مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 11

5: وہ حرام و حلال میں مختار اور نئی شریعت ساز ہیں۔ رسول اللہﷺ پر اترا ہوا قرآن اب منسوخ، غلط اور ناقابلِ عمل ہے اور ان کی الہامی شریعت جعفری ہی واجب الاتباع ہے۔

اور بھولے بھالے محبِ اہلِ بیتؓ مسلمان ان دعوے داروں اور ان کے مذہب کو اسلام کی شاخ تسلیم کر لیں۔ تو وہ (مرزا) اگر ظلی، بروزی امتی نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور کلمہ، قرآن، رسالت و توحید میں کوئی کمی بیشی (جیسے ائمہ شیعہ نے کی) نہ کرے تو وہ کیوں مسلمانی سے خارج ہوا۔ (معاذاللہ)

 اے باد صبا این آورده تست 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ملھم من اللہ ہونے پر دلیل۔ حدیثِ نبویﷺ سوال 225 کے جواب میں بیان ہو چکی۔ مزید یہ ہے کہ فرمانِ رسولﷺ ہے: اے اللہ اسلام کو سیدنا عمرؓ بن خطاب کے ذریعے عزت اور غلبہ دے۔ (احمد، ترمذی، شیعہ کتب، احتجاج طبرسی) نیز فرمایا: اللہ نے حق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر رکھ دیا ہے وہ حق ہی بولتے ہیں۔ (مشکوٰة: صفحہ، 557)

نیز حضرت علی المرتضیٰؓ کا فرمان ہے: ہم یہ بات انوکھی نہیں جانتے تھے کہ سکینہ (امر غیبی و الهام) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبان سے بولتا ہے۔ (بہیقی)

سوال نمبر 263: اگر یہ کام فی الواقعہ الہام سے ہوا تو حضرت عثمانؓ نے قبول کرنے میں احتیاط کیوں برتی؟

جواب: الہام مثلِ وحی قطعی نہیں ہوتا۔ دوسرا عالم و مجتہد شرعی دلائل سے پرکھ سکتا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تو یقیناً قدر کی کہ از سِرنو پھر نہیں لکھوایا۔ اس نسخہ کو اُمُ المؤمنین حضرت حفصہؓ بنتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منگوا کر مزید احتیاط سے نقلیں کرائیں اور اطرافِ عالم میں اشاعتِ قرآن کا زبردست فریضہ سر انجام دیا۔

سوال نمبر 264: بھی حل ہو گیا۔ نہ از سِرنو جمع ہوا نہ متضاد الہام ہوا۔

سوال نمبر 265: سورت بقرہ میں عدتِ وفات کی آیتِ ناسخہ منسوخہ سے پہلے کیوں ہے؟

جواب: عمل ناسخ پر ہو گا منسوخ پر نہیں اس لیے اسے مقدم کیا گیا۔

سوال نمبر 266، 267: فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اس مبتدا کی خبر بتائیے اگر محذوف ہے تو کیا رسولِ خداﷺ نے محذوف کیا۔ حدیثِ متواتر سے ثبوت دیں ورنہ قرآن کو ناقص کہیں؟

جواب: سنا کرتے تھے کہ آج سے ساٹھ سال قبل شیعوں کے مجتہد مرزا احمد علی لاہوری نے قرآن پر مسلسل اعتراضات کیے تھے اور پھر (معاذ اللہ) یہ کفریہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایسا قرآن میں بھی بنا سکتا ہوں۔ وہ تو وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِـاٰيٰتِنَآ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ ترجمہ: جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی دوزخی ہیں۔ کے تحت نارِ جہنم کا وقود اور ایندھن بن چکا۔ اب انہی گِھسے پٹے کفریات کو ہمارے سائل نے بھی سو سوال میں پھیلا کر جہنم کی الاٹ منٹ کرا لی ہے۔ یہ اعتراض قرآن سے بغض اور ذوقِ عربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ کسی غیر مسلم نے بھی یہ طعن نہیں تراشا۔ پوری آیت یوں ہے:

