مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 8

ترجمہ: تم پر لکھا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اگر وہ مال چھوڑ کر مرا ہے تو اپنے والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے۔ 

واضح رہے کہ والدین اولاد وغیرہ مقررہ حصص والے وارثوں کے لیے وصیت کا حکم منسوخ ہے ناسخ يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ (اللہ تم کو اولاد کے متعلق تاکیدی حکم دیتا ہے) آیت ہے۔ حصہ نہ پانے والے وارثوں کے لیے تہائی مال تک سے وصیت ہو سکتی ہے مگر یہ حکم استحبابی ہے واجبی نہیں۔ (کتبِ میراث)

سوال نمبر 359: کیا رسولِ خداﷺ‏ عاملِ قران تھے؟

جواب: جی ہاں مگر آپ پر وصیت واجب نہ تھی کیونکہ قابلِ تقسیم ورثہ و ترکہ ہی نہ تھا۔ اُمُّ المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: 

ما ترک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عند موتہ درھما ولا دینارا ولا عبدا ولا امۃ ولا شیئا الا بغلتہ البیضاء وسلاحہ و ارضا جعلھا صدقہ (بخاری: جلد، 2 کتاب الوصایا)

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے اپنی موت کے وقت دینار، درہم، غلام باندی وغیرہ کچھ بھی نہ چھوڑا صرف سفید خچر اور ہتھیار ترکہ تھے اور وہ زمین (مالِ فے وغیرہ کی) جو صدقہ کر گئے تھے۔

سوال نمبر 360: اگر نہیں تھے تو امت کو عمل قرآن کی تعلیم کیوں فرمائی؟

جواب: عامل تھے۔ عمل کی تعلیم دینا آپﷺ‏ کے ذمہ تھی کیونکہ کئی احکام آپﷺ‏ کے لیے خالص ہیں اور کئی آپﷺ‏ کی امت کے لیے اور کئی عام ہیں۔ آخری دونوں کی یقیناً تعلیم دی مگر صد افسوس کہ شیعہ نے اس قرآن کا انکار کر دیا جو آپﷺ‏ امت کو تعلیم دے گئے تھے۔

سوال نمبر 361: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا شیخین رضی اللہ عنہما سے قطع کلامی کی تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بی بی صاحبہ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو خطاوار ٹھہرایا ہے؟

جواب: خطا وار ٹھہرانا دو طرح ہوتا ہے۔ 1: زبانی طور پر کہنا یا روکنا۔ اس طرح تو ان کو ادب مانع رہا۔ 2۔ دل میں ایسا سمجھ لینا۔ پھر عملاً تائید و نصرت نہ کرنا۔ دوسری صورت یقیناً پائی گئی۔ سیدنا عباس و سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے کوئی تائید و نصرت نہ کی۔ تبھی تو حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو بہت سخت سست کہا۔ ہم سنی کیوں ہیں صفحہ 250 میں حق الیقین کی وہ عبارت ہم لکھ چکے ہیں۔ یہاں دوبارہ لکھنے سے ادب مانع ہے اور یہ جواب شیعہ پروپیگنڈہ کا ہے۔ ورنہ ہمارے اعتقاد میں یہ رنجش بالکل وقتی تھی۔ جیسے والدین اور اولاد میں بھی ہو جاتی ہے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے معذرت کرنے سے راضی ہو گئیں یا وجدت، حزنت (غمگین ہوئیں) کے معنوں میں ہے پھر ترک کلام تین دن سے زائد شرع میں منع ہے۔ ہم سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا پر الزام نہیں لگا سکتے۔ جو شیعہ لگاتے ہیں کیونکہ یہ گناہ ہے۔

سوال نمبر 362، 363: بعد از وفات سیدہ فاطمہؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اولادِ سیدہ فاطمہؓ میں سے کسی نے اس اقدام کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا؟ تو نشاندہی کریں۔ 

