ہجرت اور صدیقیؓ رفاقت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ہجرت اور صدیقیؓ رفاقت

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 3

جواب: یہ سند پکڑتے ہیں کہ حضرتِ پیغمبرﷺ‏ اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ، متقی، مؤمن، نیکوکار، صابر (یعنی جنتی اور خدا کے محبوب) ہیں کیونکہ بار بار ارشاد ہوتا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡن، اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ، اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡن، نیز اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا‌ جملہ اسمیہ مؤکد ہونے کی وجہ سے دوام اور ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت و حمایت ہمیشہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی اور خدا ان سے جدا نہ ہو گا۔ چنانچہ جیسے مدنی زندگی میں عمر بھر حضرتِ پیغمبرﷺ اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو خدا کی نصرت و معیت حاصل رہی۔ اسی طرح خلافتِ راشدہ میں بھی خدا کی نصرت و معیت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے شاملِ حال رہی اور تمام مرتدین، منکرینِ زکوٰۃ، منافقین اور مسیلمہ کذاب وغیرہ پر مکمل نصرت حاصل ہوئی۔

نیز خدا کی معیت پیغمبرﷺ‏ و سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ایک ہی مشترک حاصل ہے علیحدہ علیحدہ نہیں ہے۔ یہ معیت اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فضیلت ہے تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے لیے بھی یقیناً ہے۔

سوال نمبر 313: کیا جمع کا صیغہ تعظیماً رسولﷺ کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا ہے؟

جواب: ایسا ثبوت مستند تفسیروں سے درکار ہے۔ لغتہً واحد و تثنیہ کے لیے جب الگ الگ صیغے وضع کیے گئے ہیں تو بلا دلیل و قرینہ محض حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بغض کی بناء پر لغت اور قانون بدلنا، بڑا ہی ظلم ہے۔ قرآن میں ایسی کوئی مثال نہیں۔ احادیث میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ساتھ ملا کر یہ لفظ بولا گیا ہے۔ مثلاً ارشاد ہے: انا اذا نزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین (بخاری) 

ترجمہ: جب ہم کسی قوم پر حملہ کے لیے اس کے صحن میں اترتے ہیں تو ایسے ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔

سوال نمبر 314: قرآن میں ہے تین آدمی کے مشورہ میں چوتھا خدا، پانچوں میں چھٹا خدا، اور کم و بیش میں بھی خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے تو یہ معیت کافروں، مشرکوں، مسلمانوں کے ساتھ یکساں ہے؟

جواب: یہ تنہائی اور سرگوشی میں معیتِ الہٰی اور حاضر و ناظر ہونا یکساں درجہ رکھتی ہے مگر مقامِ نصرت و حمایت میں جو اِلَّا تَنۡصُرُوۡهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ اللّٰهُ ترجمہ: اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا ان کی نصرت کر چکا ہے۔ الخ) میں مذکور ہے۔ وہ صرف مومنوں، پرہیزگاروں، صالحین اور صابروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ آیتِ بالا شاہد کافی ہے۔

سوال نمبر 315: فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ یہ الفاظ کس لیے خدا نے استعمال فرمائے؟

جواب: تفسیریں دو طرح کی ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے پیغمبرﷺ پر رحمت و تسلی نازل فرمائی۔ اگلا جملہ اس کا مؤید ہے۔ دوم یہ کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحمت و تسلی نازل فرمائی کہ وہ (اس کے محبوب کے غم و فکر) کی وجہ سے زیادہ حق دار تھے۔ پہلی صورت میں اولاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تسلی نازل ہوئی پھر آپﷺ کے توسط سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی۔ چنانچہ خصائصِ کبریٰ جلد، 1 صفحہ، 185 اور بہیقی میں ہے کہ نبی کریمﷺ‏ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے دعا کی تو اللہ کی طرف سے سیدنا ابوبکرؓ پر سکینت نازل ہوئی۔ اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ سکینۃ اہلِ ایمان کا خاصہ ہے، سورۃ توبہ میں ہے: ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ترجمہ: پھر اللہ نے اپنی تسلی حضرت رسولﷺ اور مومنوں پر اتاری۔ دوسری تفسیر کے متعلق حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ علیه کی ضمیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف راجع ہے کیونکہ لفظ صاحبه قریب ہے اور ضمیر قریب کی طرف لوٹانا زیادہ بہتر ہے نیز فانزل کی فاء بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ لَا تَحۡزَنۡ پر تفریع ہے تو مطلب یہ ہوا کہ جب حضرت ابوبکر صدیقؓ (رسولِ خداﷺ‏ کے لیے) حزین و غمگین ہوئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی سکینت اور طمانینت نازل کی۔ تاکہ ان کے قلب کو سکون ہو جائے اور ان کا غم اور پریشانی دور ہو جائے۔ (دیکھو روح المعانی: جلد، 10 صفحہ، 87 و زرقانی: جلد، 1 صفحہ، 336)

اور امام رازی نے بھی تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ451 میں اسی کو اختیار کیا ہے علامہ سہیلی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اکثر اہلِ تفسیر کے نزدیک علیہ کی ضمیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف راجع ہے۔ اس لیے کہ نبی کریمﷺ‏ کو تو پہلے ہی سکون و اطمینان حاصل تھا۔ بعض علماء نے وایدہ کی ضمیر بھی حضرت صدیقِ اکبرؓ کی طرف راجع کی ہے جس کی تائید حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یا ابا بکر ان اللہ انزل سکینته علیک وایدک (روح المعانی: جلد، 10 صفحہ 87 سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ 290)

اے سیدنا صدیقِ اکبرؓ تجھ پر اللہ نے اپنے سکینت اور تسلی نازل کی اور تجھ کو قوت اور مدد پہنچائی۔

بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضورﷺ تو زیرِ حفاظت اور پرسکون تھے بارِ دفاع و حفاظت حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ پر تھا وہ بارہ مسلح کافروں کے مقابل نہتے اور تنہا تھے اب قدرتی طور پر غم و فکر ان کو لاحق ہونا تھا۔ ان پر ہی خدا نے سکینت نازل کی اور فرشتوں کے مخفی لشکر پھیلا کر آپ کے مشن کی تائید و تقویت کی۔

سوال نمبر 316: یہاں ضمیر واحد مذکر کیوں استعمال ہوئی ہے؟

جواب: دونوں تفسیریں منقول ہو چکی ہیں۔ سکینت کی حاجت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تھی تو ضمیر مفرد استعمال ہوئی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بتاویل کل واحد (ہر ایک) کی طرف راجع ہو جیسے سورۃ فتح میں ہے: 

لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ (سورۃ الفتح: آیت 9)

ترجمہ: تاکہ تم اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ پر ایمان لاؤ اور ہر ایک کی تقویت اور تعظیم کرو۔

اور مائدہ کی يَّهۡدِىۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ ترجمہ: کہ اللہ نور اور کتابِ مبین ہر ایک کے ذریعے اپنی رضا کے پیروکاروں کو ہدایت دیتا ہے) بھی ایک تفسیر پر اسی طرح ہے ورنہ اکثروں کے ہاں ضمیر کتاب کی طرف ہے اور عطف تفسیری ہے۔

سوال نمبر 317: آپ کے مذہب میں مہاجر کی تعریف کیا ہے؟

صفحہ 2 از 3