مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 8

سچا قرآن فرماتا ہے: اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو خدا کو چھوڑ کر ایسے کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب ہی نہ دے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر بھی رہیں اور قیامت کے دن جب سب آدمی جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن بھی ہوں گے اور ان کی عبادت کے منکر بھی۔ (سورۃ الأحقاف: آیت 5، 6) (ترجمہ مقبول: صفحہ، 601)

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے کلماتِ حکمت میں ہمیں یہ دو مقولے ملے ہیں:

1: مجھ سے پانچ باتیں لے لو تم میں سے ہر شخص اپنے گناہ ہی سے ڈرے صرف اپنے رب سے امید رکھے نہ جاننے والا سیکھنے میں شرم نہ کرے اور عالم سے اگر وہ بات پوچھی جائے جو نہ جانتا ہو تو وہ یہ کہنے میں شرم نہ کرے۔ اللہ بہتر جانتا ہے صبر ایمان کا سر ہے۔ صبر گیا تو ایمان ختم۔ جب سر کٹا تو بدن ختم۔

2: پورا عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ کرے انہیں گناہوں کی چھٹی نہ دے اور خدا کے عذاب سے نڈر نہ کرے۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 142) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ ڈر اور گریہ اسی حقیقت کی تصویر تھی۔

سوال نمبر 346: اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بیعت نہ کرے تو اس کا گھر جلا دو۔ حکمِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ۔ تاریخ ابو الفداء: صفحہ، 165 کیا خلیفہ برحق ایسے بیعت طلب کرتے ہیں؟ 

جواب: ہمارے نزدیک بالکل غلط روایت ہے مولانا شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: 

اور جو کچھ قصہ قنفذ اور دروازہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا جلا دینے کا اور ان کے پہلو میں تلوار چبھونے کے معاملہ میں لکھا ہے یہ سب جھوٹی باتیں اور افتراء شیاطینِ کوفہ کے ہیں جو شیعہ اور رافضیوں کے پیشوا ہوئے ہیں ہرگز کسی اہلِ سنت کی کتاب میں نہ صحیح طریق پر نہ ضعیف طریق پر موجود ہے۔ (تحفہ اثناء عشریہ اردو: صفحہ، 715)

حضرت علی المرتضیٰؓ بروایت تاریخِ طبری تین دن بھی بیعت سے الگ نہیں رہے تو ایسی بات پیدا نہیں ہوئی۔ 

بالفرض والمحال ایسا اگر کہا ہو تو یہ صرف دھمکی ہے حقیقت نہیں ہے جیسے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے جمعہ سے الگ رہنے والوں یا نماز باجماعت نہ پڑھنے والے منافقوں کے متعلق یہ فرمایا: میں ان کے گھر جلانا چاہتا ہوں مگر معصوم بچوں کے جلنے کا اندیشہ ہے۔ الحدیث 

عدلیہ کے علمبردار ذرا انصاف سے دیکھیں خلیفہ برحق سے منسوب یہ دھمکی سخت ہے یا قصاصِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت مشروط کرنے والوں پر چڑھائی کر کے 70 ہزار مسلمانوں کا کٹ جانا زیادہ سخت ہے؟

سوال نمبر 347: ازالتہ الخلفاء صفحہ 199 میں ہے کہ حضور اکرمﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا ثقلتک امک یہ بد دعائیہ کلمہ آپﷺ‏ نے کیوں کہا؟ 

جواب: صحیح لفظ ثکلتک امک ہے۔ تیری ماں تجھے گم پائے یہ کلمہ بددعائیہ نہیں بلکہ عربوں کا عام محاورہ ہے۔ مخالف کو اس کی سوچ کے خلاف جب بات بتانی ہو تو ایسا کہہ دیتے ہیں جیسے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

ویحک یا عمار تقلتک الفئۃ الباغیۃ (بخاری) 

ترجمہ:اے سیدنا عمارؓ! تجھ پر افسوس تجھے باغی ٹولہ (قاتلِ سیدنا عثمان) قتل کرے گا۔ 

یہاں بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ شرک صرف غیر اللہ کی عبادت کا نام ہے حضور اکرمﷺ‏ نے اس کے خلاف فرمایا کہ نہیں۔ بلکہ شرک خفی بھی ہوتا ہے جو ریا اور دکھلاوا ہے چیونٹی کی چال سے بھی سست وہ مسلمانوں میں چلتا ہے۔

سوال نمبر 348: کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کسی بھی جنگ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ماتحت ہوئے؟

جواب: جب جنگ و جہاد سے بھی افضل عبادات حج اور نماز حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ماتحتی میں ادا کیں تو افضلیت ثابت ہو گئی۔ بخاری شریف میں ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج 9 ہجری میں ان منادیوں میں مقرر کر بھیجا جو منیٰ میں یہ اعلان کرتے تھے کہ اس سال کے بعد نہ کوئی مشرک حج کرے گا نہ ننگے بدن بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد رسول اللہﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور حکم دیا کہ وہ بھی برأت کا اعلان کریں۔ (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) چنانچہ ہمارے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے مل کر اہلِ منیٰ میں برأت کا اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک نہ حج کرے نہ بیت اللہ کا ننگے طواف کرے۔ 

یہاں سے صراحتاً پتہ چل گیا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حضورﷺ‏ نے معزول نہیں کیا تھا بلکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو ایک مؤذن باقی مؤذنوں سمیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں بنا کر بھیجا۔ تاکہ عربوں کا یہ اصول پورا ہو جائے کہ عہد شکنی کے اعلان وغیرہا کو خود معاہد یا اس کا چچا زاد بھی برسرِ عام کرتے۔ (صواعقِ محرقہ: صفحہ، 33)

سوال نمبر 349: کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کوئی جنگ لڑی؟ 

جواب: مرتدین اور منکرینِ زکوٰۃ کو دوبارہ مسلمان بنانے کے لیے جو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے 11 دستے مقرر فرمائے۔ ایک کی کمان خود سنبھالی کہ بنو عبس اور بنو زیبان کے مقابلے میں خود گئے اور انہیں زیر کیا۔ (تاریخ اسلام: صفحہ، 112) ایک کے کماندار حضرت علی المرتضیٰؓ تھے۔ ملا فتح اللہ کاشانی شرح نہج البلاغہ فارسی میں لکھتے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بہت سے عرب بدل گئے اور دین سے مرتد ہو گئے اور اصحابِؓ رسولﷺ‏ اس معاملہ میں عاجز و حیران رہ گئے۔ جب سیدنا علی المرتضیٰؓ نے یوں دیکھا تو صحابہؓ رسول اللہﷺ‏ کی دلداری کرتے ہوئے حیدری بازوؤں کے زور کے ساتھ مرتدوں کو جہنم میں بھیجا اور پھر دین کا انتظام ٹھیک ہو گیا۔ (ترجمہ و شرح نہج البلاغہ تحت مکتوب امیر بسوئے اہالیان مصر بحوالہ رحماء بینھم حصہ اول: صفحہ، 279)

صفحہ 5 از 8