مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 12

اب ہم کس تاریخ کو کھولتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ قاتلینِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تو دندناتے پھرتے ہیں وہ اہلِ مدینہ کے بڑے بڑے شرفاء کو تلواروں کے سائے میں گھسیٹ کر لاتے اور جبراً بیعت (یہ چند حضرات کا بیعت سے کترانا بلوائیوں کے عمل و دخل کی وجہ سے تھا ورنہ وہ اگر اپنے شہروں کو واپس ہو جاتے یا غیر جانب دار رہتے یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قابو میں آ جاتے تو کوئی مسلمان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف نہ کرتا سب برضا بیعت کر لیتے۔) کرا رہے ہیں۔ حضرت امیرِ معاویہؓ کو معزول نہ کرنے کے ہر مشورہ کو حضرت شیرِ خدا رد کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں اس کے لیے تلوار کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں ہے اور شام پر حملہ کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ خلاصہ ہے تاریخ کے ان حوالہ جات کا جن کا جمع کرنا، ہم بے ادبی اور مواجبِ طوالت سمجھتے ہیں۔ جو چاہے وہ طبری جلد 4، صفحہ 441، 440، 429، 435، 437 اور تاریخِ اسلام ندوی جلد 1 صفحہ 247، 248 اور تاریخِ اسلام نجیب آبادی جلد 1، صفحہ 375، 381 سے 387 کو پڑھ دیکھے۔ 

اب آپ سوچیے! کہ ایک شخص کا چچا زاد بھائی بے دردی سے شہید ہو چکا ہے۔ تمام ورثاء جان بچا کر اس کے پاس آ چھپے ہیں وہ بدستور خلیفہ مرحوم کا مقررہ عامل اور اہلِ شام کا محبوب حاکم ہے، اب اس پر حملہ ہونے والا ہے۔ قاتلوں کی مفسدانہ طاقت اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی بے بسی اس کے سامنے ہے وہ اگر معزولی کا خط قبول نہیں کرتا بلکہ یہ شرط لگا دیتا ہے کہ تب بیعت اور تعمیلِ حکم کروں گا کہ قاتلوں سے بدلہ لو، خود نہیں لے سکتے تو ہمارے حوالے کر دو ہم خود لے لیں گے۔ (طبری و کتبِ تاریخ) کیا یہ شریعت میں ولی الدم کو اس مطالبہ کا حق نہیں؟ خدا کا فرمان ہے:

وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا 

ترجمہ: جو مظلوماً مارا جائے اس کے ولی کو غلبہ پانے کا حق حاصل ہے۔ 

اگر حق ہے مگر حق ملنے کے بجائے اس پر چڑھائی ہوتی ہے تو کیا وہ دفاع کا حق نہیں رکھتا پھر اس کو مجبوراً اپنے ہی مفتوحہ صوبہ اور گھر میں دفاعی اقدام کو بغاوتِ شرعی کیسے کہہ دیا جائے۔ حالانکہ وہ بیعت کر چکنے کے بعد باطل مقصد کے لیے خلیفہ وقت پر چڑھائی کا نام ہے۔ جو خارجی سبائیوں نے کی۔ 

