رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیثیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

2۔ ہبیرہ سے مروی ہے کہتے ہیں: ’’حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کل تم سے ایسا آدمی جدا ہوا ہے جس کے علمی مقام سے پہلے کے لوگ آگے نہیں تھے اور نہ بعد کے لوگ اس تک پہنچیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں علمِ جہاد دے کر بھیجتے، جبریل علیہ السلام ان کے داہنے، میکائیل علیہ السلام ان کے بائیں ہوتے، وہ فتح حاصل کرکے لوٹتے تھے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 168 اس کی سند صحیح ہے۔ )

3۔ عمرو بن حبشی سے مروی ہے کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کل تم سے ایسا شخص جدا ہوا ہے جس کے علمی مقام سے پہلے کے لوگ آگے نہ جاسکے، اور نہ بعد کے لوگ اس تک پہنچ سکے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم انھیں علم جہاد دے کر بھیجتے تھے، تو وہ فتح مندی کے ساتھ لوٹتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ سات سو درہم کے علاوہ؛ جن کو اپنے گھر کی خادمہ کے لیے محفوظ رکھا تھا، کچھ بھی دینار و درہم اپنے پیچھے نہیں چھوڑا۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 168 اس کی سند صحیح ہے۔)

4۔ محمد بن علی سے مروی ہے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا،

لوگ کھڑے ہوگئے، وہ نہیں کھڑے ہوئے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تم نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو یہودی کی تکلیف دہ بدبو کے باعث کھڑے ہوئے تھے۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 169 انقطاع کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے)

5۔ ابو الحوراء سعدی سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ فرمایا: مجھے یاد ہے کہ میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لعاب سمیت نکال کر کھجوروں میں پھینک دیا، ایک شخص نے آپﷺ سے کہا: اگر وہ اس کھجور کو کھا لیتے تو آپﷺ کے لیے کوئی حرج کی بات نہ تھی تو آپﷺ نے فرمایا: ہم صدقہ نہیں کھاتے۔ سیدنا حسنؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ فرمایا کرتے تھے: کھٹکنے والی چیزوں کو چھوڑ کر نہ کھٹکنے والی چیزوں کو اختیار کرو، سچائی اطمینان بخش ہے، اور جھوٹ کھٹکنے والی چیز ہے، فرماتے ہیں: آپ ہمیں یہ دعا سکھلاتے تھے:

اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، إِنَّہُ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ۔

اور کبھی کبھی فرمایا: تَبَارَکَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167، 169 اس کی سند صحیح ہے، دعائے قنوت کا ترجمہ گزر چکا ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے، صدقہ کی دو قسمیں ہیں:

1۔ فرض صدقہ جس کو زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔

2۔ نفلی صدقہ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيۡهِمۡ‏ ۞

( سورۃ التوبة آیت 103)

ترجمہ: (اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے۔

مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد فرض صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے۔

اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دونوں طرح کے صدقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں تھے، فرض صدقہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں تھا، اسی طرح آپﷺ کی آل کے لیے بھی حلال نہیں تھا، لیکن آل بیت کے لیے نفلی صدقہ کے حلال نہ ہونے میں اختلاف ہے، اس سلسلے میں امام شافعیؒ کے دو قول ہیں، دونوں میں سے صحیح تر قول حلال نہ ہونے کا ہے۔

آل بیت کے لیے زکوٰۃ و صدقہ حلال نہ ہونے کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل حدیث میں واضح کیا ہے، جس میں آپﷺ نے فرمایا:

إنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَنْبَغِیْ لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا ہِیَ أَوْ سَاخُ النَّاسِ۔ 

(صحیح مسلم: رقم 1072)

’’آل محمد کے لیے صدقہ مناسب نہیں ہے، وہ تو لوگوں کی میل کچیل کو دور کرنے والی چیز ہے۔‘‘

صحیح مسلم کی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے امام نوویؒ فرماتے ہیں: ’’أوساخ الناس‘‘ کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ ان کے نفوس اور اموال کی میل کچیل کو پاک کرنے والی چیز ہے، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:

خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيۡهِمۡ‏ ۞

( سورۃ التوبة آیت 103)

ترجمہ: (اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے۔

گویا وہ صدقہ میل کچیل کو دھونے والی چیز ہے، یہ حدیث آل بیت کے مقام و مرتبہ کی بلندی اور ان کی طہارت و پاکیزگی کو واضح کرتی ہے۔

(شرح النووی علی: صحیح مسلم: جلد 7 صفحہ 183، 187)

اسی لیے وہ لوگ نہ عہد نبوی میں صدقہ لیتے تھے نہ اس کے بعد ہی، وہ صرف مالِ غنیمت کے خمس میں سے اپنا حصہ لیتے تھے۔ فرمان الہٰی ہے

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى ۞

(سورۃ الانفال آیۃ 41)

ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں کا ہے۔

’’وَ لِلرَّسُوْلِ ‘‘ کی تفسیر میں مفسرین کہتے ہیں: خمس کا ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپﷺ کے قرابت داروں کو دیا جائے گا۔ زکوٰۃ کے سلسلے میں آل بیت کی تعیین میں علماء کے دو اقوال ہیں:

صفحہ 2 از 4