جواب: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں بھی ورثاء حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہ دیا۔ نہ شیخین رضی اللہ عنہما کے عہد میں ان کو مالک بنایا نہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا۔ حالانکہ متولی خود تھے۔ تو یہ عملی کاروائی اس کا بین ثبوت ہے کہ اس اقدام کو انہوں نے غلط فہمی کا نتیجہ سمجھا۔ پھر وہ اکابر شیعہ مذہب نہ رکھتے تھے کہ کسی کی غلطی و خطا کو گاتے پھریں۔ ہم اہلِ سنت بھی ایسی جرأت و صراحت نہیں کرتے اور نہ کاملین کی لغزشوں کا ورد اور پھر مناظرہ بازی اچھی بات ہے۔ لہٰذا وقتی واقعہ کو وہ موضوع سخن نہ بناتے تھے۔ آخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خطا وار ٹھہرانے کی بھی ان سے صراحت منقول نہیں ہے حضرت زیدؓ کا ایسا قول 368 میں آ رہا ہے۔

سوال نمبر 364: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بی بی پاک (حضرت فاطمہؓ) سے گواہ طلب کیے۔ کیوں؟

جواب: ایسی روایت کو ہم مستند نہیں مانتے۔ رافضیوں کی بھرتی ہے۔ بالفرض کیے ہوں تو مُدعی سے گواہ مانگنا قرآن کا حکم ہے۔ (پارہ 3 رکوع 7)

سوال نمبر 365: کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث لا نورث بیان کرتے وقت گواہ پیش کئے۔

جواب: یہ حدیث حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ذاتی سماع از پیغمبرﷺ‏ سے حاصل تھی اس لیے گواہ کی حاجت نہ تھی۔ حکمِ پیغمبرﷺ‏ ہے۔ بلغوا عنی ولو اٰیۃ ایک حدیث و آیت بھی یاد ہو تو تبلیغ کر دو۔

سوال نمبر 366: کیا آپ اس اصول کو مانتے ہیں کہ قبضہ دلیلٹ ملکیت ہوتا ہے؟

جواب: دلیلِ تام نہیں ہوتا۔ نشانی اور قرینہ بن سکتا ہے۔ مگر یہ بھی اہلِ سنت کی ہی دلیل ہے کہ حضرت فاطمہؓ کو قبضہ حاصل نہ تھا۔ ورنہ زیرِ قبضہ چیز کے لیے دعویٰ کی کیا ضرورت؟ سیدہ فاطمہؓ نے بیدخلی کا دعویٰ نہ کیا تھا وہ تو انتقالِ وراثت چاہتی تھیں۔

سوال نمبر 367: اگر کوئی فریقِ مقدمہ اپنے خلاف مقدمہ کا خود ہی فیصلہ کر دے تو اس کی قانونی نقطہ نگاہ سے کیا حیثیت ہوتی ہے؟

جواب: یہ نرالا دستور شیعوں سے ہی معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہؓ نے عقل و نقل کے خلاف مقدمہ مدعیٰ علیہ کی عدالت میں دائر کیا اور امام برحق سیدنا علی المرتضیٰؓ کی عدالت کو چھوڑ دیا۔ دو باتیں لازم ہیں یا تو سیدہ معصومہ (حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا) نے غلطی کی کہ ظالم کے پاس مقدمہ لے گئیں یا پھر امام اوّل برحق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عدالت میں مقدمہ دائر کر کے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر حقانیت کی اور مذہبِ شیعہ کے غلط ہونے پر مہر لگا دی۔ 

حضرت ابوبکر صدیقؓ مدعیٰ علیہ یا فریقِ مقدمہ نہ تھے بلکہ قاضی منصف تھے ہاں مدعیٰ علیہم فقراء اور مساکین تھے جن کا حق اس دعویٰ سے متاثر ہوتا تھا۔ آپؓ چونکہ ان کے والی اور نمائندے تھے اسی لیے فرمانِ رسولﷺ کو مؤید تسلیم کر کے انتقالِ ارث کا فیصلہ نہ کیا بلکہ بحقِ فقراء وقف قرار دیا تو قانونی حیثیت سے مقدمہ کا فیصلہ مضبوط اور ٹائٹ ہے۔

صفحہ 7 از 8