بس یہی وہ اشکال ہے جس کی وجہ سے ہم سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرح حضرت امیرِ معاویہؓ کو بھی اپنے دفاعی اقدام میں مجبور و معذور اور صاحبِ دلیل مانتے ہیں۔ ہمارے بعض علماء نے اس پر گو بغاوت کا لفظ بولا ہے مگر درحقیقت اس کا ترجمہ طلبِ قصاصِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی کرنا ہو گا کیونکہ بغا، یبغی کا معنیٰ طلب و خواہش کرنا ہے اور یہی اجتہاد تھا جسے خطاء تو کہا جا سکتا ہے مگر معصیت اور باطل پرستی نہیں ہے اور اسی بناء پر ہم اہلِ سنت مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بحکمِ نبویﷺ خاموش ہیں۔ اگر سائل اس جواب سے مطمئن نہیں تو ہم مناظرہ رنگ میں کہتے ہیں: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عمالانِ عثمانی اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ تیزی اور چڑھائی کیا امویوں کے خلاف ہاشمی جذبۂ دشمنی سے کی تو یہ بالکل غلط اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تقویٰ و ایمان کے خلاف ہے مگر شیعہ یہی باور کراتے ہیں، یا بلوائیوں کے زور اور خواہش کے دباؤ میں آ کر کی جیسے تاریخ میں صراحت ہے کہ وہ شور مچا کر کہتے ہیں کہ ہم سب قاتلِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ہیں، حضرت امیرِ معاویہؓ بدلہ لے لے اور اسی میں ان کا تحفظ تھا تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم نہ ماننا اور خود تیاری کرنا مناسب اور عقلی تقاضا تھا۔ حضرت حسنؓ کو قتل کرانے کا الزام بالکل جھوٹ ہے۔ زہر خورانی کا اضافہ سب سے پہلے چوتھی صدی کے شیعہ مؤرخ مسعودی نے گھڑ کر لکھا ہے بعد کے مورخین نے اندھا دھند نقل شروع کر دی۔ ورنہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا حسنؓ نے بیعت کی تھی۔ سالانہ دورے پر دمشق آتے تو لاکھوں دراہم عطایا وصول کر کے لے جاتے۔ (یہ حوالہ جات ہمارے بے نظیر رسالہ شیعہ حضرات سے ایک سو سولات صفحہ 40 پر دیکھیے اور احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 298) اپنے محسن و دوست کو زہر کون دیتا ہے۔ پھر بیعت شکنی اور مخالفت پر تو پہلے ایک دو سال شیعانِ کوفہ اکساتے تھے تو اس وقت زہر دی جاتی۔ 9 سال (سنہ 49 ھ) تک انتظار کیسی؟

دراصل حضرت حسن رضی اللہ عنہ 40 دن مریض رہ کر طبعی موت سے واصل بحق ہوئے۔ 

بالفرض زہر اگر دی گئی تو وہی دے سکتے ہیں جن کی اس بیعت اور مصالحت با سیدنا امیرِ معاویہؓ سے ناک کٹ گئی۔ حضرت سفیانؓ بن ابی لیلیٰ جیسے مؤمن، السلام علیک یا مذلل المؤمنین، یا عار المؤمنین سے سلام کرتے تھے اور کہتے تھے ہم تو ذلیل ہو گئے۔ ہمارا شک و شبہ اس بیعت کے متعلق دور نہیں ہوتا۔ وہ مسلمانوں میں قتل و غارت چاہتے تھے۔ مگر شہزادہ امن و امان یہ جواب دیتا کہ مسلمانوں کے خون بچانے کے لیے یہ بیعت کی ہے۔

(تفصیلات جلاء العیون، منتہی الامال، حالاتِ حضرت حسنؓ میں دیکھیں۔)

سوال نمبر 601: اگر یہ اجتہادی غلطی تھی تو اس جہاد کی جامع تعریف لکھیے؟؟

جواب: اجتہاد کا لغوی معنیٰ کسی کام میں پوری کوشش صرف کرنا ہے اور اصطلاح میں یہ ہے جامع الشرائط مجتہد غیر منصوص اور نئے مسائل کا حل نصوص سے قواعدِ خاصہ کے تحت نکالے۔ اصول الشاشی کی شرح الفصول صفحہ 311 میں ہے کہ لغت میں اجتہاد، مقصود کے لیے طاقت و وسعت خرچ کر دینے کو کہتے ہیں اور فقہاء کے عرف میں شریعت کا حکم اس کے طریقے کے مطابق تلاش کرنے میں پوری طاقت اور کوشش خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔ مجتہد کبھی چوک بھی جاتا ہے اور کبھی مصیب ہوتا ہے۔ حدیثِ نبویﷺ‏ ہے: کہ حاکم اگر اجتہاد کرے اور ٹھیک ہو تو دوہرا اجر و ثواب پائے گیا اگر خطاء کرے تو ایک اجر پائے گا۔ (مشکوٰۃ)

سوال نمبر 602:  مجتہد کے معیاراور شرائط سے مطلع کریں؟

جواب: مجتہد جامع الشرائط میں یہ اوصاف مطلوب ہیں:

صفحہ 2 از 12