حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی…

حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی وجہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 5

وان کنت طلقتھا ثلاثاً فقد حرمت علیک حتیٰ زوجًا غیرک و عصیت اللہ فیما امرک من طلاق امرتک

ترجمہ: اور اگر تو نے تین ہی دے دی ہیں تو وہ تجھ پر حرام ہو گئی تاآنکہ وہ کسی اور سے نکاح کرے اور تو نے بیوی کو تین طلاقیں دے کر خدا کی نافرمانی کی۔

اس سے پتہ چلا کہ تین طلاقیں معاً یا متفرق دے دینا اگرچہ خدا کی نافرمانی ہے مگر وہ لغو نہیں ہیں وہ نافذ اور مؤثر ہیں۔ بیوی حرام رہے گی جب تک اور خاوند نہ دیکھے۔

ان مفصل احادیث کی روشنی میں مسلم صفحہ 478 کی ان مجمل احادیث کا مطلب اخذ کیا جائے گا جس سے سائل حضرت عمر فاروقؓ پر اعتراض جڑ رہا ہے کہ حضورﷺ تو تین کو ایک قرار دیتے تھے مگر سیدنا عمر فاروقؓ نے تین کو تین قرار دے کر امت پر تنگی پیدا کر دی ہے جیسے اہلِ حدیث حضرات بھی اس غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں۔ اس کے کئی جواب دیے گئے ہیں:

1: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت مرفوع نہیں ہے کہ بلکہ اپنا تاثر و تبصرہ ہے جو کہ عہدِ نبوت میں صغیرالسِّن تھے تو روایات بالا کے مقابل اسے آپ کی ناسمجھی پر حمل کیا جائے گا۔

2: یہ قرانی آیات کے برخلاف ہے اللہ کا فرمان ہے طلاق رجعی (ایک) یا دو مرتبہ ہے پھر یا تو رجوع کر کے گھر میں رکھو یا بالکل چھوڑ دو اگر تیسری طلاق دی تو وہ خاوند اوّل کے لیے حلال نہیں حتیٰ کہ اور خاوند سے نکاح کرے۔ (سورۃ البقرہ: پارہ، 2 رکوع، 13)

تین الگ الگ لفظوں سے دے (قرانی صورت) یا ایک کلمے سے کہے میں نے تین طلاقیں دیں۔ تو ائمہ رابعہ رحمہم اللہ اور جمہور علماء اسے مغلظہ ہی شمار کرتے ہیں۔ طاؤس، بعض اہلِ ظاہر اور رافضیوں کا اعتبار نہیں ہے۔

3: اوپر والی حدیثوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ حضورﷺ نے تین کو تین گنا ہے تو حضرت ابنِ عباسؓ کی اس روایت پر عمل نہ ہو گا بلکہ تاویل کی جائے گی۔ تو امام نووی رحمۃ اللہ نے تاویلی جوابات یہ دیئے ہیں۔

4: مطلب یہ ہے کہ اگر عہدِ نبوت میں کوئی انت طالق، انت طالق، انت طالق، کہہ دیتا نہ تاکید کی نیت کرتا۔ نہ علیحدہ گنتی کی تو ایک طلاق کا حکم دیا جاتا تھا۔ کیونکہ اس وقت تین گننے کا رواج نہ پڑا تھا تو غالب رواج کے تحت ایک کی تاکید سمجھی جاتی تھی۔ اب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ارادۃً تین دی جاتی ہیں تو تین ہی نافذ کر دی گئیں۔

5: حضور اکرمﷺ کے عہد میں ایک طلاق کا رواج تھا یعنی تین کا کام ایک سے ہی لیتے تو ایک سمجھی جاتی۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بیک دفعہ تین طلاقیں دینے لگے تو تین ہی نافذ کیں۔ گویا لوگوں کی عادت میں اختلاف کا بیان کیا گیا ہے مسئلہ کی تبدیلی کا حکم نہیں ہے۔