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران: آیت 106)

ترجمہ: رہے وہ لوگ جن کے چہرے کالے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم نے ایمان کے بعد کفر کیا تو اپنے کفر کی پاداش میں عذاب چکھو۔

یہ جملہ استفہامیہ ہی حکماً اور معناً خبر ہے کیونکہ خبر بنائے بغیر اس کا ما قبل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ جب جملہ استفہامیہ خبر ہو تو اسے مادہ قول سے فعل مجہول کا نائب فاعل بناتے ہیں تو ترکیب نحوی میں یقال لهم محذوف سمجھا جائے گا اور اس پر دال یہی مقولہ (جمیلہ استفہامیہ سوالیہ) ہو گا۔ جیسے ترجمے سے واضح ہے اور خبر کی کمی و حذف کا کچھ نشان نہیں ہے۔ یہی بات ہماری تفسیر روح المعانی پارہ 4 اور جلالین بیضاوی میں لکھی ہے۔ شیعہ کی مجمع البیان طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 478 پر ہے۔

اور امّا کا جواب۔

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ میں فيقال لهم اکفرتم الآیة محذوف ہے۔ کیونکہ چہروں کی سیاہی بطورِ جھڑک اس پر دلالت کرتی ہے گویا وہ خود ناطق ہے اور ماقبل بیان پر اعتماد کرتے ہوئے بہت سے مقامات میں قول محذوف ہوتا ہے جیسے وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا یعنی یقولون محذوف ہے۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا کیونکہ مجروں کا سر جھکانا بزبانِ حال یہ کہنا ہے اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔ 

جب یہ عربی اسلوب کے تحت ہے تو یقال لھم کے حذف پر حدیثِ متواتر کی کیا ضرورت ہے۔ بالفرض یہ لفظ اکفرتم سے پہلے تلاوت کیا جائے تو کلام کی بلاغت اور اعجاز ختم ہو جائے گا۔ معمولی عربیت سے سدھ بدھ رکھنے والا اسے ناجائز اضافہ قرار دے گا۔ شیعہ بلاغت اور محاوراتِ قرآنی کو کیا جانیں؟ بھینس کے آگے بین بجانے والا مسئلہ ہے۔ الغرض نہ قرآن ناقص ہے نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غلطی لگی ہے۔

سوال نمبر 268، 269: اتقان میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے برأت کو انفال کا جزو سمجھ کر دونوں کو ملا دیا اور بسم اللہ نہیں لکھی، کیا عہدِ ابوبکر صدیقؓ والے قرآن میں بھی ایسا ہی تھا؟ تو کیا معتبر نہ ہوا۔

جواب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ والے صحیفہ میں بھی برأت سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہ تھی تو سیدنا ابوبکر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما میں نہ کوئی اختلاف ہے نہ قطع برید کا کسی پر الزام ہے۔ نہ کوئی نئے الہام کی فرضی داستان ہے۔ 

بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ قسطلانی میں یہ لکھی ہے کہ سورت توبہ امان اٹھانے (اعلانِ جنگ) کے لیے نازل ہوئی ہے اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں امان پائی جاتی ہے۔ (اس تعارض کی وجہ سے آنحضورﷺ نے بسم اللہ نہ لکھوائی) یا یہ وجہ ہے کہ آنحضورﷺ اس کا موضع محل نہ بتا سکے تھے کہ وفات ہو گئی۔ (کیونکہ یہ سب سے آخری سورت ہے) اور اس کا مضمون (جہاد) انفال کے مضمون کے مناسب تھا۔ کیونکہ اس میں کفار سے معاہدات کا ذکر تھا اور توبہ میں معاہدات اٹھانے کا تو اس کے بعد اسے رکھا گیا۔ (حاشیہ بخاری: صفحہ، 671)

سوال نمبر 270: سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے قطع و برید اور اضافہ کیوں کیا؟

صفحہ 7 از 11