رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیثیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

6۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کے ایک قول کے مطابق آل بیت صرف بنوہاشم ہیں، ان میں آل علی، آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، اور آل حارث بن عبدالمطلب شامل ہیں، ان میں ابولہب شامل نہیں ہے، اس لیے اس کے بچوں کو صدقہ دینا جائز ہے، ایسا اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنو ہاشم کی عزت و تکریم کی خاطر صدقہ ان کے لیے حرام قرار دیا اور عزت و تکریم اس لیے کہ انھوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، ابولہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی کا حریص تھا، اس لیے اس کے بچے اس تکریم کے مستحق نہ ہوئے۔

(شرح فتح القدیر لابن الہمام: جلد 2 صفحہ 272، 274، المنتقی للباجی: جلد 2 صفحہ 153، نیل الأوطار: جلد 4 صفحہ 172) 

بعض علمائے حنابلہ کے قول کے مطابق ان میں آل ابولہب بھی شامل ہیں، اس لیے کہ وہ لوگ بھی ہاشم کی نسل سے ہیں۔

(الانصاف للمرداوی: جلد 3 صفحہ 255، 256) 

اور کیوں نہ داخل ہوں، ابولہب کے دو لڑکے عتبہ اور معتب فتح مکہ کے دن مشرف بہ اسلام ہوئے، ان کے اسلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے، ان کے لیے دعائیں کیں، وہ دونوں آپﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین و طائف میں شریک ہوئے، اہل نسب کے نزدیک انھوں نے اپنے پیچھے نسل بھی چھوڑی۔

(التبیین فی أنساب القرشیین: صفحہ 143) 

2۔ امام شافعیؒ کی رائے میں آل بیت بنو ہاشم و بنو مطلب ہیں، ان کی مندرجہ ذیل دلیلیں ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے قرابت داروں کا حصہ بنوہاشم اور بنومطلب کو دیا، ان کے علاوہ قبائل قریش میں سے کسی کو نہیں دیا، جیسا کہ امام بخاریؒ نے جبیر بن مطعمؓ کی حدیث نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ نے خیبر کے خمس میں سے بنو عبدمطلب کو دیا اور ہمیں نظر انداز کر دیا جب کہ ہم اور وہ ایک ہی مرتبے میں ہیں، جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنوہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔‘‘

(صحیح البخاری: کتاب فرض الخمس: رقم: 3140) 

حدیث سے استدلال اس طرح ہے کہ بنو مطلب قرابت داروں کے حصے میں بنو ہاشم کے ساتھ شریک ہیں، اور وہ سب آل رسول ہیں، چنانچہ یہ حدیث اس بات کی دلیل بنی کہ بنومطلب بھی آل رسول میں سے ہیں، نیز یہ کہ زکوٰۃ ان کے لیے بھی حرام ہے، اور خمس کا یہ عطیہ ان پر حرام کردہ صدقہ کے عوض ہے۔ نتیجتاً زکوٰۃ کی حرمت کا حکم خمس کے مستحق ہونے کی طرح قرابت داروں سے متعلق ہوگا اور اس حکم میں ہاشمی و مطلبی دونوں برابر ہوں گے۔ 

(معالم السنن للخطابی: جلد 2 صفحہ 71، الأم للشافعی: جلد 2 صفحہ 69، المجموع للنووی: جلد 6 صفحہ 244، العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 181)

بنو مطلب کے بارے میں امام احمدؒ کے دو قول منقول ہیں:

1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے باعث ان کے لیے زکوٰۃ حرام ہوگی:

إِنَّا وَبَنُوْ الْمُطَّلَبِ لَمْ نَفْتَرِقْ فِیْ جَاہِلِیَّۃٍ وَّ لَا إِشْلَامٍ إِنَّمَا نَحْنُ شَیْئٌ وَّاحِدٌ۔

(سنن أبي داود: کتاب الإمارۃ: رقم: 2980)

