مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 11

اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و محدثین رحمۃ اللہ نے بھی یہی سمجھا ہے۔ چنانچہ بخاری جلد، 2 صفحہ، 745 پر باب ہے: باب نزل القراٰن بلسان قریش والعرب قراٰنا عربیا بلسان عربی مبین  

پھر حضرت عثمانِ غنیؓ کا کمیٹی قران کو خصوصی حکم روایت کیا ہے کہ قرآن لسانِ قریش میں لکھنا کیونکہ قرآن ان کی ہی زبان میں اترا، کاتبوں نے یونہی کیا۔ 

تو غیر قریش لغت یا اندازِ کتابت کی اجازت بعد میں حاصل کی گئی تھی وہ قرآن کا جزو نہ تھی جب اس سے بھی لوگوں نے غلط مفاد (قبائل و لہجہ پرستی) اٹھانا چاہا تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے بحیثیتِ خلیفہ راشد یہ کتابت ختم کر دی اور ان کو یہ اختیار اس حدیثِ نبویﷺ‏ سے ملا ہے:

علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین (ابو داؤد، مشکوٰۃ: صفحہ، 30 احمد، ترمذی)

ترجمہ: لوگو! تم میرے طریقے پر اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقے پر ضرور چلنا۔

سوال نمبر 251: المصاحف لابی داؤد میں سیدنا عمرؓ کا مقولہ ہے: لو كانت ثلاث ايات لجعلتها سورة على حدة، یعنی اگر یہ تین آیتیں ہوتیں تو میں الگ سورت بنا دیتا۔

جواب: یہ فرضی تمنا ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تین آیتیں ہوتیں تو سورت بننے کے لائق تھیں اور خدا ان کو ہماری دعا کی بدولت بنا دیتا یا یہ ممکن ہے کہ خلیفہ راشد کی حیثیت سے ایسا خود کرتے کیونکہ اس میں قرآن میں کمی بیشی کا تو تصور نہیں۔ یوں سمجھو کہ تین آیات کو الگ صفحہ پر لکھنا ہے اور باقیوں سے فصل کرنا ہے۔ جیسے رکوعات کے ذریعے فصلِ عارضی پایا جاتا ہے۔

سوال نمبر 252: بھی اس سے حل ہو گیا کیونکہ غیر نبی انتظامی بات کر سکتا ہے اس میں تحریفِ قرآن کمی بیشی یا ترتیب کی تبدیلی نہیں۔

سوال نمبر 253 تا 255: بھی بے فائدہ بھرتی ہے سورت بقرہ کی کون سی آیات ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بنی اسرائیل میں لگانا چاہتے تھے؟

اور پھر آخر برأت کی دو آیتیں: لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏ ۞ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۞ (سورۃ التوبة: آیت 128، 129)

برأت ہی کے آخر میں لگائی گئیں اور سورت توبہ یا برأت نزول کے اعتبار سے آخری سورت ہے۔

سوال نمبر 256: معلوم ہوا جس قرآن کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مانتے تھے اس کی آخری سورت برأت تھی۔

جواب: غلط فہمی بالا سوال میں حل ہو گئی کہ حضرت عمرؓ نزول کے اعتبار سے آخری سورت (توبہ) میں ان کو لگا رہے تھے جیسے اب ہے۔ ترتیبِ جمعی کے اعتبار سے آخری صورت مراد نہیں ہے۔

سوال نمبر 257: بخاری جمع القرآن میں ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم وہ کام کیسے کریں جو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا ثابت ہوا کہ خلافِ سنت ہے۔ کیا آپ کا قرآن بدعت ہے یا سنت؟

