مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 8

مگر اس ہنگامی دور کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے دیگر اہم شایانِ شان کام لیا ہے اور جنگوں میں بھیجنا مناسب نہ جانا۔ اس کے لیے چھوٹے درجے کے نوجوان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہترین جرنیل ثابت ہوتے رہے۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمانِ غنیؓ نے بھی جنگی خدمات لینے کی ضرورت نہ سمجھی اس میں علام الغیوب قادر مطلق نے یہ راز پنہاں رکھا تھا کہ شیعوں کا ایک فرقہ پیدا ہو گا جو عہدِ نبویﷺ‏ کے 37 غزوات و سرایا میں حضرت علی المرتضیٰؓ کے ہاتھ سے درجن پھر کافر قتل ہونے کی وجہ سے ایسا طوفانِ بدتمیزی مچائے گا کہ سوا لاکھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تین چار چھوڑ کر سب پر کیچڑ اچھالے گا اور فخر کرے گا۔ اگر ایران، روم، افریقہ، عجم و ترکستان (روس) کی فتوحات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جنگی خدمات کا ذرا بھی حصہ پایا گیا تو یہ زبان دراز ٹولہ انبیاء کرام علیہم السلام کی بھی پگڑیاں اچھالے گا۔ ہر مسلمان سے پوچھے گا۔ بتاؤ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیا کارنامہ ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا فتوحات کیں؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کتنے کافر مارے؟ (نقلِ کفر کفر نہ باشد، معاذ اللہ) جیسے وہ اب بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دینے کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق یہ یقینی کفریہ عقیدہ ہے کہ وہ ہر خوبی اور کمال میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گھٹیا تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فائق و افضل ہیں بلکہ امامت نبوت سے افضل ہے۔ (معاذ اللہ)

تو اللہ تعالیٰ نے کمالات کا توازن یوں برقرار رکھا کہ صحابیؓ رسولﷺ‏ کی حیثیت سے جو شیعہ کے ہاں معیارِ فضیلت ہی نہیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ایمان، عمل، علم، تقویٰ شجاعت، شرافت ہر صفت سے نوازا اور اہلِ سنت کے ہاں بعد از پیغمبرﷺ‏ یہ پوزیشن بحال رہی مگر بعد از پیغمبرﷺ‏ شیعہ کے منصوص من اللہ امام کی حیثیت سے ایک وصف و کمال بھی با اعتراف شیعہ ظاہر نہ ہو سکا کیا کوئی شیعہ مجتہد اس پر روشنی ڈال سکتا ہے؟

سوال نمبر 350 تا 353: غصب فدک کے متعلق ہے ہم دوبارہ یہ بحث نہیں چھیڑتے تحفہ امامیہ کے 64 صفحات پر ہر قسم کی قیل و قال کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

سوال نمبر 354: کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول درست ہے کہ فدک خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت تھا؟

جواب: لفظ ملکیت ایجادِ بندہ ہے وہاں نہیں البتہ یہ درست ہے کہ خالص آنحضرتﷺ‏ کے زیرِ تصرف تھا۔ آپﷺ‏ جیسے چاہیں خرچ کریں۔ قران میں مذکور 8 مصارف پر خرچ کریں کسی کو کم دیں یا زیادہ کسی کو اعتراض کا حق نہ تھا۔ اگر ذاتی ملکیت سمجھا جائے تو دو خرابیاں لازم آتی ہیں۔

ایک یہ کہ وہ ذاتی کمائی ہبہ وغیرہ سے حاصل ہوا ہو۔ حالانکہ وہ منصبِ نبوت اور حاکمانہ رعب سے حاصل ہوا۔ تو خرچ بھی رفاہی مدات میں ہو گا۔ دوم یہ کہ قران شریف نے ایسے مالِ فے کے آٹھ مصارف سورۃ حشر میں ذکر کیے ہیں تو مشرکہ مال ہوا ذاتی ملکیت نہ ہوا ہاں آپ اپنی ذات پر برادری پر یتامیٰ، مساکین، فقراء وغیرہ پر خرچ کرنے کے ایسے مجاز تھے کہ کسی کو چون و چرا کا حق نہ تھا۔ 

