عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات -…

عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 3

4: حضرت ابی بن کعبؓ نے ایک دفعہ گورنری کا عہدہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارے دین کو آلودہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ یہیں نبویﷺ‏ پالیسی تھی کہ حنین وغیرہ کے کثیر غنائم مؤلفۃ القلوب کو دیئے مگر انصار رضی اللہ عنہم کو نہ دیئے۔ یہی مزاج انصار کا بن گیا تھا چنانچہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروقؓ سے حاجت طلب کی تو سفید معزز لباس میں پاس بیٹھے ہوئے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: دنیا میں ہماری کفایت اور آخرت تک ہمارا توشہ وہ اعمال ہیں جن کی ہمیں آخرت میں جزاء دی جائے گی۔ اس نے پوچھا یہ کون ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ سید المسلمین حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں انصار کا یہی وہ ذہن ہے اور ان کے بزرگوں کی پالیسی ہے جس کی وجہ سے انصار رضی اللہ عنہم نے عہدے کم پائے۔ (ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 70) 

4: سیدنا خلاد بن سوید بن ثعلبہ بن عمرو انصاری کو سیدنا عمر فاروقؓ نے یمن کا عامل بنایا تھا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 91)

6: حضرت سہل رضی اللہ عنہ بن حنیف جن کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عقد مواخات ہوا تھا اور دورِ مرتضویؓ کے گورنر تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مشیر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے میرے لیے سیدنا سہل بے غم (رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ۔ (طبقات ابنِ سعد)

*سوال نمبر 437:* سوال 395 میں ہم نے سورۃ محمد کی دو آیات نقل کی ہیں ان کو پھر دیکھ کر اس حدیث کا مطلب سمجھائیں کہ حضور اکرمﷺ‏ نے سیدنا ابوبکر سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ کر فرمایا: ان ھذان السمع و البصر (ترمذی) 

کہ یہ دونوں (میری) شنوائی اور بینائی ہیں۔ 

کیا یہ حدیث قرآن کے مطابق ہے یا مخالف؟

*جواب:* سورۃ محمد کی محولہ آیات کا تو سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دَور سے کچھ تعلق نہیں ہاں دیگر آیات میں شیخینؓ کی فضیلت اور خلافت کا ثبوت موجود ہے تو یہ حدیث مطابقِ قرآن ہے اس میں حضور اقدسﷺ یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ میں ان کے مشوروں سے کسی صورت مستغنی نہیں جیسے کوئی شخص اپنے کانوں اور آنکھوں سے مستغنی ہو سکتا۔ آپﷺ‏ کی سب زندگی ان کو مقرب مشیر اور وزیر بنانے اور ان کے مشوروں کو اور تجاویز پر عمل پیرا ہونے کے واقعات سے پُر ہے۔ جنگِ احد میں شہر میں مورچہ بند ہو کر لڑنے کا مشورہ انہوں نے دیا تھا آپﷺ‏ کو بھی پسند آیا مگر بدر میں غیر حاضر بعض نوجوانوں کے اصرار سے کھلے میدان میں جنگ لڑی گئی جنگِ بدر میں قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑنے کا مشورہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ عمل اس پر ہوا۔ مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قتل و تشدد کا جو مشورہ دیا تھا۔ انفال کی آیاتِ کریمہ اس کے حق میں نازل ہوئیں۔

*سوال نمبر 438:* تاریخ الخلفاء صفحہ 92 میں ہے: اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب موجود نہ ہوتے اور پیچیدہ معاملات در پیش آتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیشہ گھبرایا کرتے تھے کیسے سیدنا فاروقؓ تھے؟

*جواب:* حوالہ اور مضمون دونوں غلط ہیں تاریخ الخلفاء صفحہ 131 حضرت علی المرتضیٰؓ کے فضائل والی احادیث میں حضرت عمر فاروقؓ کے متعلق لکھا ہے: کہ وہ ایسے مشکل مسئلہ سے پناہ مانگتے تھے جس کے لیے سیدنا ابو الحسنؓ نہ ہوں اور دوسری روایت یہ ہے: کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا علی المرتضیٰؓ ہمارے سب سے اچھے قاضی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ حضرت علی المرتضیٰؓ کی فہم و فراست نیک نیتی سے حکومتی کاموں میں تعاون اور بہترین خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور آپؓ کی اہمیت اور فضیلت نمایاں کر رہے ہیں جیسے خود حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل اور خدمات کا اقرار کرتے تھے کئی احادیث گزر چکی ہیں اور کچھ بعد میں آئیں گی۔ دراصل یہ بھائی بھائی تھے۔ ہر بھائی دوسرے کو اپنے سے اچھا جتلاتا تھا۔ یہ شاگردانِؓ محمدﷺ‏ آپس میں کوئی حسد و بغض نہ رکھتے تھے بلکہ بنصِ قرآنی خلیق، مہربان اور ایک دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے اور یہی کمالِ تقویٰ ہے اب ایک رافضی کا گھٹیا ذہن سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس عقیدت مندی کو تنقیصِ سیدنا عمر فاروقؓ اور افضلیتِ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے لیے استعمال کرنا۔ یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عقیدت مندی منسوب کرنے کے بجائے گالیوں اور بہتانات کی نسبت کرنا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا ہے اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو انسانیت اور شرافت سے عاری جتلانا ہے۔ (معاذ اللہ)

*سوال نمبر 439:* حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ معاملہ فہم ہیں۔ کیا ہم سب میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شامل نہیں؟

*جواب:* اس کا جواب بھی سابقہ کا تحریر سے ہو گیا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت عمر فاروقؓ تو ایک دوسرے کے رفیقِ کار معاملہ فہم ہمارے اور پاسبانِ شریعت ہیں۔ مگر ان میں دشمنی جتلانے والا رافضی اپنی حسد کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے۔


صفحہ 3 از 3