رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ حدیثیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رضائے الہٰی تک پہنچانے والے علم کی اصل بنیادیں قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال اور تقریرات پر مشتمل آپﷺ کی حدیثیں ہیں اور یہ حدیثیں نسلاً بعد نسل نقل و روایت ہی سے جانی جاتی ہیں، اہل علم اسماء الرجال کے ضبط اور معرفت کی جانب متوجہ ہوئے، ان کی سوانح اور حالات زندگی کو قلم بند کیا، تاکہ وہ دو اہم بنیادی چیزوں کا پتہ چلا سکیں، اور انھی کی روشنی میں ہر راوی کا مقام و مرتبہ متعین کرسکیں:

1۔ عادل ہونا: اس سے مراد سیرت اور حالات زندگی کی اچھائی اور سدھار، فرائض کی ادائیگی، حرام کردہ چیزوں سے دوری، مرو ت سے مکمل طور پر آراستہ و پیراستہ ہونا ہے۔

2۔ مروی حدیث کا ضبط و اتقان: اس سے مراد حدیث کو یاد کرکے، یا لکھ کر، یا دونوں طریقوں سے مکمل طور پر پورا پورا محفوظ کرلینا ہے۔

یہ مذکورہ حکم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوڑ کر حدیث نبوی کے تمام نقل کرنے اور روایت کرنے والوں کو شامل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے استثناء کا سبب یہ ہے کہ وہ پہلے حاملین علوم نبوت تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص تربیت یافتہ تھے۔

ائمہ اہل بیت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں روایت کی ہیں، محدثین نے ان حدیثوں کے ان سے اخذ کرنے میں بڑا اہتمام کیا ہے، اس لیے کہ ان میں عدالت اور قوت حفظ موجود تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے صاحبزادے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما جلیل القدر صحابہ میں سے تھے، چنانچہ وہ جرح و تعدیل سے ماورا تھے۔

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیثوں کو بقی بن مخلد اندلسی متوفی 276ھ نے اپنی ’’مسند‘‘ میں ذکر کیا ہے، ان کی تعداد 586 ہے۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 139۔ مقدمۃ مسند بقی بن مخلد: صفحہ 80)

اور امام احمد بن حنبلؒ متوفی 241ھ نے انھیں ذکر کیا ہے، مکرر طرق کو شامل کرکے ان کی تعداد 819 ہے۔

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 1641)

ان کی حدیثوں کو اصحاب کتب ستہ امام بخاری و مسلم و ابوداؤد و نسائی و ترمذی و ابن ماجہ رحمہم اللہ نے ذکر کیا ہے، ان کی تعداد 322 ہے۔

(تحفۃ الأشراف بمعرفۃ الأطراف للمزی: جلد 7 صفحہ 346)

ان میں سے بیس حدیثیں متفق علیہ ہیں۔ امام بخاری نو اور امام مسلم پندرہ حدیثوں کو ذکر کرنے میں منفرد ہیں۔ یہ حدیثیں عقائد و احکام اور تفسیر وغیرہ پر مشتمل ہیں، غرض کہ زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق تمام موضوعات و مضامین کو یہ حدیثیں شامل ہیں۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 140) 

خلفائے راشدینؓ میں سے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ احادیث رسول کے سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، اس کے اسباب میں سے بقیہ خلفاء سے بعد میں سیدنا علیؓ کا وفات پانا، سیدنا علیؓ سے روایت کرنے والوں کی کثرت، علم کے متلاشی بکثرت سوال کرنے والے تابعین کا منتشر ہونا، ایسے حادثات کا رونما ہونا جو بہت سارے امور میں روایت کے متقاضی تھے وغیرہ وغیرہ ہیں۔ چنانچہ انھیں سیدنا علیؓ کی جانب سے جو روایتیں پہنچیں پوری امانت و دیانت سے نقل کیا۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 140)

اس سے سیدنا علیؓ کے صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بہت زیادہ استفادہ کیا۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس وقت ہوئی جب کہ وہ ابھی چھوٹے تھے، چنانچہ صغار صحابہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما و محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی طرح بہت سی حدیثوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرکے ذکر کیا ہے، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا، والد اور والدہ سے حدیثوں کو یاد کیا، اور ان سے ان کے صاحبزادے حسن بن حسن رضی اللہ عنہ، سوید بن غفلہ، ابوحوراء سعدی، شعبی، ہبیرہ بن بریم، اصبغ بن نباتہ اور مسیب بن نجبہ (سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 246) نے حدیثوں کو بیان کیا، بقی بن مخلد نے اپنی مسند میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ تیرہ حدیثوں کو ذکر کیا ہے۔

(تلقیح اہل الاثر فی عیون التاریخ و السیر لابن الجوزی: صفحہ 369)

اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں دس حدیثوں کو ذکر کیا ہے، اور سنن اربعہ میں ان کی روایت کردہ چھ حدیثیں ہیں۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 167 تحقیق احمد شاکر، و مسند اہل البیت تحقیق عبداللہ اللیثی الانصاری: صفحہ 25، الدوحۃ النبویۃ: صفحہ 143)

ان حدیثوں میں سے بعض درج ذیل ہیں: 

1۔ ابوحوراء سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دعا سکھلائی جس کو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں:

اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَإِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ إِنَّہُ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔

(مسند احمد: جلد 3 صفحہ 170 احمد شاکر کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

’’اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے ان میں داخل کرکے جن کو تو نے ہدایت دی، اور عافیت دے مجھے ان میں شامل کرکے جن کو تو نے عافیت دی، اور میری سرپر ستی فرما ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی فرمائی اور برکت فرما میرے لیے ان چیزوں میں جو تو نے عطا کیں، اور بچا مجھے ان فیصلوں کے شر سے جو تو نے کیے، اس لیے کہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا، واقعہ یہ ہے کہ وہ ذلیل نہیں ہوسکتا جس کا تو دوست بن جائے، تو بہت با برکت ہے اے ہمارے رب! اور نہایت بلند ہے۔‘‘

یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اس بات کے حریص تھے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اللہ کی محبت، اس کی عبودیت، صرف اسی کو پکارنے اور اسی سے تعلق رکھنے کی تعلیم دیں، حقیقت میں یہی وہ خالص توحید ہے جسے ہر مسلمان کی زندگی میں جلوہ گر ہونا چاہیے، اور اپنے بچوں کو اسی کی تربیت دینی چاہیے۔

صفحہ 1 از 4