’’ہم اور بنو مطلب نہ زمانہ جاہلیت میں الگ ہوئے اور نہ زمانہ اسلام میں، ہم ایک ہی ہیں۔‘‘

امام شافعیؒ نے اپنی مسند میں ان لفظوں میں حدیث کو روایت کیا ہے:

إِنَّمَا بَنُوْ ہَاشِمٍ وَ بَنُوْ الْمُطَّلَبِ شَیْئٌ وَّاحِدٌ وَ شَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ۔

(سنن النسائی: رقم: 4137) 

’’بنوہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں اور آپﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اس کو سمجھایا۔‘‘

اس لیے بھی زکوٰۃ ان کے لیے حرام ہوگی کہ وہ خمس کے حصے کے بنوہاشم کی طرح مستحق ہیں، تو انھی کی طرح ان کے لیے بھی زکوٰۃ حرام ہوگی۔

2۔ امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ کے مذہب کے مطابق امام احمدؒ کا دوسرا قول ہے کہ ان کے لیے زکوٰۃ لینی جائز ہے، اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے عموم میں داخل ہیں:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ۞

(سورۃ التوبة آیت 60)

ترجمہ: صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا 

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول:

إنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَّ لَا لِآلِ مُحَمَّدٍ۔

(صحیح مسلم: رقم: 1072)

’’صدقہ نہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے لیے حلال ہے اور نہ آل محمد کے لیے ہی۔‘‘

سے بنوہاشم خارج ہو جائیں گے اور زکوٰۃ لینے کی ممانعت انھی کے ساتھ خاص ہوگی۔

(العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 181) 

ان لوگوں کی رائے ہے کہ بنومطلب کو بنو ہاشم پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ بنو ہاشم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب ہیں۔ باقی خمس کے حصے میں بنومطلب کا بنوہاشم کے ساتھ ہونا قربت کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، اور مدد زکوٰۃ کی ممانعت کی متقاضی نہیں ہے۔

(المغنی لابن قدامۃ: جلد 4 صفحہ 111، 112)

خمس نہ دیے جانے کی صورت میں انھیں زکوٰۃ دینے سے متعلق فقہاء نے گفتگو کی ہے، جب مالِ فے یا غنیمت سے بیت المال خالی ہونے یا ظالموں کے ان پر غاصبانہ قبضہ کی وجہ سے انھیں خمس کا اپنا حصہ نہ ملے تو بعض متقدمین و متاخرین علماء کا قول ہے کہ انھیں زکوٰۃ دی جائے گی۔

چنانچہ امام ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ ایسی حالت میں بنوہاشم کو زکوٰۃ دینی جائز ہے، اس لیے کہ اس کا عوض خمس انھیں نہیں ملا ہے، اور جب عوض خمس انھیں نہیں ملا تو وہ معوض عنہ زکوٰۃ کی جانب لوٹ جائیں گے۔

(حاشیۃ ابن عابدین: جلد 2 صفحہ 91)

بعض مالکیہ کا قول ہے کہ وہ لوگ جب بیت المال سے ملنے والے اپنے حق سے محروم کردیے گئے اور فقیر ہوگئے تو ان کے لیے زکوٰۃ لینا اور انھیں زکوٰۃ دینا جائز ہے۔

(بلغۃ السالک: جلد 1 صفحہ 232 حاشیۃ الدسوقی: جلد 1 صفحہ 452، 253)

اس سلسلے میں ابوبکر ابہری (وہ محمد بن عبداللہ بن محمد، ابوبکر تمیمی ہیں، عراق میں مالکیہ کے سردار تھے، ان کی وفات 375ھ میں ہوئی، دیکھو شذرات الذہب: جلد 3 صفحہ 85، 86)

کہتے ہیں: ان کے لیے فرض اور نفلی صدقات حلال ہیں۔

(المنتقی للباجی: جلد 2 صفحہ 153) 

صفحہ 3 از 4