مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 11

سوال نمبر 239: اگر تھے تو جمع قرآن میں خود اپنی خدمات کیوں پیش نہ کیں؟

جواب: خلیفہ ہر کام خود نہیں کیا کرتا۔ اپنی نگرانی میں کرواتا ہے۔ خود حفظ کی وجہ سے مسودہ دے سکتے تھے مگر آپ جیسے لوگ اسے مداخلت قرار دیتے اور حکومت کا بناوٹی قرآن مشہور کرتے۔

سوال نمبر 240، 241: درج بالا سوالات کی موجودگی میں آپ قرآن کو اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کا متفقہ کیسے کہتے ہیں؟

جواب: یہ سب سوالات بوگس اور بغضِ قرآن کا آئینہ ہیں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی بین الدفتین از الحمدللہ تا والناس قرآن کے قرآن ہونے پر متفق تھے اور یہی تواتر کی دلیل ہے۔

سوال نمبر 242 تا 245: کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف باطل چیز ہے؟ پھر بتائیے کہ ان کے مصاحف باطل تھے یا نہیں۔ پھر باطل پر ایمان رکھنے والا بے دین ہو گا یا نہیں۔ اگر اختلاف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین برحق تھا تو پھر بتائیے اس حق کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیوں مٹایا؟ پھر مٹانے والا راشد کس طرح ہوا؟

جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف در قرآن تسلیم ہی نہیں۔ ان کے مصاحف بھی باطل نہ تھے۔ البتہ بعض حضرات کے مکتوبہ بیاضات، جن کو مصاحف کہا جا رہا ہے۔ ایسے تھے کہ وہ مکمل نہ تھے اپنی یاداشت کے لیے مشکل الفاظ کے فٹ نوٹ، معانی اور تشریحاتِ نبویﷺ معاً لکھ دی تھیں۔ بعض کے پاس منسوخ آیات بھی تھیں۔ بعضوں کی ترتیب نزولی تھی۔ اب ان انفرادی مسودات کے مقابل وہ مجموعہ یقیناً جامع و مکمل تھا۔ جو ایک کمیٹی نے خاص شرائط اور اہتمام کے ساتھ جمع و مرتب کیا اور صدری حفظ کے مطابق تھا۔ لہٰذا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے مزید نقلیں کرا کر اسلامی ممالک میں پھیلا دیں۔ باقی سب کو مٹا دیا تاکہ وہ غیر قرآن سے مخلوط ہونے کی وجہ سے آئندہ اختلاف کا سبب نہ جائے اور یہ کام یقیناً راشد پر حکمت اور برحق تھا۔ کیونکہ ابتداءً چند اختلاف کرنے والے صاحبانِ صحائف نے بھی پھر اس سے اتفاق کیا۔ اب موجودہ قرآن پر ایمان ہی برحق ہے اس کے برعکس کسی کی قدیم مرجوع ذاتی رائے کو اچھالنا اور قرآن کو مشکوک جتلانا کسی زندیق و بے ایمان شخص کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ 

آج بھی اہم مسائل پر قومی اسمبلی میں وزارتِ قانون میں یا ہائی کورٹ وغیرہ میں کسی مسئلہ پر اختلاف آراء یا ردّ و قدح ہوتی ہے مگر جب فیصلہ طے ہو جائے تو اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔ اب اگر کوئی اختلاف کرے یا فیصلہ غلط بتائے تو ملکی اور قومی مجرم سمجھا جاتا ہے۔ جو کبھی قوم و ملک کا وفادار نہیں ہو سکتا۔ آج شیعہ اگر تدوینِ قرآن کے وقت بعض معمولی جزوی اختلاف کو ہوا دیتے ہیں اور قرآن کو غلط بتاتے ہیں۔ کیا وہ کافر یا دشمنِ اسلام نہیں ہیں؟

سوال نمبر 246، 247: قرآن کو جلانا ثواب ہے یا گناہ؟ اگر ثواب ہے تو بے حرمتی قرآن پر احتجاج کیوں؟

