مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 8

جواب: جب ہم سنی و شیعہ معتبر کتب سے رضامندی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا ثابت کر چکے ہیں۔ (دیکھیے تحفہ امامیہ: صفحہ، 185 تا 188) پھر خاص کتاب کے حوالہ پر اصرار بچوں یا معاندوں والی ضد ہے دانشمندی اور دین کی بات نہیں ہے جب کہ حقیقت ہے کہ غضبت کا لفظ ابنِ شہاب راوی کا مدرج ہے۔ سیدہ فاطمہؓ کا قول۔ حضرت عائشہؓ راوی حدیث کا قول یا امام بخاری رحمۃ اللہ کا اپنا تبصرہ نہیں ہے۔ صرف بعض روایات میں قال کے بعد یہ الفاظ ہیں: کہ سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو چھوڑا۔ اور فدک مانگنے کے بارے میں تا وفات سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے بات نہ کی۔ الحدیث۔ بس راوی کا یہ اپنا تاثر ہے۔ شیعہ نے اسے ناراضگی بر ابوبکر بنا کر 1400 سال سے سر آسمان پر اٹھا رکھا ہے۔ رضامندی کی اپنی احادیث بھی نہیں سنتے اور زاہدہ بتولؓ پر یہ الزام تراشی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کہ وہ دنیا کے چند ٹکے غرباء کو دے دینے پر سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نانا پر اتنی ناراض ہوئیں کہ بات تک نہ کی۔

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

کیا خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی یہی شان ہے۔ معاذ اللہ۔ پھر جب سیدہ فاطمہؓ کے بعد حضرت علیؓ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جانشین تھے۔ جب وہ مشورہ نہ پوچھے جانے کی شکایت کے بعد راضی ہو گئے اور بیعت کر لی اور اس کی صراحت بخاری جلد، 2 صفحہ 609 پر موجود ہے تو گویا سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی رضامندی بخاری سے ثابت ہو گئی۔ 

فعظم حق ابی بکر و حدث انہ لا یحملہ علی الذی منعہ نفاسۃ علی ابی بکر ولا انکار اللذی فضلہ اللہ بہ۔ الخ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حق کو عظیم جانا اور بیان کیا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر حسد یا اس کی فضیلت کے انکار کی وجہ سے نہیں کیا ہے بلکہ ہم اس کام اور مشورہ میں اپنا حصہ سمجھتے تھے۔ لیکن ہماری شرکت کے بغیر ہوا تو ہم جی میں ناخوش ہو گئے تھے۔

سوال نمبر 338: صحیح بخاری کتاب الجہاد باب برکته الغازی فی مالہ حیاً و میتاً مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم وولاۃ الامر میں ہے کہ حضرت زبیرؓ کی کل جائیداد 5 کروڑ دو لاکھ درھم کی ہوئی۔ سیدنا زبیرؓ دامادِ سیدنا ابوبکرؓ تھے اتنی دولت انہیں کیسے حاصل ہوئی؟

جواب: چور و خائن دوسرے کو بھی اپنے جیسا سمجھتا ہے۔ خویش نواز اور دنیا پرست شیعہ حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر یہ ناپاک بہتان کیوں نہ لگائیں۔ ورنہ خود مذکورہ بالا عبارتِ باب میں اس کا جواب آ گیا کہ جہاد کے مالِ غنیمت میں برکت ہوتی ہے اور غازی کا مال مرنے کے بعد بھی بابرکت ہوتا ہے۔ حضرت زبیرؓ بن عوام و بن سیدہ صفیہؓ بنتِ عبدالمطلب مشہور مجاہددوں، غازیوں سے ہیں عہدِ نبوت کے تمام غزوات میں شریک رہے اور غنیمت پاتے رہے۔ پھر تینوں خلافتوں میں اسلامی فتوحات میں نمایاں کردار سے شریک رہے۔ اور وظیفہ و غنیمت پاتے رہے۔ خلافتِ رابعہ میں ایک ملعون بدبخت سبائی ابنِ جرموز نماز کی حالت میں صرف اس جرم میں شہید کیا کہ آپ نے حضرت عثمانؓ کے بدلہ قتل کا مطالبہ حضرت علیؓ سے کیوں کیا قاتل شیعہ علی کہلاتا تھا اور حضرت علیؓ نے اسے جہنم کی بشارت سنائی۔ (الاخبار الطوال لابی حنیفہ الدینوری) روایت میں تصریح ہے کہ میں مظلوماً شہید ہوں گا۔ حضرت زبیرؓ طبعاً فیاض تھے نقدی سب فقراء پر خرچ کر دیتے تھے۔ پھر قرض لے کر بھی خرچ کرتے تھے اور جو امانت رکھتا اس سے اجازت لے کر قرض بنا کر خرچ کر دیتے اس کے علاوہ اس روایت میں یہ صراحت بھی ہے۔ کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے دینار اور درہم کچھ نہ چھوڑا۔ صرف دو زمینیں اور کچھ مکانات چھوڑے قرضوں کی ادائیگی کے لیے حضرت عبداللہؓ نے یہ جائیدادیں بیچ ڈالیں۔ اس دور میں جائیدادوں کی قیمت پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی۔ (بتائیے اس غازی اور سخی پر کیوں اعتراض کیا جائے؟)

