو مذمت کا اعتراض جاتا رہا۔

سوال نمبر 623: اگر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے تو صحاح ستہ سے ایک حدیث صحیح مرفوع نقل کریں؟

جواب: بروایت سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما مسلم شریف جلد 2 صفحہ 304 پر ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ والد سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ‏ سے یہ درخواست کی:

صفحہ 5 از 12