عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات -…

عہدِ نبوتﷺ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سالارانہ خدمات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 3

اس کا جواب یہ ہے: 1: کہ حرفِ استفہام محذوف ہے افرءیتما (کیا تم نے خیال کیا) یعنی ایسا خیال تو تم حضرت ابوبکر صدیقؓ اور میرے بارے میں نہیں سوچ سکتے تو پھر ہمارے فیصلے اور تولیت پر راضی کیوں نہیں؟ یہ حذف عربوں کا محاورہ ہے۔ جیسے سورۃ انعام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں تین دفعہ آیا ہے اور استفہام محذوف ہے۔ ھٰذا ربی۔ یہ میرا رب ہے؟ یعنی تمہارے خیال میں یہ سورج، چاند، ستارہ میرا رب ہے۔

شیعہ ترجمہ مقبول یہ ہے: کیا میرا پروردگار یہی ہے؟ آیا یہ میرا رب ہے؟ آیا یہ میرا پروردگار ہے؟

جیسے یہاں حذف ماننے سے کلام صحیح ہو گا اسی طرح حدیث میں ہمزہ سوالیہ حذف ماننے سے کلام سچا ثابت ہو گا۔ تمہارے عقیدہ میں میَں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کاذب، آثم، غادر اور خائن تو نہیں ہیں؟

2: استفہام کبھی ادات استعمال کرنے سے ہوتا ہے کبھی اندازِ کلام اور لب و لہجہ کے اونچ نیچ سے ہوتا ہے۔ مخاطب سمجھ جاتا ہے مگر دوسرے کو محسوس نہیں ہوتا اور کتابت میں تو بالکل نہیں آتا اور اردو میں اس کی کئی مثالیں مل سکتی ہیں۔ جیسے کوئی شخص باپ سے جھگڑے تو دیکھنے والا کہتا ہے باپ کا یہ ادب ہے؟ یعنی کیا باپ کا یہی احترام ہوتا ہے؟ تو اسی طرح مثالِ بالا میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم مجھے اور سیدنا ابوبکرؓ کو ایسا ویسا سمجھتے ہو؟ جو مطمئن نہیں ہوتے۔ اس کی مثال یوں بھی سمجھو کہ اپنے روز مرہ کے دکان دار سے دو تین بار کہو کہ اچھی چیز دو تو وہ جھلا کر کہے تم مجھے دھوکہ باز اور خائن جانتے ہو یعنی ایسا ہرگز نہ جانو مجھ پر اعتماد کرو۔

3: بعض دفعہ مبالغۃً بظاہر ایسے لفظ فقط بول دیتے ہیں حقیقۃً اعتقاد ایسا نہیں ہوتا جیسے اقارب و احباب سے جب کوئی بے اعتنائی ظہور میں آتی ہے تو وہ مبالغۃً یہ کہہ دیا کرتے ہیں کیا تم مجھ کو اپنا بھائی یا دوست نہیں سمجھتے حالانکہ دل میں ان کی محبت مرکوز ہوتی ہے اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ نے جب یہ دیکھا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے کلام سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ سے رنج اور آزردگی کی بو آتی ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بطورِ شکوہ محبانہ اور مخلصانہ عتاب آمیز لہجہ میں مبالغۃً یہ فرمایا کہ کیا تم دونوں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو (اور مجھے) کاذب و خائن وغیرہ سمجھتے ہو۔ واللہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ تو بار راشد اور تابع حق تھے حالانکہ سیدنا عمر فاروقؓ کو یقین تھا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور سیدنا عباسؓ کے دل میں حضرت صدیقِ اکبرؓ کی محبت ایسی پختہ اور راسخ ہے کہ کسی طرح بھی نکالے نہیں نکل سکتی۔ اسی لیے زبان سے ایسے کلمات کا نکالنا جن سے رنج اور آزردگی مرشح ہوتی ہے محبِّ صادق کی شان کے مناسب نہیں۔ (از افادات مولانا ادریس کاندھلویؒ)

حاصل جواب یہ نکلا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا عتاب کے رنگ میں سوالیہ کلام ہے ۔اس بات کی خبر نہیں ہے کہ واقعی حضرت عباس و حضرت علی رضی اللہ عنہما نے شیخینؓ کو ایسا جانا۔ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ و سیدنا عباسؓ نے ایک دفعہ بھی ایسا کبھی نہ کہا تو اب ان الفاظ کو بہانہ بنا کر حضرت علی المرتضیٰؓ کا مقولہ بنا لینا اور شیخینؓ کو گالیاں دینا کسی مسلمان کی شان نہیں ہے۔

*سوال نمبر 435:* حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بنو ہاشم کے کس فرد کو کلیدی عہدہ دیا؟

*جواب:* حضرت علی المرتضیٰؓ کو مرکز میں وزیرِ اوقاف و مالیات بنایا۔ (بخاری، مسلم) مشیرِ خاص بنایا۔ (کنز العمال: جلد، 3 صفحہ، 134) قاضی اور مفتی بھی بنایا۔ (الفاروقؓ: صفحہ، 343) غیر موجودگی میں نائب خلیفہ بنایا۔ (فتوح البلدان: صفحہ، 14)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنا خاص مشیر بنایا۔ دلیل وہ مشہور روایت ہے کہ جب حضرت عمر فاروقؓ سیدنا ابنِ عباسؓ کو مجلسِ شورٰی میں اپنے قریب ترین بٹھاتے تھے تو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وجہ پوچھنے پر حضرت ابنِ عباسؓ سے سورت النصر کی تفسیر پوچھی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مطمئن ہو گئے۔ (کتبِ صحاح)

*سوال نمبر 436:* انصار میں سے کن کن اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم کو گورنر بنایا؟

*جواب:* اس سوال کا آپ کو حق نہیں۔ کیونکہ آپ انصار کو مانتے ہی نہیں۔ کیونکہ ان کو پہلے اجتماع ہی سے شیعہ کی فرضی امامت دفن ہو گئی تھی۔ تو پھر ان کے عہدہ پانے سے آپ کیسے خوش ہوں گے بجز اس کے کہ عہدہ دینے نہ دینے دونوں صورتوں میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر طعن اور تشنیع کر کے نامہ اعمال سیاہ کریں۔ چند حضرات کے نام یہ ہیں: 

1: حضرت معاذ بن جبلؓ (علم الامتہ بالحلال والحرام) حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے بعد شام کے گورنر تھے۔ 18ھ میں طاعون عمواس میں شہادت پائی۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے تھے۔ اگر میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو زندہ پاتا تو اپنے بعد خلیفہ بناتا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 234)

2: سیدنا سعدؓ بن عبید النعمان (جو سیدنا سعدؓ قاری کے نام سے مشہور انصاری ہیں) کہ بیٹے سیدنا عمیر بن سعدؓ کو شام کے ایک حصے کا والی بنایا تھا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 42)

3: سیدنا ابو عبس بن حبیر بن عمرو بن زیدؓ ان کو حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر رضی اللہ عنہما عاملِ صدقات بناتے تھے۔ (ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 37)

صفحہ 2 از 3