مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 12

1: قرآن و حدیث کا عالم ہو۔ 2: فقہاء کے اختلاف و مذاہب جانتا ہو۔ عربیت اور کلام و محاورات کو جانتا ہو۔ 3: ناسخ و منسوخ کا علم رکھتا ہو۔ 4: مسلمان ہو۔ 5: عاقل و بالغ ہو۔ 6: عادل اور متقی ہو۔ 7: صاحب الرائے والفقہ ہو۔ 8: نئے مسائل کے مضر و مفید پہلوؤں کو جانتا ہو۔ (کتب اصولِ فقہ)

سوال نمبر 603: امام بخاری رحمۃ اللہ نے یہ اقرار کیوں کیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے؟

جواب: امام بخاریؒ کا یہ مقولہ و اقرار کہاں ہے؟ بخاری کتاب المناقب ذکرِ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں یہ تین حدیثیں لکھی ہیں: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا امیر المؤمنین حضرت امیرِ معاویہؓ کے متعلق آپؓ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا اس نے وتر ٹھیک پڑھی ہے وہ فقیہہ (مجتہد عالم) ہیں۔

دوسری روایت ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ نے کہا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا گلہ نہ کرو وہ رسول اللہﷺ کے صحابی ہیں۔ تیسری میں ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے لوگوں سے کہا تم عصر کے بعد دو رکعتیں ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہے ہم نے آپﷺ‏ کو یہ پڑھتے نہ دیکھا بلکہ منع فرماتے تھے۔ 

امام بخاریؒ کی شرائطِ روایت انتہائی کڑی ہیں۔ شاید اس بناء پر مرفوع حدیث ذکر نہ کی ہو ورنہ مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ ترمذی میں مشہور حدیث ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ نے دعا فرمائی: 

اے اللہ حضرت امیرِ معاویہؓ کو ہدایت یافتہ بنا دے اور اس کے ذریعے دوسروں کو ہدایت دے۔ (حدیث حسن ہے) اصولاً یہ حدیث صحیح ہے اس کے تمام راویوں کی توثیق سوال 655 کے جواب میں دیکھیں۔

البدایہ والنہایہ لابنِ کثیر دمشقی جلد 8 میں بارہ مرفوع احادیث مذکور ہیں اور ان پر صحیح حسن، جید ہونے کا حکم لگایا ہے۔ تفصیل ہماری کتاب عدالتِ صحابہؓ صفحہ 296 تا 301 پر دیکھیے۔

سوال نمبر 604: ایسی ہی رائے امام نسائیؒ اور سیدنا اسحاق بن راہویہؒ کی ہے کیوں؟

جواب: وہ رائیں ہم نے نہیں دیکھیں ممکن ہے ان کو خاص معیار کی احادیث نہ ملی ہوں تو یہ کہا ہو مگر کسی عالم کو ایک حدیث کا نہ ملنا بالکل نفی کی دلیل نہیں ہے۔ جبکہ دوسروں کے پاس موجود ہوں۔

سوال نمبر 605: علامہ سیوطیؒ نے تاریخ الخلفاء میں بخاری ذکرِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حاشیہ میں یہ کیوں لکھا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے انتقال پر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا؟ (سنن ابو داؤد) 

جواب: جھوٹا حوالہ ہے تاریخ الخلفاء حضرت حسنؓ و حضرت امیرِ معاویہؓ کے دونوں باب دیکھے۔ بخاری عربی مقام ہٰذا کا حاشیہ غور سے دیکھا۔ ابو داؤد کتاب السنتہ اور خلفاء کی احادیث کو دیکھا کہیں بھی یہ مقولہ نہیں ملا۔ ہو سکتا ہے کسی رافضی نے بنا کر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہو تو جواب یہ ہے کہ انگارہ روشنی اور حرارت کا منبع ہوتا ہے۔ بطورِ تاسف و تعزیت کہا ہو گا کہ روشنی بجھ گئی ہے۔

سوال نمبر 606: کیا آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو برحق خلیفے مانتے ہیں؟