بخاری ابوداؤد جلد 2 صفحہ 56 پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے لیے ایک چیز مخصوص کی ہے اور کسی کے لیے نہ کی۔ تو رسول اللہﷺ اس مالِ مخصوصہ سے سال بھر کا خرچ لے کر باقی مصارف (ثمانیہ 8) میں خرچ کر دیتے تھے۔

سوال نمبر 355 تا 357: کیا رسول اللہﷺ نے اپنی اولاد کے لیے وصیت فرمائی؟ تو کیا تھی؟ ورنہ کیا اہلِ خانہ کو امت کے رحم و کرم پر چھوڑا؟

جواب: مالی سلسلے میں کوئی وصیت نہیں فرمائی۔ یہی بات دلیل ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا ورثہ نہ بٹتا ہے نہ وصیت کے کام آتا ہے۔ بلکہ وہ عام صدقہ بیت المال کا حق قرار پاتا ہے اور حضور اکرمﷺ‏ کے زہد کا تقاضا یہی تھا کیونکہ آپﷺ‏ کو حکم تھا:

قُلۡ مَاۤ اَسۡئَـلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ‏ (سورۃ ص: آیت 86)

ترجمہ: آپ فرمائیے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔

تو اگر بقولِ شیعہ نبوت اور حکومت کے رعب سے ایک بڑی جائیداد حاصل کریں اور دولت سے انبار بھر دیں جو ورثاء میں بٹے یا وصیت کی ضرورت پڑے تو یہ دنیا داروں کا سا بڑا تکلف ہوتا۔ اللہ نے اپنے پیغمبرﷺ‏ کو اس حالت میں رخصت کیا کہ خالی ہاتھ تھے۔ ذرہ ایک یہودی کے ہاں گروی رکھی گئی تھی۔

اولاد کا فکر ہا تھا کیونکہ اس وقت ایک صاحبزادی تھی جو حضرت شیرِ خدا رضی اللہ عنہ جیسے طاقتور اور کمائی والے کے گھر تھی۔ فکر ہو سکتا تھا تو نو بیواؤں کا۔ مگر ان کو بھی اللہ کے بھروسے پر چھوڑا کوئی جائیداد ان کے نام وقف نہیں کی۔ وصیت فرمائی تو صرف تین باتوں کی۔ نماز، غلاموں اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک یہود و نصارٰی کا جزیرۃ العرب سے اخراج عہدِ نبوت کے بعد گھرانہ نبوی کے خرچ کا بندوبست یہ تھا کہ: 

خیبر اور فدک کی جو زمینیں تھیں ان کا انتظام (بعد از سیدنا ابی بکر رضی اللہ عنہ) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ اس طرح حضرت عمر فاروقؓ نے متروکہ زمینوں کو دو حصوں پر تقسیم کر دیا۔ ایک اموال بنی نظیر یعنی جائیداد مدینہ جس میں سے اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے سالانہ مصارف دیئے جاتے تھے۔ اس کا انتظام تو حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا اس لیے کہ دونوں حضرات خواست گار تولیت ہوئے کہ وقفِ نبوی میں ذوی القربیٰ یعنی اقرباء نبوی کا بھی حق ہے بلکہ ان کا حق سب سے مقدم ہے اور یہ دونوں حضرات ذوی القربیٰ کے احوال اور ان کی ضروریات سے بخوبی واقف تھے۔ (سیرت المصطفیٰ: جلد، 3 صفحہ 379 از مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ)

سوال نمبر 358: قران مجید میں جو وصیت کا حکم آیا ہے وہ نقل فرما دیجئے؟ 

جواب: كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ اِنۡ تَرَكَ خَيۡرَا اۨلۡوَصِيَّةُ لِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ (سورۃ البقرة: آیت 180)

صفحہ 6 از 8