جواب: قرآن کو بے حرمتی کی نیت سے جلانا، روندنا گناہِ کبیرہ بلکہ کفر ہے جیسے شیعوں کے جلوس جب مسلمانوں کی مساجد پر حملے کرتے ہیں تو الماریوں سے قرآن نکال نکال کر جلاتے ہیں اور پاکستان میں بارہا ایسے واقعات ہوئے۔ پھر یا مسلمانوں کے انتقام کا نشانہ بنتے ہیں جیسے گزشتہ سال کراچی کے فسادات، نیو کراچی میں ایک مسجد پر قبضے اور قرآن جلانے سے شروع ہوئے تھے یا پھر بدشکلی کی ناگفتہ بہ موت مرتے ہیں۔ 

قرآن کی بے حرمتی پر احتجاج مسلمانوں کا حق ہے کیونکہ ان کی ہی مقدس ترین جان سے بھی عزیز کتاب ہے۔ چونکہ شیعہ کو اپنی یہ کاروائی معلوم ہے اس لیے احتجاج سے چڑتے ہیں سوال از خود یہ بات بتا رہا ہے کہ شیعہ کا قرآن پر ایمان نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔

سوال نمبر 248: اگر گناہ ہے تو مرتکبین گنہگار ہوئے یا نہیں؟

جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یا حضرت عثمانؓ نے ایسا ارتکاب نہیں کیا۔ انھوں نے تو صحیح قرآن کو مدون و محفوظ کر کے پھیلایا جو چیز حفاظتِ قرآن کی انتظامی حکمتِ عملی کے تحت جلائی گئی، وہ خالص قرآن نہ تھی بلکہ غیر قرآن سے مخلوط شدہ اوراق و بیاضات تھے۔ فتح الباری میں ہے کہ اہلِ سنت کے جلیل عالم قاضی عیاض نے یقین سے لکھا ہے کہ ان اوراق کو انھوں نے پہلے پانی سے دھویا تھا پھر مبالغۃً جلا ڈالا تھا تاکہ کچھ اثر باقی نہ رہ جائے۔ توشیح میں ہے کہ ان اوراق کو جلانا اس لیے جائز تھا کہ ان میں منسوخ آیات، تفسیر، غیر قریش کی لغت اور قرأت شاذہ ملی جلی تھیں۔ (خالص قرآن نہ تھے۔ رہ جانے سے زریعہ اختلاف بن سکتے تھے۔)

سوال نمبر 249: جو شخص اپنی مرضی سے قرآن میں کمی بیشی کرے، شرع کیا کہتی ہے؟

جواب: تحریفِ قرآن مذموم ہے ایسا شخص مجرم ہے۔

سوال نمبر 250: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس جرم سے کیسے بری الزمہ سمجھیں گے جنہوں نے حکم دیا کہ اختلاف کی صورت میں قریشی زبان لکھ دی جائے؟

جواب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن میں تحریف نہیں کی لغتِ قریش پر ہی اولاً قرآن اترا تو اس میں کتابت بہرحال افضل تھی اور باقی لغتوں کا لکھنا سہولت کے لیے تھا جس کی اجازت بعد میں ملی۔ جب لوگ لغتِ قریش سے مانوس ہو گئے اور پڑھنا لکھنا آسان ہو گیا، اب دیگر لغات کی وجہ سے اختلاف اور جھگڑے پیدا ہو رہے تھے جیسے آرمینیہ سے حضرت حذیفہؓ بن یمان نے فوج میں اختلاف کی خبر دے کر کہا أدرك هذه الامة قبل ان يختلفوا فی الكتاب اختلاف اليهود والنصارى (صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 746) 

ترجمہ: اس امت کا انتظام کر لو اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ میں یہود و نصارٰی کی طرح اختلاف کریں۔ اب رہی یہ بات کہ لغتِ قریش پر اترنے کی کیا دلیل ہے؟ تو سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 

اقرٔنی جبریل علی حرف فلم ازل استزیدہ حتیٰ انتہی الی سبعۃ احرف (صحیح البخاری: جلد، 1 صفحہ، 457)

ترجمہ: مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک قسم کی ہی قرأت پڑھائی۔ میں اور بھی طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات پڑھا دیں۔ 

سات حروف سے مراد سات قرأتیں، سات لغتیں، سات کیفیتیں، سات معانی، سات اعراب وغیرھا مراد ہیں۔ تفصیل فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 23 وغیرہ میں ہے۔ 

صفحہ 5 از 11