مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 12

جواب: مجتہد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہر قول و فعل ایسا ہے بشرطیکہ خود اس نے یا باقی سب نے نفی نہ کی ہو اور عوام اگر مجتہد صحابیؓ کے مقلد ہیں تو بھی یہی حکم ہے اگر عامی کا اپنا فعل و عمل ہے اور باقیوں نے اس کی تائید یا اس پر سکوت کیا ہے تو وہ بھی جائز سمجھا جائے گا۔ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی پیروی کا بالخصوص آپؓ نے حکم دیا ہے اگر ان کا کسی مسئلے پر اتفاق ہو بالفرض کسی عام اور غیر فقیہہ صحابیؓ سے اس کے خلاف مروی ہو تو اس کا اعتبار نہ ہو گا۔ ان دو سوالوں کی مکمل تشریح ہماری کتاب عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں دیکھیے۔

سوال نمبر 651: کیا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بارگاہِ رسالتﷺ‏ میں مرتبہ اجتہاد حاصل ہوا؟

جواب: بارگاہِ رسالتﷺ‏ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مشورہ چلتا اور قبول ہوتا تھا۔ اجتہاد تو آنجنابﷺ‏ کا اپنا تھا۔ جب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب و امین تھے۔ مشورے دیتے تھے۔ ایک مشورہ کے موقع پر حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا: ادعوا معاوية احضروه امركم فانه قوى امین۔ حضرت امیرِ معاویہؓ کو بلاؤ اپنا معاملہ اس کے سامنے رکھو کیونکہ وہ طاقت ور اور امین ہے۔ 

(مجمع الزوائد: جلد، 9 صفحہ، 356 طبرانی رجالہ ثقات و فی بعضهم خلاف)

ایک مرتبہ یہ دعا فرمائی: اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہؓ کو حساب و کتاب سکھا اور عذابِ جہنم سے بچا۔ 

(الاستیعاب لابنِ عبدالبر: جلد، 3 صفحہ، 381) تو یہ مرتبہ و تعلق اجتہاد سے کم رتبہ کا نہ تھا۔

سوال نمبر 652: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے تو آپ کے خیال میں غلطیوں سے رجوع کر لیا۔ کیا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی رجوع کیا۔ شہرستانی کے بقول حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے صرف امام حق کے خلاف بغاوت کی؟

جواب: جب آپ کا مذہب ہی میں نہ مانوں کفر و انکار ہی ہے۔ مذکورہ بالا تین ہستیوں کو خدا معاف کر دے، تم معاف نہیں کرو گے تو حضرت امیرِ معاویہؓ کے متعلق ایسا ثابت بھی کر دیں تو آپ مان جائیں گے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات پر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے رونے کا تو حوالہ ہم البدایہ والنہایہ سے دے چکے ہیں۔ ضرار صدائی سے باصرار حضرت علیؓ کے غیر معمولی اوصاف سننا اور رو پڑنا بھی تاریخی حقیقت ہے۔ پھر آخر میں فرمایا: رحم الله ابا الحسن كان والله كذلك۔ اللہ سیدنا علی المرتضیٰؓ پر رحمت نازل فرمائے خدا کی قسم وہ ایسے ہی تھے۔

(الاستیعاب تحت الاصابہ: جلد، 3 صفحہ، 43)

اسی طرح آپ نے قسم کھا کر فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر اور مجھ سے افضل ہیں اور میرا ان سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اگر وہ خون سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لے لیں تو اہلِ شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا۔ (البدایہ: جلد، 2 صفحہ، 129)

یہ تاثرات ایک قسم کے رجوع اور توبہ کا نتیجہ ہیں۔ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی یہی تاثرات رکھتے تھے: اسحاق بن راہویہ نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ جنگِ جمل اور صفین کے موقع پر ایک شخص کو سنا کہ وہ مخالف لشکر والوں کو برا کہ رہا ہے تو آپ نے فرمایا، ان کو بھلائی کے سوا کچھ نہ کہو انھوں نے سمجھا ہے کہ ہم نے ان کے خلاف بغاوت کی ہے۔ (منہاج السنتہ: جلد، 2 صفحہ، 61) اور نہج البلاغہ کا خطبہ تو مشہور ہی ہے جس میں اہلِ شام کو اپنے جیسا مومن کہا اور اختلاف صرف دمِ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ میں منحصر فرمایا ہے۔

ایک مرتبہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے سیدنا حسنؓ! تیرے باپ کا گمان نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔ تیرا باپ چاہتا ہے کہ کاش وہ اس واقعہ (صفین) سے بیس سال پہلے فوت ہو گیا ہوتا۔ پھر صفین سے واپسی پر فرمایا: کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے امیر ہونے کو برا نہ سمجھو، کیونکہ وہ جس وقت نہ ہوں گے تو تم سروں کو گردنوں سے تمبے کی طرح اڑتے دیکھو گے۔ 

حادثہ اور جنگ سے گزرنے والے دونوں اکابر کے بیانات و تاثرات واضح ہیں اسی لیے ہم دونوں کے متعلق لب کشائی سے خاموش ہیں اور واجب الاحترام مانتے ہیں۔ شہرستانی کے قول پر اصرار ایسا ہی ہے: کہ فریقین تو آپس میں صلح کریں مگر قاضی راضی نہ ہو۔

سوال نمبر 653: بخاری میں ہے: سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا جو خلافت کے متعلق بات کرنا چاہے وہ سر اپنا اونچا کرے ہم اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ حق دار ہیں۔ کیا تخویف و تحریص کا الزام حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر ثابت نہیں ہوتا؟

جواب: اس میں تخویف اور دھمکی کی تفصیل تو نہیں ہے صرف حضرت ابنِ عمرؓ کا تاثر ہے کہ میں اگر بولتا تو اختلاف اور جھگڑے تک نوبت پہنچتی جسے میں پسند نہ کرتا تھا تو خاموش رہا۔ 

فتح الباری میں لکھا ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی رائے میں خلافت کا حقدار ترین وہ تھا، جو طاقت، رائے اور عقل میں فضیلت رکھتا ہو اور اسلام دین اور عبادت میں فائق شخص جو اتنی طاقت اور رائے و عقل نہیں رکھتا وہ فاضل و مسحق ترین نہیں ہے۔ سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما بڑے دین دار اور عبادت گزار کو احق ترین جانتے تھے۔ ہر انتخاب کے موقع پر ایسا اختلافِ رائے اور گرم و نرم باتیں ہو جاتی ہیں۔ بالفرض سیدنا ابنِ عمرؓ ہی بن جاتے تو شیعہ تو ان کے بھی دشمن ہوتے اور اب بھی ہیں۔

سوال نمبر 654: کیا عقیدہ سُنیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معیارِ حق ہیں؟

جواب: جی ہاں! کہ وہ متبوع و مقتدا ہیں جو ان کے مجموعی نقشِ قدم پر چلے گا وہی نجات پائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اگر وہ لوگ بھی اسی طرح اور اتنا ایمان لائیں جو تم لائے ہو تو ہدایت پا لیں اگر منہ پھیر لیں تو گمراہ ہیں۔ (پارہ 1 رکوع، 16)

سوال نمبر 655: ترمذی کی حدیث کہ اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت پانے والا بنا دے۔ اس کے اسناد صحیح ثابت کریں۔

جواب: امام ترمذیؒ نے اسے حدیثِ حسن کہا یہ بھی صحیح کی ایک قسم ہے: راوی پانچ ہیں: تقریب التہذیب سے ان کی توثیق ملاحظہ ہو:

صفحہ 11 از 12