مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 12

یہاں سے پتہ چلا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی ذات پر کوئی سبِّ وشتم نہ تھی صرف قاتلینِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر بددعا تھی جیسے شیعہ راویوں نے بالمعنی حضرت علی المرتضیٰؓ کی مذمت اور سبِّ وشتم سے تعبیر کر دیا نیز اس کہ سب راوی شیعہ کذاب اور وضاع ہیں۔ پہلا ہشام بن محمد بن سائب کلبی ہے۔ جو رافضی بن رافضی ہے ثقہ نہیں۔ (لسان المیزان: جلد، 6 صفحہ، 169) دوسرا لوط بن یحییٰ جَلا بُھنا شیعوں کا محدث ہے۔ (ایضاً: صفحہ، 167) تیسرا مجالد بن سعید ہے جو بالاتفاق جھوٹا اور کمزور ہے بقول اشج شیعہ ہے۔ (کتاب الجرح لابی حاتم: جلد، 4 صفحہ، 361 بحوالہ حضرت معاویہؓ و تحقیقی حقائق: صفحہ، 30) اسی طرح فضیل بن خدیج، صقعب بن زہیر مجہول ہیں۔ البدایہ میں مذکور مروان کے سبِّ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بوضاحتِ بخاری یہ حقیقت ہے کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کہتے تھے۔ حالانکہ یہ آپؓ کا محبوب لقب عطیہ نبوی تھا۔ اگر مروان لغوی معنوں میں بطور طنز وحقارت کہتا تھا تو اس کی نیت مالکِ یومِ الدّین کے سپرد قانوناً تو اس پر گرفت و طعن نہیں ہے۔ الغرض یہ دو روایتیں بھی صحت و درایت کے معیار پر ہرگز نہیں اترتیں تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی پر جذبہ بعض سے طعن تراشنا روا نہیں ہے۔

سوال نمبر 611: اسلام میں سب سے پہلے خواجہ سرا کس نے رکھے؟

جواب: روایت بے سند ہے۔ اگر مانی بھی جائے تو لوگوں کو خصّی کرنے کا الزام جھوٹا ہے البتہ خنثیٰ یا ناکارہ لوگوں کو نوکر رکھنا اور غلاموں جیسی خدمت لینا معیوب بات نہیں۔

سوال نمبر 612: سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو زندہ درگور کر کے قتل کیا (ابنِ خلدون: جلد، 5)؟

جواب: بالکل جھوٹ ہے۔ مفصل تروید تحفہ امامیہ میں ہم کر چکے ہیں۔ جیسے زوجہ رسولﷺ‏ کا قاتل پاک باز نہیں۔ اسی طرح لاعن اور مبغض بھی پاک باز مسلمان نہیں۔

سوال نمبر 613: کامل ابنِ اثیر جلد 3 صفحہ 123 اور تاریخِ طبری میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے ساتھیوں پر دعائے قنوت پڑھتا تھا کیا اہلِ سنت اسے مسلمان سمجھیں گے؟

جواب: آپ نے خیانت سے کام لیا۔ تحکیم کے بعد اس قنوت کا آغاز حضرت علی المرتضیٰؓ نے کیا اور حضرت امیرِ معاویہ، حضرت عمرو، سیدنا ابوالاعور سلمی، سیدنا حبیب، سیدنا عبدالرحمٰن بن خالد اور سیدنا ضحاک بن قیس اور سیدنا ولید رضی اللہ عنہم پر کرنے لگے۔ جب سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ بھی قنوت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما، اشتر اور سیدنا حسنین رضی اللہ عنہ کا نام لینے لگے۔ (طبری: جلد، 5 صفحہ، 71 وقائع سن 37 ھ) تو جَزَآءُ سَيِّئَةٍ بِمِثۡلِهَا والا معاملہ ہے جب کہ سند کے لحاظ سے روایت لچّر ہے۔ اب تک اہلِ سنت مسلمان ایسی کوئی حرکت نہیں کرتے۔ شیعہ بھی تبروں کے وِرد چھوڑ کر مسلمان بن جائیں۔ سوال 667 دیکھیں

