مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 11

حدیث کی کتابوں میں اس قسم کی بکثرت روایات ہیں کہ جب کوئی سورت آیت یا حکم نازل ہوتا تھا تو آنحضرتﷺ کاتبِ وحی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیتے تھے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد لکھا جائے اور جب ایک سورت ختم ہو جاتی تھی تو دوسری شروع ہوتی تھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ بیک وقت مختلف آیات نازل ہوتی تھیں آپﷺ انہیں مضمون اور معنی کی مناسبت سے مختلف سورتوں میں لکھواتے تھے۔ اس طرح قرآن کے نزول کے ساتھ آپﷺ کی ہدایت کے مطابق آیات و سور کی ترتیب بھی ہوتی جاتی تھی۔ آپﷺ کی نمازوں کے سلسلہ میں اس قسم کی بہت سی روایات ہیں کہ فلاں فلاں وقت کی نماز میں آپﷺ نے فلاں فلاں سورتیں پڑھیں اس سے معلوم ہوا کہ سورتوں کے نام بھی متعین ہو چکے تھے۔ بخاری کی یہ روایت عہدِ نبویﷺ میں ترتیبِ قرآن کا نہایت بین ثبوت ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام ہر سال آپﷺ کو ایک مرتبہ قرآن سنایا کرتے تھے اور وفات کے سال دو مرتبہ سنایا۔ 

یہ مسلّم ہے کہ آپﷺ کی وفات سے پہلے پورا قرآن نازل ہو چکا تھا اس لیے پورا قرآن سنانے کے یہی معنیٰ ہو سکتے ہیں کہ وہ مرتب بھی تھا بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس پورا قرآن جمع تھا اور وہ اس کا دورہ کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے قرآن جمع کیا تھا اور اس کو ایک رات میں تمام کر دیتا تھا۔ الخ۔

(تاریخ اسلام از مولانا سید معین الدین ندویؒ جلد، 1 صفحہ، 127)

سوال نمبر 279: يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ کیا اس حکم کی تعمیل رسول اللہﷺ نے کی؟

جواب: یقیناً کی۔ کہ زبانی تبلیغ سے فرداً فرداً ہر ایک کو پہنچا دیا۔

سوال نمبر 280: وہ قرآن چھوڑ کر امت نے دو مرتبہ جمع کی زحمت کیوں اٹھائی؟

جواب: جس کو جو انعام ملتا ہے اس کی حفاظت ضروری ہے خصوصاً اگلی نسلوں تک جب پہنچانا ہو یہ اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ عہدِ نبویﷺ کی تحریرات کو یکجا جمع کر کے ایک کتاب و جلد بنا دی جائے۔

سوال نمبر 281: اگر نہیں پہنچایا یا ادھورا رہنے دیا تو حکمِ خدا کی خلاف ورزی نہ کی؟

جواب: قرآن یقیناً پہنچایا ادھورا نہ چھوڑا، خلاف ورزی وہ ملعون ٹولہ کر رہا ہے جو قرآن کو ناقص، عیب دار اور مشکوک جتلا کر پورے دین پر ہاتھ صاف کر رہا ہے۔

سوال نمبر 282: قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا اب صرف لغتِ قریش پر کیوں ہے؟

جواب: سوال 250 کے تحت مفصل جواب ہو چکا ہے کہ اصلاً صرف لغتِ قریش پر اترا، حضور اکرمﷺ نے سہولت کے لیے مزید لغتوں کی اجازت چاہی جو مل گئی پھر جب لغتِ قریش عام ہو گئی اور اسلام عرب سے نکل کر عجم میں چھا جانے لگا تو ان کے لیے سات لغتیں مزید مشقت اور اختلاف کا باعث تھیں لہٰذا صرف وہ لغتِ قریش لازم قرار دی گئی جس میں عرشِ معلیٰ سے اترا تھا اور کتابت تو صرف ایک حرف پر ہی ہو سکتی تھی تو لغتِ قریش کے رسم الخط کو ہی اپنایا گیا۔

سوال نمبر 283: اتقان جلد، 1 صفحہ، 63 پر ہے کہ مصحفِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نزولی ترتیب پر تھا، وہ خلفاء راشدینؓ نے کیوں قبول نہ کیا؟