الحاصل، تین طلاقوں کو تین قرار دینا سیدنا عمر فاروقؓ کی ایجاد اور بدعت نہیں ہے۔ قرآن، سُنتِ نبوی اور ائمہ اربعہؒ، جمہور علماء امت کا یہی فیصلہ ہے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اثر کو غلط سمجھا گیا ہے۔

سوال نمبر 411: بخاری مناقبِ سیدنا عمر فاروقؓ میں ہے کہ آپؓ نے شراب نبیذ پی لی۔ کیا شراب جائز سمجھتے تھے؟

جواب: متعہ باز اور شراب نوش ذاکر مجتہد صاحبان حضرت عمر فاروقؓ پر ناپاک بہتان اگر نہ لگائیں تو پھر شیعہ کیسے بنیں؟ نبیذ کی حقیقت یہ ہے کہ رات کو کھجوریں پانی میں بھگو دیں اور صبح کو وہ میٹھا شربت بنا ہو گا، پی لیں۔ اسے کسی نے بھی شراب نہیں کہا۔ یہ شربتِ کھجور حضور اکرمﷺ‏ بھی پیا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی قاتلانہ حملے کے بعد یہ شربت نبیذ پھر دودھ پلایا گیا مگر دونوں پیٹ سے نکل آئے۔ شراب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کا شیرہ خالص ہو پھر وہ کئی دن بند رکھنے سے متعفن اور بدبو دار ہو جائے۔ جھاگ چھوڑے اس میں نشہ پیدا ہو جائے تو حرام ہے۔ اگر یہ حالت پیدا نہ ہو تو لیموں، مالٹا، گنا، انگور، کھجور ہر چیز کا تازہ رس پینا جائز اور پاک ہے۔ افسوس کہ شیعہ عمداً بزعمِ خود بھی یہ جھوٹا الزام لگا کر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں جبکہ شیعوں کے ہاں نشہ کی بدبو دینے والی شرابیں حرام نہیں ہیں۔

2: مسئلہ 7 ربوبات: اور شرابیں حرام نہیں ہیں اگرچہ ان سے نشے کی بو آتی ہو۔

شیرہ میں اسلاف (مصباح اللغات صفحہ 391 پر ہے: السلاف والسلافہ نچوڑنے سے پہلے جو خود بخود بہے یہ بہترین شراب ہے) مکروہ ہے جو شخص دو تہائی خشک ہونے سے پہلے مشروب خمر کو حلال سمجھتا ہو اسے پکانے کا امن دینا مکروہ ہے۔ (مختصر النافع للحلی: صفحہ، 256)

سوال نمبر 412، 413: کیا حضرت عمر فاروقؓ کو آیتِ تیمم معلوم تھی؟ اگر تھی تو انہوں نے یہ فتویٰ جاری کیوں کر دیا کہ پانی نہ ملے تو نماز نہ پڑھو؟(مسلم، بخاری) 

جواب: جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی میں آپ کو ذرا حیا نہیں آتی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسا فتویٰ کہاں دیا تھا؟ بلکہ تیمم کی آیت نازل ہونے یا طریقہ تیمم معلوم ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ و سیدنا عمارؓ ایک سفر میں تھے جنبی ہو گئے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ نے تو نماز نہ پڑھی۔ حضرت عمارؓ مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گئے۔ جب عمار رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ‏ کو آ کر بتلایا تو آپﷺ نے پھر تیمم کا طریقہ سمجھایا کہ چہرے اور ہاتھوں پر مٹی والا ہاتھ پھونک جھاڑ کر مَل دینا کافی ہے۔ پھر حضرت عمر بن خطابؓ یہی فتویٰ دیتے تھے۔چنانچہ دوسری روایات میں صراحت ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے ابزٰیؓ صحابی کو مسئلہ پوچھنے پر یہی بتایا۔ تفل فیھما یعنی دونوں ہاتھوں پر پھونک مارو (کہ زائد مٹی اڑ جائے) (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 48)

سوال نمبر 414: جامع ترمذی کتاب التفسیر میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وطی فی الدبر کی تو آیت نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ  نازل ہوئی۔ حضرت صاحب کو الٹی راہیں کیوں پسند تھیں؟

صفحہ 2 از 5