مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 8

جواب: دو وجہیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ قرابت کی وجہ سے ادائیگی عہدِ نبوی کے ساتھ خاص سمجھتے تھے اور اس کی وجہ (واللہ اعلم) اس بات سے سمجھی کہ رسول اللہﷺ کے قریبی بنو عبد شمس اور بنو نافل بھی تھے۔ حضور اکرمﷺ‏ نے ان کو خمس نہ دیا صرف بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو دیا جب انہوں نے آ کر یہ گزارش کی:

قرابتنا و قرابتہم منک واحدۃ

ترجمہ: ہماری اور ان کی رشتہ داری تو آپ سے یکساں ہے۔

تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا میں اور بنو مطلب زمانہ جاہلیت میں اور اسلام میں اکٹھے رہے ہیں اور ہم انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ (ابو داؤد: صفحہ، 61)

تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفاتِ نبوی سے اس اصول میں کمی دیکھی تو خمس تو نہ دیا لیکن ان کے اخراجات بیت المال سے ادا کرتے رہے چنانچہ ابو داؤد صفحہ 58 پر ہے وانما یاکل ال محمد فی ھذا المال یعنی اللہ کے مال سے آلِ محمد حسبِ ضرورت کھاتے رہیں گے۔

2: حضرت ابوبکر صدیقؓ اموال کی تقسیم مساویانہ کی۔ قرابت یا اسلام میں اولیت وغیرہ کا خیال نہ کیا کہ ان چیزوں کا بدل اللہ ان کو دے گا رزق میں وہ سب مساوی ہیں۔ چنانچہ اس بناء پر خمس کی خصوصی ادائیگی بند کی اور مالی امداد عمومی تبرعات سے یا اپنے مال سے خصوصی کرتے رہے۔ ابو داؤد صفحہ 59 پر ہے کہ رسولِ خداﷺ‏ اپنے گھر والوں پر خرچ کے بعد بقیہ صدقہ کر دیتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ دو سال خلیفہ رہے تو اسی طرح کرتے رہے جو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی پالیسی اور اصولِ قرابت فضائل اور اولیتِ اسلام میں فرقِ مراتب کرنا تھا چنانچہ انہوں نے ادائیگی جاری رکھی اسی روایت میں صراحت ہے:

فکان عمر بن الخطاب یعطیھم منہ و عثمان بعدہ

کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کو خمس دیا کرتے تھے۔ 

خلاصہ یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اصول پرستی سے خمس نہ دیا تو ان کی ضروریات کا پورا خیال رکھا۔ حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانِ غنیؓ نے خمس جاری رکھا۔ یہ جواب روایت ماننے کی صورت میں ہے اگر اسے صحیح نہ مانے کیونکہ درجِ ذیل دو روایتیں اس کے خلاف ہیں تو جواب کی حاجت نہیں۔ دوسری روایت میں یہ صراحت ہے کہ خمس کے انچارج و متولی عہدِ نبوتﷺ‏ صدیقیؓ اور فاروقیؓ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ (اور اپنا حصہ باقاعدہ لیا کرتے تھے) فرماتے ہیں:

ولانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس الخمس فوضعتہ مواضعہ حیوۃ ابی بکر و حیوۃ عمر فاتی بمال فدعانی خذہ فقلت لا اریدہ فقال خذہ فانتم احق بہ قلت قد استغینا عنہ فجعلہ فی بیت المال (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 61)

ترجمہ: مجھے رسول اللہﷺ‏ نے خمس الخمس کا متولی بنایا میں نے حضور اقدسﷺ‏ کی زندگی میں اس کے مواقع پر خرچ کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اور سیدنا عمر فاروقؓ کی زندگی میں بھی اس کے مواقع پر خرچ کیا۔ پھر کچھ مال آیا مجھے بلایا کہ لے لو میں نے کہا میں نہیں لینا چاہتا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہنے لگے لے لو تم اس کے زیادہ حق دار ہو میں نے کہا اب ہم غنی ہو گئے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں ڈال دیا۔ 

تیسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں سیدنا عباسؓ اور سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور سیدنا زید بن حارثہؓ رسول اللہﷺ‏ کے پاس گئے میں نے کہا یا رسول اللہﷺ‏ اگر آپ کا خیال ہو کہ اس خمس کا کتاب اللہ کے مطابق مجھے متولی بنا دیں۔ تو اپنی زندگی میں تقسیم کر دیں تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے۔ حضورﷺ‏ نے ایسا کر دیا۔ تو میں نے رسول اللہﷺ‏ کی زندگی میں (اپنی برادری وغیرہ پر) خرچ کیا پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ متولی بنایا۔ تو میں یونہی تقسیم کرتا رہا یہاں تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا اور مال بہت آ گیا تھا تو آپ نے ہمارا حق نکالا اور میری طرف بھیجا۔ میں نے کہا ہمیں ضرورت نہیں ہے اور مسلمانوں کو ضرورت ہے تو ان کو تقسیم کر دیں چنانچہ انہوں نے تقسیم کر دیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے کسی نے نہ بلایا۔ (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 61)

دو روایتوں سے معلوم ہوا کہ بنو ہاشم کو بدستور عہدِ نبوت کی طرح عہدِ صدیقی اور فاروقی میں خمس ملتا رہا ان کی کوئی مالی حق تلفی نہیں ہوئی جب وہ امیر ہو گئے تو خود چھوڑ دیا۔

سوال نمبر 342: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سفیرِ قریش کو بُت کی شرم گاہ چاٹنے کی گالی حضورﷺ‏ کے سامنے کیوں دی اور مذکر بُت کے لیے یہ مؤنث بات کرنا کیسی تہذیب و علم ہے؟ 

جواب: سبحان اللہ! صاحبغ پیغمبر کی دشمنی میں اب کفارِ قریش کے حمایت و طرف داری کی جا رہی ہے آپ کی مسلمانی قابلِ داد ہے کیا حضور اکرمﷺ‏ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے یا رضا و جنت کی سند پانے والے 1500 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی یہ اعتراض کیا تھا؟ خود قریشی سفیر کو جب یہ پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں تو آپ کے سابق احسانات یاد کر کے خاموش ہو گیا۔ یہ گالی نہ تھی۔ کافر کی اشتعال انگیزی کا مناسب جواب تھا جیسے قرآن نے عُتُلٍّ بَعۡدَ ذٰلِكَ (سورۃ القلم: آیت 13) الخ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بت خواہ مذکر کے نام و شکل پر ہوں۔ حقیقتاً مؤنث ہیں۔ قران مجید میں ارشاد ہے:

اِنۡ يَّدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰـثًـا‌ (سورۃ النساء: آیت 117) 

ترجمہ: مشرکین اللہ کے علاوہ صرف عورتوں کو پکارتے ہیں۔ 

نیز مشرکین لات و منات اور عزی کو خدا کی بیٹیاں کہتے تو فرمایا کیا تم نے لات عزی اور تیسری منات کو دیکھا تم تو بیٹے پسند کرو اور خدا کے لیے بیٹیاں ہوں یہ تو غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ (سورۃ النجم: آیت 19، 22)

معترض سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی عربیت میں غلطی نہ پکڑے اپنے علم و تہذیب کا ماتم کرے۔

سوال نمبر 343: صواعقِ محرقہ باب اوّل فصل 5 اور روزۃ الاحباب میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کا وظیفہ 10 ہزار درہم مقرر کیا دخترِؓ رسولﷺ‏ کا باغ کیوں چھینا؟

صفحہ 3 از 8