جواب: یہ روایت شاذ ہے ہم اسے صحیح ماننے کے لیے تیار نہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قرآن جمع کیا ہو اور خلفاء راشدینؓ نظر انداز کر دیں، فرض کیجئے انہوں نے قبول نہ کیا تو اس وقت مسلم معاشرہ سے تاہنوز اس کا نام نشان کیوں نہیں ملتا۔ کم از کم شیعوں کے پاس تو ہونا چاہیے تھا مگر یہ بے چارے بھی خلفائے ثلاثہؓ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین والے قرآن سے رسمی تعلق جتلا کر عوام کے سامنے مسلمانی کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں۔

اور اگر حکمتِ خداوندی نے اسے موجودہ قرآن کے سوا بالکل معدوم کر دیا ہے تو اب نئے شوشے چھوڑنا اسلام و قرآن سے زبردست دشمنی ہو گی اور خدا کی سنّت اور تقدیر سے بغاوت سمجھی جائے گی۔

بالفرض والمحال اگر صحیفۂ مرتضوی کی ساخت اور پیشی تسلیم کی جائے تو قبول نہ ہونے کی مسئولہ تین وجوہات یہ ہیں:

1: وہ ترتیبِ نزولی پر تھا۔ بعض چھوٹی سورتیں تو اکھٹی نازل ہوئیں مگر بعض بعض کی متفرق آیات اتریں جو تاریخ وار ترتیب سے جمع ہوں تو ایک کی آیات دوسری سورت میں گڈ مڈ ہو جاتیں۔

2: حفظ تو ہر سورت کی آیات کا اپنی ترتیب پر کرنا ہوتا۔ مخلوط شکل کا حفظ ناممکن تھا۔

3: قرآنِ حکیم میں معنیٰ و مضامین کے لحاظ سے کوئی ربط و اتصال نہ ہوتا۔ متفق سورتیں یا آیتیں ایک دوسری سے الگ الگ نظر آتیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآنِ کریم مکی و مدنی 23 سالہ زندگی میں حسبِ ضرورت اور در پیش مسائل و حادثات کے مطابق نازل ہوا جنہیں شانِ نزول کہا جاتا ہے وہ تقدیرِ ازلی کے مطابق آگے پیچھے رونما ہوئے۔ لوحِ محفوظ میں مکتوب قرآن محفوظ ان واقعات کے تابع نہ تھا اور نہ واقعات ترتیبِ لوحی سے رونما ہو رہے تھے تو پھر ترتیبِ نزولی کا ترتیبِ اصلی سے کوئی تعلق تھا۔ ورنہ وہ یومیہ خبرنامہ یا ڈائری بن جاتا۔ ایک قانونی، اصلاحی اور مکمل مرتب کتاب کی شکل نہ ہوتی اس کی ایک حسی مثال یوں سمجھئے کہ مثلاً ایک دلہن کو اس کی سب زندگی کا ہر قسم کا سامان بطورِ جہیز دیا گیا اس نے تمام اشیاء کو ایک سلیقہ اور ترتیب سے رہائشی مکانوں میں سجا دیا۔ اب یہ ضروری نہیں ہے کہ جس ترتیب سے اس نے رکھا ہے اسے استعمالی ضرورت بھی اسی ترتیب سے ہو بلکہ ایک چیز کی دن میں 5 مرتبہ ضرورت ہو گی تو دوسری کی 20 سال بعد ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اب اگر وہ ایک چیز استعمال کر کے اپنی جگہ واپس رکھ دے تو سلیقہ شعاری ہے اور اگر ہر چیز حسبِ ضرورت اٹھا کر استعمال کرتی رہے اور ایک سٹور روم یا صحن میں استعمالی ترتیب سے رکھتی رہے تو سب گھر کباڑ خانہ اور بھدا محسوس ہو گا۔ بس اسی مثال سے سمجھئے کہ قرآن مجید حسبِ ضرورت و واقعات لوحِ محفوظ سے تھوڑا تھوڑا اترتا رہا تو اس کی آیات و سور کی لوحی ترتیب حضورﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتلائی جاتی رہی جب وہ مکمل اتر چکا تو سب سورتوں اور آیتوں کو اسی طرح مرتب جمع کیا گیا جو لوحِ محفوظ میں تھی اور یہ حقیقت اسی آیتِ کریمہ سے ثابت ہے:

بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ ۞ فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ۞(سورۃ البروج: آیت 21، 22)

صفحہ 9 از 11