سوال نمبر 339: تاریخ الخلفاء سیوطی میں ہے کان ابوبکر سبابا و نسابا۔ کہ حضرت ابوبکرؓ سب سے زیادہ گالی بکنے والے تھے یا نسب جاننے والے تھے یہ عادت شیعوں کے لیے کیوں اعتراض بنائی جاتی ہے؟

جواب: بکواس بازی اور گالیاں شیعوں کو مبارک ہوں۔ تاریخ الخلفاء میں ایسی کوئی عبارت نہیں ہے صریح جھوٹ ہے ان کے اعلم الصحابہؓ ہونے کے باب میں یہ لفظ ہیں: وکان ابوبکر الصدیق من انسب العرب۔ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب عربوں سے زیادہ نسب نامے جانتے تھے۔ شیعوں کو اعتراف ہے کہ وہ گالیاں بکتے ہیں تو یہ کام منافقوں، بداطواروں کا ہے شیعہ انہی عادات سے پہچانے جاتے ہیں۔  

وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِىۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ‌ (سورۃ محمد: آیت 30)

سوال نمبر 340: فجاۃ نامی مسلم شخص کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کس جرم میں جلایا؟

جواب: آپ کے ممدوح اور مسلمانوں کے دشمن فجاۃ کا حال تاریخ میں یوں لکھا ہے: ادھر مدینہ منورہ میں بنو سلیم کا ایک سردار الفجاۃ بن عبد یا لیل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوں آپ آلاتِ حرب سے مدد کریں۔ میں مرتدین کا مقابلہ کروں گا۔ حضرت صدیقِ اکبرؓ نے اس کو اور اس کے ہمراہیوں کو سامانِ حرب عطا کر کے مرتدین کے مقابلے کو بھیجا۔ اس نے مدینے سے نکل کر اپنے مرتد ہونے کا اعلان کر دیا۔ اور بنو سلیم اور بنو ہوازن کے ان لوگوں پر جو مسلمان ہو گئے تھے شب خون مارنے کو بڑھا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس حال سے آگاہ ہو کر فوراً سیدنا عبداللہ بن قیسؓ کو روانہ کیا انہوں نے دھوکہ باز مرتدین کو راستہ ہی میں جا لیا۔ بعد مقابلہ و مقاتلہ الفجاۃ بن عبد یا لیل گرفتار ہو کر سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے سامنے مدینہ میں حاضر کیا گیا اور مقتول ہوا۔

(تاریخ اسلام نجیب آبادی: جلد، 1 صفحہ، 339 بلدیہ و تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 264، 265)

سوال بناتے وقت اتنی بد دیانتی نہ ہونی چاہیے کہ ایک اعلانیہ مرتد کافر کو، حضرت ابوبکر صدیقؓ دشمنی میں مسلمان کہا جائے۔ شاید وہ شیعوں کا پیشوا ہو گا؟

سوال نمبر 341: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت میں سادات کا خمس کیوں بند کر دیا؟ (بخاری، ابوداؤد)

صفحہ 2 از 8