جواب: جی ہاں اور انہی کے آخری عمل سے حضرت امیرِ معاویہؓ کو خلیفہ صالح مانتے ہیں۔

سوال نمبر 607: شیعوں کی اصحابِ ثلاثہ پر تنقید اجہتاد کے زمرے میں کیوں نہیں آتی؟

جواب: شیعہ تو ان سے دشمنی اور تبرّا کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث یا اپنی کسی کتاب کی کوئی روایت اور فرمانِ امام ماننے کو تیار نہیں جب کہ مجتہد کسی سے دشمنی نہیں رکھتا وہ دلائل کا تابع ہوتا ہے اگر اپنے خیال یا اجتہاد کے خلاف قوی دلیل مل جائے تو اپنے مؤقف و فتویٰ سے رجوع کر لیتا ہے۔

سوال نمبر 608: حضرت امیرِ معاویہؓ پر شراب نوشی کا الزام؟

جواب: نصرة الحق، نصائح کافیہ رافضی کی کتابیں ہیں۔ ابنِ عساکر اوائل سیوطی اور مسند احمد کے نام بالکل جھوٹ لکھے ہیں۔ ایسی کوئی روایت ان میں نہیں یا ہو سکتا ہے کہ کھجوروں کے شربت نبیذ کو مے نوش ملنگوں نے شراب بنا کر ناپاک طعن کیا ہو۔

سوال نمبر 609: تاریخ الخلفاء میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے بدھ کے دن جمعہ کی نماز پڑھائی؟

جواب: جھوٹ ہے، تاریخ الخلفاء سب دیکھی ہے ایسا کچھ نہیں۔ ایسی بے عقل بے ہودہ باتیں لکھتے ہوئے شیعوں کو شرم بھی نہیں آتی کیا دمشق کے سارے مسلمان پاگل ہو گئے تھے۔

سوال نمبر 610: تاریخ الخلفاء، تاریخ ابوالفداء، صواعقِ محرقہ، تطہیر الجنان، تاریخ الخمیس، نصائح کافیہ میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ اور اس کے عامل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر سَبّ کیا کرتے تھے۔ 

جواب: آخری دو کتابوں رافضیوں کے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ جھوٹ موٹ کتابوں کے نام لکھ کر ہمیں پریشان کیا جاتا ہے۔ تاریخ الخلفاء میں ایسی کوئی عبارت نہیں ہے۔ صواعقِ محرقہ اور تطہیر الجنان بھی غور سے دیکھی۔ ایسی بات نہیں ملی۔ یہ کتابیں ان باتوں کی نفی کے لیے لکھی گئی ہیں۔ البتہ شیعوں کا تخلیقی شاہکار یہ طعن اتنا مشہور ہے کہ سنی نما شیعہ نواز سکالر مولوی مودودی مرحوم نے بھی اچھالا ہے اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے کہ خود حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ یا آپؓ کے سب عمال سَبّ کیا کرتے تھے کسی بھی تاریخی روایت میں اس کا ثبوت نہیں ہے صرف طبری کی ایک روایت سے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اور مروان پر یہ الزام لگایا گیا ہے مگر طبری کی یہ روایت جو کامل ابنِ اثیر میں بھی بعینہٖ نقل ہے کہ الفاظ یہ ہیں: کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف سے سات سال چند ماہ گورنر کوفہ رہے وہ بہت اچھے سیرت کے مالک اور انتہائی امن پسند تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مذمت اور تنقید کو نہ چھوڑتے تھے۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 187) 

مگر اسی روایت کے آخر میں مذمت کی تشریح یہ آ جاتی ہے کہ سیدنا مغیرہؓ حضرت عثمانِ غنیؓ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں فرماتے تھے اے اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے تو اس کے مددگاروں اور دوستوں اور حب داروں اور قصاص کا مطالبہ کرنے والوں پر رحم فرما اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر بددعا کیا کرتے تھے۔ 

صفحہ 3 از 12