حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی…

حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی وجہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 5

جواب: آیت کا مطلب ہے کہ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو۔ (سورۃ البقرہ: پارہ، 2 رکوع، 12) حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر یہ بہتان ہے ورنہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ جماع کا مقام تو ایک ہے مگر لیٹے، بیٹھے، اگلی سمت سے یا پچھلی سمت سے جیسے چاہو وطی کر سکتے ہو سیدنا عمر فاروقؓ کے فعل کی تائید ہی میں یہ آیت نازل ہوئی۔ معترض کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس نے فطرتِ سیئہ کے مطابق حضرت عمرؓ پر وطی در دبر کا ناپاک الزام لگا دیا ورنہ حدیث شریف میں صراحت ہے۔

فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌ اقبل وادبر واتق الدبر والحیضۃ

(ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 143)

ترجمہ: کہ جیسے چاہو کھیتوں میں آؤ۔ آگے سے یا پیچھے سے مقامِ پاخانہ اور حالتِ حیض سے بچو۔

سوال نمبر 415: بخاری کتاب التفسیر میں ہے کہ حضرت ابنِ عمرؓ وطی فی الدبر کے ہمیشہ قائل رہے؟

جواب: یہ بھی ناپاک بہتان ہے ورنہ نافع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابنِ عمرؓ سے پوچھا کہ یہ کس مسئلہ میں نازل ہوئی فرمایا۔ اس، اس مسئلہ میں نازل ہوئی۔

دوسری روایت میں یہ ہے۔ یاتیھا فی کہ عورت کے پاس اس طریقے سے آئے۔

دراصل سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے شدتِ حیاء سے اشارۃً بتایا کہ آیت کے مطابق عورت کے پاس آگے اور پیچھے کی سمت سے جماع ہو سکتا ہے۔ مگر غلطی سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ وطی فی الدبر کے قائل تھے۔ جیسے مشتاق اس کا مشتاق بن چکا ہے۔ بعض نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا وہم قرار دیا مگر سب سے صحیح بات وہ ہے جو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ اور جمہور اہلِ سنت نے کہی ہے کہ وطی فی الدبر حرام ہے اور سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی بات کا مطلب یہ ہے کہ مقامِ جماع میں پیچھے کی طرف سے بھی جماع ہو سکتا ہے اور یہی اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌ کی تفسیر ہے۔ (قسطلانی، بحوالہ بخاری: جلد، 2 صفحہ، 649 حاشیہ)

سوال نمبر 416: موجودگی آب میں ڈھیلے، پتھر سے استنجا کا جواز قرآن سے دکھائیے؟

جواب: یہودیت کا چربہ مذہبِ شیعہ اب طہارت کے متعلق بھی وہی اعتراضات مسلمانوں پر کر رہا ہے جو یہودی کیا کرتے تھے۔ پانی ہر وقت پاس نہیں ہوتا اور نہ ہر براز کی جگہ ملتا ہے تو کیا ڈھیلے وغیرہ سے گندگی صاف نہ کرے۔ یہی شیعہ تہذیب ہے؟ پس جب وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ (اور پلیدی دور کیجئے) کا حکم قرآنی ہے تو اس فعل پر اعتراض کیوں؟ اور سورت توبہ کی آیت جو مسجدِ قبا والوں کی شان میں اتری۔

فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا ‌وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ‏ (سورۃ التوبة: آیت 108)

ترجمہ: اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں ان کی تعریف اس لیے کی گئی ہے کہ وہ پہلے ڈھیلے سے استنجا کرتے تھے پھر پانی سے بھی کرتے تھے تو جمع بین الطریقین کی وجہ سے ممدوح ہوئے۔ یہاں باب تفعل کا صیغہ تطھر استعمال ہوا ہے جو بتکلف کوشش اور مبالغہ پر دلالت کرتا ہے تو پتہ چلا کہ ڈھیلے وغیرہ سے جب مخرج سے درھم بھر پھیلا ہوا نہ ہو طہارت تو حاصل ہو جاتی تھی مگر خوب پاکی استنجا بالماء سے بھی کرتے تھے۔ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اگر ابتداءً ہی پانی سے استنجا کیا جائے تو قطرہ بول رسنے سے استنجا صحیح نہ ہو گا خصوصاً بوڑھے کمزوروں کو قطرہ خشک کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کا بہترین طریقہ وٹوانی اور ڈھیلے کا استعمال ہے۔

سوال نمبر 417: کسی مرفوع حدیث سے اس طریقہ کا سنتِ نبویﷺ ہونا ثابت کریں؟

جواب: بخاری شریف میں باب الاستنجاء بالحجارۃ میں ہے کہ آنحضورﷺ‏ حاجت کے لیے نکلے۔ میں (سیدنا ابو ہریرہؓ) آپ کے قریب گیا تو مجھ سے فرمایا ڈھیلے وغیرہ تلاش کر لا، تاکہ میں صفائی حاصل کروں۔ ہڈی اور گوبر نہ لانا۔ میں نے پتھر لا کر آپﷺ‏ کے پہلو میں رکھ دیئے۔ اور دور چلا گیا آپﷺ نے قضاء حاجت کے بعد ان کو استعمال کیا۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 27)

سوال نمبر 418: حضرت عمر فاروقؓ نے پیشاب کے بعد ذکر کو دیوار سے کیوں رگڑا؟

جواب: قطرات خشک کرنے کے لیے ڈھیلا وغیرہ نہ مل سکا ہو گا۔

سوال نمبر 419: صاحب السِر حضرت حذیفہؓ سے سیدنا عمر فاروقؓ اپنے بارے کیا پوچھتے تھے؟

جواب: منافقوں کی تعیین کراتے تھے پھر ان کے شر سے بچتے تھے۔ کمالِ تقویٰ و خشوع سے اپنے بارے ایک دفعہ وہم ہوا تو پوچھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نفی میں جواب دیا تو خدا کا شکر بجا لائے اگر سیدنا حذیفہؓ کی رازداریٔ رسولﷺ‏ پر شیعہ کو اعتماد ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انہوں نے مومنوں میں شمار کر دیا۔ تو اب عمر دشمنی اور نفاق کا ناپاک بہتان ختم ہونا چاہیے مگر شیعہ خود ایمان سے محروم اور کٹر منافق ہیں۔ اپنی ادائیں کیوں چھوڑیں؟

سوال نمبر 420: تاریخ واقدی اور مسلم میں ہے۔ روم و فارس کے خزانوں کی فتوحات کی خبر دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تم باہم حسد و نفسانیت اور بغض رکھو گے بتائیے اس وقت حاکم مسلمین کون تھا؟

صفحہ 3 از 5