مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 8

جواب: صواعقِ محرقہ فصلِ پنجم سب دیکھی اس میں ایسا کوئی بہتان نہیں ہے کہ اپنی صاحبزادی کا وظیفہ 10 ہزار درہم مقرر کیا۔ باغ کا طعن ہم بار ہا رد کر چکے ہیں۔ روضتہ الاحباب غیر معتبر کتاب ہے۔ خلفاءؓ نے باغ اگر فقراء کے نام قرآن شریف کے مطابق وقف کر دیا تو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی ویسے بہت امداد کی۔ سیرت المصطفیٰ جلد 2 صفحہ 383 پر ہے: پھر ان مدعیان غصب کو یہ خیال نہیں آتا کہ خلفاء نے زمانہ خلافت میں فقیرانہ اور درویشیانہ زندگی گزاری اور اہلِ بیت کرام رضی اللہ عنہم کو بیک وقت 50 ہزار اور 60، 60 ہزار درہم و دینار دیا کرتے تھے۔ جس وقت شہر بانو شہزادیٔ ایران خلیفہ برحق کے زمانہ خلافت سراپا شوکت و عظمت میں مقید ہو کر آئیں تو خلیفہ وقت نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو حصہ غنیمت دینے کے بعد تینوں کو 30، 30 ہزار درہم دیے اور اس کے علاوہ خاص حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہر بانو مع ان کے زیور جواہرات کے عطا کی جس کا ہر جوہر اور موتی اتنا قیمتی تھا کہ ایک موتی کی قیمت سے کم از کم سو باغِ فدک خریدے جا سکیں۔

سوال نمبر 344: جنگِ خندق میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کردار میں سپردِ قلم کیجیے؟ 

جواب: وہی کردار ہے جو حضرت رسولِ خداﷺ‏ اور تین ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا سخت سردی کے موسم میں بھوکے پیاسے لمبی چوڑی دفاعی خندق کھود کر مہینہ بھر دشمن کے سامنے ڈٹے رہے خندق کے جس جس حصے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمانِ غنی، حضرت علی المرتضیٰ وغیرہم رضی اللہ عنہم کو متعین کیا تھا وہاں سے دشمن کو اگے نہ بڑھنے دیا آج ان مقامات پر بطورِ یادگار مساجد رقمِ آثم نے خود دیکھی ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے سے خندق کم چوڑی تھی۔ چار پہلوان خندق پار کر آئے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ایک جماعت کے ہمراہ ان پر حملہ کیا۔ 90 سال کا پہلوان عمرو بن ود مارا گیا۔ شیعہ تفسیر قمی سورت احزاب میں قتل کا واقعہ یہ لکھا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے داؤ کھیلا۔ اتنے بڑے پہلوان ہو پھر ساتھی لے کر مجھ سے لڑتے ہو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے اس کے پاؤں پر وار کیا اور دوسرا سر پر کیا تو جہنم رسید ہو گیا ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس پانچ منٹ کی بہادری اور شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کے کارنامے کا اعتراف ہے۔ مگر کیا آپ کو یہ تعلیم حضرت علی المرتضیٰؓ نے دی کہ اس گھمنڈ میں باقی تین ہزار مہاجرین انصار رضی اللہ عنہم کی پگڑیاں اچھالتے رہو نام لے لے کر پوچھو کہ فلاں فلاں کے کیا کارنامے ہیں کیا آپ اپنے تین یاروں حضرت ابوذر، حضرت مقداد اور حضرت عمار رضی اللہ عنہم کے کارنامے بھی اس جنگ میں بتا سکتے ہیں؟ معاف کیجئے فضیلت جتلانے کا یہ کا معیار انتہائی گھٹیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کل آپ کے خلاف اور مہاجرین کی حمایتی ہوں گے جب کہ دیگر جنگوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا قتل کرنا بھی ثابت ہے۔ مسلم شریف جلد 2 صفحہ 89 پر ہے کہ غزوۂ بنو فزارہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضور اکرمﷺ نے امیر بنایا تھا۔ ثمہ شن الغاره فورد الماء فقتل من قتل علیه وسبی کہ خوب حملہ کیا پانی پر اترے تو کتنے آدمی قتل کیے کتنے قیدی بنائے۔

سوال نمبر 345: شہداء احد کے متعلق حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا میں ان کا گواہ ہوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ہم ان کے بھائی نہیں تو حضور اقدسﷺ‏ نے فرمایا معلوم نہیں میرے بعد تم کیا احداث کرو گے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے بتائیے آپﷺ‏ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے گواہ کیوں نہ ہوئے (کشف المغطاعن المؤطا: صفحہ، 301)

جواب: یہ پوری جنس امت کو خطاب ہے لیکن شخصی خطاب بنا کر طعن تراشا گیا ہے درحقیقت اس میں یہ جتلانا ہے کہ مدار خاتمہ بالخیر پر ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہید ہو گئے ان کا خاتمہ بالخیر اور آپ کی شہادت یقینی ہے مگر جو امتی زندہ ہیں یا بعد میں آئیں گے اور فوت ہوں گے۔ ان کی وفات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی یا گواہی نہ ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی گناہ و احداث میں مبتلا ہو تو حضور اقدسﷺ‏ یہ تنبیہہ فرما رہے ہیں کہ کیے ہوئے اعمالِ خیر پر ہی بھروسہ نہ کرو خاتمہ بالخیر کا بھی فکر کرو تبھی تو سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے کیونکہ کاملین کی یہی شان ہے: ہر وقت اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: آیت 57) ورنہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو جنت کی بشارت ملی ہے حضورﷺ‏ کو ان کے خاتمہ کا فکر نہ تھا حضرت شعیب پیغمبر علیہ السلام فرماتے ہیں:

وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا‌ (سورۃ نمبر 7 الأعراف: آیت 89)

ترجمہ: کفر میں لوٹنا ہمارے لیے ممکن نہیں مگر یہ کہ ہمارا اللہ اور رب ہی یہ چاہے۔ 

یعنی اپنے مؤمن ساتھیوں کے خاتمہ بالخیر ہونے نہ ہونے کا حضرت شعیب علیہ السلام کو بھی فکر تھا سو سوا سو نام بنام مبشر بالجنتہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوا باقیوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہیں فکر تھا شیعوں کو چونکہ دولتِ ایمان حاصل ہی نہیں تو ان ملنگوں کو اس کے چھن جانے کا کیا ڈر وہ تو شفاعت قہری والا کفار کا یہ عقیدہ اپنائے ہوئے ہیں کہ چونکہ ہم شیعہ علی کہلاتے علی ولی اللہ پڑھتے۔ ماتم و بین کرتے اور تعزیہ حسینی کی تعظیم کرتے ہیں تو آخرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے لال کے صدقے بنی ہوئی ہے۔ پر ہی نازاں اور خود فریبی میں مبتلا ہیں جلدی وہ وقت آنے والا ہے جب ایسے بدعمل بد عقیدہ بدعتی مشرکوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور ان کے فرضی شفعاء، شرکاء اور مشکل کشا ہستیاں ان سے تبرا کریں گی۔ 

اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِيۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡا وَرَاَوُا الۡعَذَابَ (سورۃ البقرة: آیت 166)

ترجمہ: پیر مشرک مریدوں سے بری ہو جائیں گے مرید عذاب دیکھیں گے اور تعلقات ختم ہو جائیں گے۔ 

صفحہ 4 از 8