مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 11

جواب: یہ سابقہ تقریر سے دفع ہو گیا کہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے کوئی حک و اضافہ نہ کیا۔

سوال نمبر 271، 272: سیدنا ابن مسعودؓ سے قرآن پڑھو اسے (فرمانِ رسولﷺ) تسلیم کرتے ہیں؟ اگر تسلیم کرتے ہیں تو اتقان میں لکھا ہے ان کے مصحف میں بسم اللہ تھی۔ اب کیوں نہیں؟

جواب: فرمانِ رسولﷺ تسلیم ہے مگر اس کے ساتھ تین اور بزرگوں سے بھی قرآن سیکھنے کا حکم ہے۔ حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابی بن کعب، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم (بخاری و مسلم و مشكوٰة: صفحہ، 574)

حقیقت یہ ہے ان بزرگوں سے توبہ کے شروع میں بسم اللہ لکھنے کے متعلق کچھ منقول نہیں اور باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تو حال معلوم ہو چکا، تو فیصلہ از نص پیغمبرﷺ نہ ہونے کی صورت میں کثرتِ رائے پر ہوا۔

سوال نمبر 273: خدا نے قرآن کے قائم رکھنے کا حکم کس کو دیا؟ یہ حکم کس آیت میں ہے؟ 

جواب: بعد از نبیﷺ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علماء امت کو یہ حکم ہے اور آیات بکثرت ہیں دو ملاحظہ کریں:

1: وَاُوۡحِىَ اِلَىَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَكُمۡ بِهٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ‌ (سورۃ الانعام: آیت 19)

اور یہ قرآن بذریعہ وحی میرے پاس اس لیے بھیجا گیا کہ اس کے ذریعے میں تم کو بھی ڈراؤں اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچے۔

2: وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوۡهُ وَاتَّقُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞ اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَ ۞ اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهۡدٰى مِنۡهُمۡ‌ فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَرَحۡمَةٌ‌ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنۡهَا‌ (سورۃ الأنعام: آیت 155، 157)

ترجمہ: اور یہ کتاب جو ہم نے اتاری ہے برکت والی ہے، پس تم اس کی پیروی کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (مباداً) تم یہ کہہ دو ہم سے پہلے دو گروہوں پر کتاب نازل کی گئی تھی اور ہم ضرور اس کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے۔ یا یہ کہ دو کاش ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم ان سے کہیں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ اب تو تمہارے رب کے پاس سے کھلی دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی۔ پس اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے یا ان سے روگردان ہو۔

(پارہ، 7 رکوع، 8 ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 177)

قرآن آئندہ نسلوں تک پہنچے گا اور فریضہ انذار ادا کرنے کرانے والے جانشینِ پیمبرﷺ ہیں کتاب اللہ کی پیروی سے ہی رحمت ہدایت اور ایمان و عمل کی دلیل حاصل ہو گی۔ کتاب اللہ کی یہ دولت صرف اہلِ سنت والجماعت مسلمانوں کو حاصل ہے۔ شیعہ کے اعتقاد میں تو قرآن غار میں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبر میں دفن ہو گیا وہ ان تک کیسے پہنچے؟ یا ان کو کیسے رحمت و ہدایت حاصل ہوا یہ تو تکذیب و اعراض کر کے سب سے بڑے ظالم (اور جہنمی) ثابت ہوئے۔

سوال نمبر 274، 275: کن کن اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آنحضرتﷺ‏ سے پورا قرآن پڑھا؟ صرف پانچ کے نام لکھیے، جنہوں نے رسول اللہﷺ سے قرآت یاد کی؟

جواب: لا تعداد ہیں۔ جب صرف جنگِ یمامہ میں 700 حفاظ اور قاریوں نے شہادت پائی تو کثرت کا کیا کہنا۔ درج ذیل روایات میں جن جن اشخاص کا ذکر ہے۔ وہ بڑے بڑے قراء اور حفاظ کا بطورِ نمونہ اور اتفاقیہ ہے حصر نہیں کہ صرف انہوں نے ہی پڑھا۔ بخاری شریف: صفحہ، 748 باب القراء من اصحاب النبی صل اللہ علیہ وسلم کی تین احادیث میں سات بڑے قاریوں کا ذکر ہے۔ 

1: چار آدمیوں سے قرآن پڑھو: حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت سالم، حضرت معاذ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم (بخاری)

2: انصار میں سے چار حضرات نے عہدِ نبویﷺ میں قرآن جمع کیا۔ سیدنا ابی ابن کعب، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا ابوزید سعد بن عمرو رضی اللہ عنہم۔

3: چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا۔ حضرت ابوالدرداء، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابو زید رضی اللہ عنہم

 ان سب میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود ہیں جو عہدِ صدیقیؓ کی قرآن کمیٹی کے امیر تھے اور سائل کو قرآن مشکوک و غلط جتلانے کے لیے ان سے خاص دشمنی ہے۔

سوال نمبر 276: حضرت جبریل علیہ السلام کی ترتیب سے جو کتاب حضورﷺ نے تیار فرمائی وہ کیا ہوئی؟ 

جواب: وہ زبانی ترتیب سے یاد کرانا تھا، یاد کرا دیا کتاب کی مکمل شکل نہ تھی۔

سوال نمبر 277: قاضی ابوبکر کہتے ہیں ممکن ہے سورتوں کی ترتیب رسول اللہﷺ نے خود دی ہو اور ممکن ہے کہ یہ کام اپنے بعد امت کے سپرد کیا ہو۔ دوسری بات زیادہ قریب ہے۔ فرمائیے جب آیات کی ترتیب دی تھی تو سورتوں کی ترتیب خود ہی وجود میں آ گئی؟

جواب: قاضی صاحب بطور شک فرما رہے ہیں جو معتبر نہیں ہمارے ہاں آیات اور سور کی ترتیب منجانبِ خدا اور رسولﷺ ہے چنانچہ شرح لمعات میں ہے: رہی سورتوں اور آیات کی ترتیب تو تمام امت کا اجماع اور نصوص لگاتار اس پر دلیل ہیں کہ ان کی ترتیب توفیقی یعنی خدا اور رسولﷺ کی طرف سے بتائی ہوئی ہے۔ اگلے سوال میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

سوال نمبر 278: اگر حضور اکرمﷺ نے امت کے سپرد کیا تھا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا زیدؓ نے خلافِ سنت کیوں سمجھا؟

جواب: ترتیب آیات و سور امت کے سپرد نہ تھی۔ قرآن کے احکام کی طرح اس کی آیات اور سور کی ترتیب اور ان کے نام بھی الہامی ہیں اور حیاتِ نبویﷺ میں قرآن کی پوری ترتیب ہو چکی تھی موجودہ قرآن اسی ترتیب کے مطابق ہے۔ البتہ کتابی شکل میں پورا قرآن مدون نہ تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں ہی کام ہوا۔ حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے قول کی يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً میں بیان فرما دیا ہے کہ قرآن صحیفوں میں جمع ہے۔ قرآن صحیفوں میں لکھا ہوا موجود تھا لیکن اس کے اجزاء متفرق تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک جگہ جمع کر دیا جو ان کے بعد محفوظ رہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے متعدد نسخے نقل کرائے دوسرے شہروں میں بھیجے۔ 

(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 10)

صفحہ 8 از 11