رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیثیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

ابوسعید اصطخری شافعی کا قول ہے: جب خمس سے ملنے والے اپنے حق سے محروم کردیے جائیں تو انھیں زکوٰۃ دینی جائز ہے، خمس کے حق کی وجہ سے ان کے لیے زکوٰۃ کی ممانعت تھی، جب وہ حق انھیں نہ ملے تو انھیں زکوٰۃ دینی واجب ہے۔

(المجموع للنووی: جلد 6 صفحہ 244، 246)

ایسا اس حدیث:

(إِنَّ) لَکُمْ فِيْ خُمْسِ الْخُمُسِ مَا یَکْفِیْکُمْ أَوْ یُغْنِیْکُمْ۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 313 ابن کثیرؒ کہتے ہیں اس کی سند حسن ہے)

’’خمس کا پانچواں حصہ تمھارے لیے کافی ہے یا تمھیں مستغنیٰ کردے گا۔‘‘

کی وجہ سے ہے، چنانچہ زکوٰۃ سے استغناء خمس کے پانچویں حصے کی وجہ سے ہے، جب خمس معدوم ہوگا تو استغناء بھی معدوم ہوگا، اس طرح خمس ان کے استغناء اور ان کے لیے زکوٰۃ کی ممانعت کے لیے شرط ہے، جب شرط معدوم ہوجائے گی تو زکوٰۃ کی رکاوٹ بھی معدوم ہوجائے گی۔

بعض علمائے حنابلہ کا قول ہے:

’’جب انھیں خمس نہ ملے تو ان کے لیے زکوٰۃ جائز ہوجائے گی، اس لیے کہ یہ حاجت و ضرورت کی صورتِ حال ہے۔‘‘

(الإنصاف للمرداوی: جلد 3 صفحہ 255، و کشاف القناع للبہوتی: جلد 2 صفحہ 291)

اسی کو ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے راجح قرار دیا ہے۔

(الاختیارات: 104، العقیدۃ فی أہل البیت: صفحہ 186)

6۔ ربیعہ بن شیبان بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ فرمایا: مجھے آپ نے صدقہ کے کمرے میں داخل کیا، وہاں سے میں نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے منہ سے نکال پھینکو، یہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال ہے اور نہ اہل بیت میں سے کسی کے لیے۔‘‘ 

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 170 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

7۔ بریدہ بن ابو مریم ابوحوراء سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: ہم حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، ان سے پوچھا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون سی بات آپ نے سیکھی؟ تو کہا: میں آپ کے ساتھ چل رہا تھا، آپ کا گزر صدقہ کی کھجوروں کے ایک ڈھیر کے پاس سے ہوا، میں نے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی، آپ نے میرے لعاب سمیت اس کھجور کو لے لیا، کچھ لوگوں نے کہا: اگر آپ چھوڑ دیتے تو آپ کے لیے کوئی حرج کی بات نہیں تھی، آپﷺ نے فرمایا: ہم آل محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، اور میں نے آپﷺ سے پانچوں نمازوں کو سیکھا۔ 

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 170 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

8۔ ایوب بن محمد سے مروی ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک جنازے کو دیکھا، ایک کھڑے ہوگئے، دوسرے بیٹھے رہے، کھڑے ہونے والے نے کہا: کیا ایسے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے ہیں؟ اور جو بیٹھے ہوئے تھے انھوں نے کہا : کیوں نہیں اور وہ بیٹھ گئے۔ 

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 171 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے)


صفحہ 4 از 4