مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 12

سوال نمبر 644: جب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعدؓ کو حضرت علیؓ کی سبِّ وشتم پر مجبور کیا تو آپ نے کیا جواب دیا اور کون سی تین فضیلتیں بیان فرمائیں؟

جواب: کوئی مجبور نہیں کیا بلکہ پوچھا مالکم لا تسب ابا ترابؓ اور سب سے مراد نہ لعنت و پھٹکار ہے نہ ان کی بدگوئی و مذمت ہے۔ صرف قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کے متعلق ان کی نرم پالیسی پر تنقید ہے۔ مگر حضرت سعد رضی اللہ عنہ بڑے عالی ہمت اور قدر دانِ سیدنا علی المرتضیٰؓ تھے یہ فضائل بیان کر دیئے۔ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی خوشی سے سنے۔ معلوم ہوا کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں رائے کی بھی آزادی تھی اور فضائلِ حضرت علی المرتضیٰؓ سے انکاری بھی نہ تھے۔ اختلاف و شکر رنجی قاتلینِ حضرت عثمانؓ کے متعلق نرم پالیسی سے پیدا ہوئی اور دن بدن بلوائیوں کی شرارتوں سے اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فضیلتیں بیان فرمائیں:

1: حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا کیا تو اس پر خوش نہیں کہ تیرا میرے ساتھ وہی مرتبہ ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ مگر یہ کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔

2: خیبر کے دن آپﷺ‏ نے فرمایا میں جھنڈا صبح اسے دوں گا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا۔ خدا نے آپ کو فتح دی۔

3: جب آیتِ مباہلہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ کو بلوایا تو دعا مانگی اے اللہ یہ (بھی) میرے گھر کے لوگ ہیں۔ (مسلم: جلد، 2 صفحہ، 278)

سوال نمبر 645: جب عشرہ مبشرہ جیسے اصحاب کرام رضی اللہ عنہ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اور سعید بن زیدؓ اور دیگر خلفاء کے متقی و اہلِ فرزند موجود تھے تو یزید کو ولی عہد کیوں بنایا؟

جواب: اس کی مفصل تحقیق ہم عدالتِ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاتمہ میں کر چکے ہیں۔ اگر ان میں سے بھی کوئی صاحب خلیفہ بن جاتے تو شیعہ کہاں مانتے؟ کیا سیدنا عمرو بن سعد رضی اللہ عنہ کو شیعہ خلیفہ مان لیتے۔ شیعوں کو تو بہرحال طعن بر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے کام ہے۔

سوال نمبر 646: کیا ولی عہدی محض تجویز تھی یا جبری حکم؟ اگر تجویز تھی تو رشوتیں دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جواب: تجویز تھی اور وہ بھی حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی۔ جب اکثر گورنروں اور کابینہ نے مشورہ دے کر پاس کرا لی اور تمام شہروں والے متفق ہو گئے اور صرف اہلِ مدینہ کے 5، 6 زوی الرائے اصحاب رضی اللہ عنہم نہ مان رہے تھے تو ایک بے اعتبار روایت کی بناء پر حضرت امیرِ معاویہؓ نے تالیف قلوب یا دھمکی سے ہمنوا بنانے کی کوشش کی۔ سیاسی معاملات میں اتفاق حاصل کرنے کے لیے بسا اوقات ایسا اقدام ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بغاوت کی سخت سزا اسی لیے ہے۔ ایک خلیفہ ہو جانے پر دوسرے کے لیے بیعت یا دعویٰ خلافت پر احادیث مسلم میں قتل کا حکم اسی بناء پر ہے۔ یہ اس فرضی روایت کو ماننے کی صورت میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے دفاع ہے۔ ورنہ اتنی باتوں کی ہمیں بھی ضرورت نہیں فریقین ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر واجب الاحترام ہیں۔

سوال نمبر 647: عدالتِ صحابہؓ کا صحیح مفہوم اہلِ سنت کے نزدیک کیا ہے؟

جواب: یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث میں جرح و تعدیل کی بحث سے بے نیاز تھے۔ وہ معاملات اخلاق اور کردار میں صحبتِ نبوی کی وجہ سے تزکیہ شدہ اور صاف و بے عیب تھے۔ اگر کسی سے کوئی غلطی ہو گئی تو خدا نے معاف کر دی یا وہ خود تائب ہو کر رخصت ہوئے وہ عمداً نہ جھوٹ بولتے تھے نہ ظلم و خیانت کرتے تھے۔ ہمیں ان کے باہمی معاملات میں سکوت کا حکم ہے۔ خدا کا فرمان ہے: 

وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ۞ (سورۃ الحجرات: آیت 7)

ترجمہ: لیکن اللہ نے تمہیں ایمان محبوب بنا دیا اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کر دیا اور کفر، گناہ، نافرمانی سے تمہیں نفرت دے دی تم بھی لوگ اللہ کے فضل و نعمت سے نیکوکار ہو۔

سوال نمبر 648، 649: عقیدہ اہلِ سنت الصحابۃ کلھم عدول کم از کم دو قدیم کتب سے ثابت کریں؟

جواب: علامہ ابنِ عبدالبر مالکیؒ المتوفی 463 ہجری الاستیعاب صفحہ 9 پر لکھتے ہیں:

وان کان الصحابۃ رضی اللہ عنہم قد کفینا البحث عن احوالھم لاجماع اھل الحق من المسلمین وھم اھل السنۃ والجماعۃ انھم عدول

ترجمہ: بے شک ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات پر کافی بحث کر چکے ہیں کیونکہ تمام اہلِ حق اہلِ سنت و جماعت مسلمانوں کا اجماع ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں۔

حافظ خطیب بغدادیؒ المتوفی 460 ھ کفایہ باب فی عدالت الصحابہ رضی اللہ عنہم پر لکھتے ہیں:

وجميع ذلك يقتضى طهارة الصحابة والقطع على تعديلهم ونزاهتهم فلا يحتاج احد منهم مع تعديل الله لهم المطلع على بواطنهم الى تعديل احد من الخلق فهم على هذه الصفة الا ان يثبت على احد ارتكاب مالا يحتمل الا قصد المعصية والخروج من باب التاويل فيحكم بسقوط العدالة وقد برءهم الله تعالى من ذلك ورفع اقدارهم عنه 

ترجمہ: یہ تمام آیات و احادیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گناہوں سے طہارۃ عدالت کی قطعیت اور برائیوں سے پاک دامنی پر دلالت کرتی ہیں پس ان کے باطن سے واقف رب تعالیٰ کی شہادت بر عدالت کے ہوتے ہوئے کسی مخلوق کی تعدیل کی حاجت نہیں وہ اسی طہارت پر سمجھے جائیں گے تاآنکہ ان کے کسی سے ایسے کام کا ارتکاب ثابت ہو جو صرف معصیت ہی کے ارادے سے ہو سکتا ہو اور تاویل کی کوئی گنجائش نہ رہے تاکہ عدالت ساقط ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے کام سے ان کو بری رکھا ہے اور ان کی شان اس سے برتر بنائی ہے۔

سوال نمبر 650: کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہر قول و فعل اجتہاد ہو گا؟

صفحہ 10 از 12