جواب: سبحان اللہ! تعزیہ، علَم، شبیہ، ضریح، مزار، تابوت، ٹکیہ، ذوالجناح، مہندی، امام باڑہ وغیرہ یادگاری بتوں اور بدعتوں کے پجاری قرآن کو بھی بدعت کہہ رہے ہیں۔ کیوں نہ کہیں؟ آخر یہ ان کا دشمن جو ہوا، اور یہ اس کے دشمن ہوئے۔ بندہ کریم! اس میں کون سی بدعت کی بات ہوئی ہے؟ وہی 6666 آیات اور 114 سورتوں والا قرآن جو رسول اللہﷺ نے لکھوایا پڑھایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یاد کرایا تھا۔ انہی اوراق و مکتوبات سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ناگزیر ضرورت کی بناء پر۔ جو عہدِ نبوت میں پیش نہ آئی تھی نہ پیش آ سکتی تھی۔ کیونکہ وحی جاری تھی حفاظ کے شہید ہونے کی صورت میں حضورﷺ پھر لکھوا سکتے تھے۔ اسے یکجا کتابی شکل میں لکھ لیا۔ اگر یہ بدعت ہے تو قرآن پاک کے ترجمے، تفسیریں اور قرآن فہمی کے لیے صرف و نحو، اصولِ تفسیر وغیرھا علوم سب بدعت ہو گئے۔ تاج کمپنی وغیرہ کے مطبوعہ قرآن مجید بھی بدعت بن گئے۔

سوال نمبر 258: حضرت زیدؓ نے جو کہا: واللہ اگر پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے نقل کرنے کی مجھے تکلیف دیتے تو مجھے اتنا گراں نہ گزرتا کہ جمع قرآن کاحکم دیا۔ کیا سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کام کو فلاحی و جائز نہ جانتے تھے؟

جواب: یہ کام کی سنگینی اور مشکلات کا احساس ہے اور ہر ذمہ دار اہم کام لیتے وقت یہ محسوس کرتا ہے۔ ورنہ اسے سیدنا زیدؓ فلاحی اور مستحسن ضرور جانتے تھے خوشی کے ساتھ کیا۔ آپ نے ترجمہ میں خیانت کی ہے۔ اثقل علی کا ترجمہ یہ ہے۔ پہاڑوں کی نقل سے بھی یہ کام مجھ پر بھاری اور مشکل تھا۔ آپ نے گراں نہ گزرتا کہہ کر دل کی نفرت اور ناپسندیدگی جتلائی ہے۔ جو قائل کی مراد کے یکسر خلاف ہے۔

سوال نمبر 259: پھر سیدنا زیدؓ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مکالمہ کیوں کیا؟ ان کی شرح صدر پر اعتبار کیوں نہ کیا؟

جواب: کام کی نزاکت و اہمیت کا یہی تقاضا تھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نرے شیعہ اور اندھے مقلد نہ تھے جب دلائل سے شرح صدر ہوا تو کام شروع کیا۔

سوال نمبر 260 تا 262: اگر بعد از رسولﷺ زیادتی در دین کے الہام کا کوئی دعویٰ کرے تو قبول ہو گا؟ پھر مرزا قادیانی کا الہام کیوں نہیں مانتے؟ اور ان حضرات کا الہام کس دلیل سے مانا ہے؟

جواب: اے دشمنِ قرآن و رسولﷺ! تو نے بدباطنی سے کتابتِ قرآن کی خدمت اور اس کی حفاظت کو دعویٰ نبوت کے برابر کر دیا اور قادیانی کذاب سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جا ملایا۔ کیا یہی آپ کی رواداری اور ایمان بالقرآن ہے؟ تمہارے مسئلہ امامت امامی شریعت نے مرزا کو یہ راہ سجھائی کہ اگر بعد از محمد رسول اللہﷺ یکے بعد دیگرے بارہ اشخاص یہ دعویٰ کریں۔ (کتبِ شیعہ سے ان تمام دعؤوں کی دلیل تحفہ امامیہ باب ہشتم امامت در پردہ انکارِ ختمِ نبوت ہے میں پڑھیئے۔)

 1: کہ وہ مثلِ پیغمبرﷺ معصوم، واجب الاطاعت، صاحب احکام و شریعت ہیں۔

2: مثلِ نبی ان پر ایمان لانا اور بنام شیعہ ان کی امت بننا ضروری ہے۔

3: وہ مثلِ نبی مہبط ملائکہ، صاحبان وحی، صاحبان کلمہ و صحائف اور مصدر شریعت ہیں۔

4: مثلِ نبی ان سے ذرا اجتہادی اختلاف رکھنے والا بھی پکا کافر ہے۔

صفحہ 6 از 11