سوال نمبر 614: علامہ شبلی نعمانیؒ نے سیرت النبی جلد 1 صفحہ 49 پر لکھا ہے کہ حدیثوں کی تدوین دور بنی امیہ میں ہوئی اور ہزاروں حدیثیں سیدنا امیرِ معاویہؓ وغیرہ کے فضائل میں بنوائی گئیں کیا وہ معتبر ہیں؟

جواب: بالکل جھوٹا بہتان ہے۔ سیرت النبی کی یہ ساری بحث غور سے دیکھیں یہ مضمون نہیں ہے بلکہ جلد 1 صفحہ 49 پر یہ ہے: تصنیف و تالیف کی ابتداء سلطنت کی وجہ سے ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اگرچہ فقہ و حدیث کی نہایت کثرت سے اشاعت ہوئی بہت سے درس کے حلقے قائم ہوئے لیکن جو کچھ تھا زیادہ تر زبانی تھا لیکن بنو امیہ نے حکماً علماء سے تصنیفیں لکھوائیں۔ سب سے پہلے حضرت امیرِ معاویہؓ نے سیدنا عبید بن شریہ کو یمن سے بلا کر قدماء کی تاریخ مرتب کرائی جس کا نام اخبار الماضیین ہے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عبدالملک رحمۃ اللہ نے ہر فن میں علماء سے تصنیفیں لکھوائیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ نے تصنیف و تالیف کو زیادہ ترقی دی۔ تدوینِ حدیث کا سہرا آپؓ کے سر ہے۔

سوال نمبر 615:دراسات اللبیت جلد 2 صفحہ 402 میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے طریقے پر چلنے سے لوگوں کو جبراً منع کیا؟

جواب: یہ سیاست میں تابعداری پر پابندی تھی کیونکہ قاتلینِ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو تحفظ ملتا تھا سیاسی پالیسی میں مخالفت بری بات نہیں۔ باقی شرعی امور اور مسائل میں نہ تھی۔ اس میں تو حضرات امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مسائل پوچھ لیتے مثلاً ایک مرتبہ خنثیٰ مشکل کا مسئلہ پوچھوا بھیجا تو آپؓ نے فرمایا پیشاب جس راہ سے آئے وہی حکم لگایا جائے۔ (تاریخ الخلفاء)

اہلِ سنت کا مذہب کسی خاص صحابی کی تقلید نہیں۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتاویٰ پر مجموعی عمل ہےـ

سوال نمبر 616: بخاری میں ہے حضور اکرمﷺ‏ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تجھے باغی گروہ قتل کرے گا کیا سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو گروہِ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے شہید نہیں کیا؟

جواب: مکمل حدیث ابنِ ہشام میں یوں ہے کہ حضرت عمارؓ کو تعمیرِ مسجد کے وقت دو دو اینٹیں لوگ اٹھوا دیتے تھے سیدنا عمارؓ نے بطور شکایت کہا۔ حضرت آپ کے ساتھیوں نے مجھے قتل کر دیا آپﷺ‏ نے فرمایا: 

يا عمار لا یقتلك اصحابی ؤانما تقتلك الفئة الباغية 

ترجمہ: میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تجھے قتل نہ کریں گے باغی گروہ تجھے قتل کرے گا۔ 

حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے خاص ساتھیوں کو شیعہ بھی اصحابِ رسولﷺ‏ مانتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ‏ نے تو نفی فرما دی کہ میرے صحابیؓ تجھے شہید نہیں کریں گے تو اب حدیث قابلِ تاویل ہے کہ یا تو قاتلینِ سیدنا عثمانؓ نے خود آپؓ کو شہید کیا اور لاش کو لشکرِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نیزوں سے قتل شدہ افراد میں پھینک دیا۔ یہی تاویل حضرت امیرِ معاویہؓ نے بھی فرمائی ہے۔ 

صفحہ 4 از 12