مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار -…

مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 11

جواب: یقیناً اسی پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امت کا اجماع ہے۔ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ ترجمہ: ہم ہی محافظِ قرآن ہیں۔ والے خدا نے یہ بروقت کام نبی کریمﷺ‏ کے جانشین سے لیا، تنہا یہی فضیلت آپؓ کو افضل الصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرار دیتی ہےـ

سوال نمبر 229: اگر معتبر تھا تو حضرت عثمانِ غنیؓ کے عہد میں مروان نے یہی قرآن کیوں جلا ڈالا (فیض الباری: پیج، 20)؟

جواب: معتبر تھا تبھی تو اسی سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف لکھوائے۔ مروان نے اپنے عہد میں اس خدشہ سے معدوم کیا کہ کسی کو اختلاف کا وہم نہ ہو طباعت کے بعد مسودہ یا پلیٹوں کو دھو دینا عیب نہیں ہے۔

سوال نمبر 230: حاکم نے مستدرک میں لکھا کہ ہے کے قرآن تین دفعہ جمع ہوا۔ پہلے حضور اقدسﷺ‏ کے سامنے، جواب دیں کہ عہدِ نبوت والے قرآن کو آپ قابلِ اعتبار سمجھتے ہیں؟

جواب: یقیناً سمجھتے ہیں کیونکہ حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حضور اکرمﷺ کے سامنے پرچوں سے قرآن جمع کرتے تھےـ

سوال نمبر 231: پھر اسی قرآن کی انقال کیوں نہ کر دی گئیں؟

جواب: عہدِ صدیقی میں جن کاغذوں، پتھر کے ٹکڑوں، کھجوروں کی ٹہنیوں، اور جانوروں کے چمڑوں وغیرہ سے حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جو آیات جمع کیں وہ حضور اکرمﷺ کے سامنے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے لکھی تھیں، ان کو ہی نقل کر کے مجموعہ مرتب کیا گیا یعنی امام حاکم کی روایات کے مطابق جمع قرآن کے تین دور تھے، پہلی مرتبہ وہ جب تازہ وحی آتی اور حاضرین ہر قابلِ کتابت چیز پر لکھ لیتے تھے، مگر وہ اپنی یاداشت کے طور پر لکھتے تھے جیسے آج بھی استاذ کے فرمودات قلم بند کیے جاتے ہیں۔ اس وقت ان کے سامنے تدوین یا قطعہ آیات تیار کر کے دوسروں کو پڑھانا مقصود نہ ہوتا تھا۔ الا ماشاءاللہ! سیدنا زید رضی اللہ عنہ انہی چیزوں سے کوئی سورت بھر حسبِ ضرورت جمع کرتے تھے، سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد میں باقاعدہ الحمدللہ تا والناس حفظ کی خاص ترتیب سے تمام اشیاء سے قرآن نقل کیا گیا اور کتابت پر کم از کم دو گواہ قائم کیے گئے اور پورا قرآن مرتب کر کے بیت المال میں محفوظ رکھ لیا گیا۔ پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں اشاعتِ قرآن کی دور دراز تک ضرورت سامنے آئی اور اختلافِ الفاظ سننے میں آیا تو اسی مصحف کی چھ نقلیں ایک کمیٹی سے مزید کروائیں اور بڑے بڑے صوبوں میں پھیلا کر مزید نقلیں کروائی گئیں جیسے آج کل پرنٹنگ پریس سے کام لیا جاتا ہے۔ 

گویا آج کی اصطلاحی زبان میں عہدِ نبوی کا جمع ایک مسودہ کی شکل تھی عہدِ صدیقی کا جمع خوش نویس کی کتابت کی شکل تھی اور عہدِ عثمان کا جمع اور اشاعت، پرنٹنگ پریس کی خدمت و طباعت تھی۔

سوال نمبر 232: بھی ختم ہو گیا کیونکہ عہدِ نبویﷺ میں لکھے ہوئے مستند اوراق ماخذ بنے۔

سوال نمبر 233: احزاب کی ایک آیت بروایت بخاری حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں شامل کی گئی کیوں؟

جواب: اس کا مطلب یہ نہیں کی یہ آیت رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ‌۔ الخ قرآن سے کم تھی اور لوگ اسے پڑھتے سناتے نہیں تھے۔ بلکہ وہ مکتوب شکل میں کسی کے پاس نہ مل سکی اور درج ہونے سے رہ گئی۔ پھر جب عہدِ عثمانؓ میں مصاحف کی کتابت شروع ہوئی تو حضرت زیدؓ کو یہ آیت یاد تھی۔ تفتیش و تلاش جاری رکھی تاآنکہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں تحریراً مل گئی تو شامل کی گئی۔ اس آیت کے علیحدہ ذکر سے یہ حصر بتلانا مقصود ہے کہ قرآن کی ہر آیت باقاعدہ تحریری ثبوت اور گواہوں کی شہادت سے تائید حفاظ کے علاوہ ثبت کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کی ہر آیت قطعاً قرآن ہے نہ کوئی آیت کم ہوئی ہے اور نہ زیادہ کی گئی ہے۔ اب اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس اہتمامِ جمع اور حفاظتِ قرآن پر جو اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ (پھر ہمارے ذمے اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہے) کی عملی اور ایفائے عہد کی شکل ہے۔ کسی کو اعتبار نہیں۔ تو اس کے معتبر ماننے کی اور کوئی شکل نہیں وہ قرآن سے اور اس پر ایمان و عمل سے بدستور محروم رہے گا جیسے شیعہ کا وجود خود گواہ ہے۔

سوال نمبر 234: بخاری میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہؓ سے مصحفِ صدیقی منگوا کر قرآن کمیٹی کو حکم دیا کہ اس کے متعدد نسخے لکھو اگر کسی آیت میں اختلاف پاؤ تو اسے لغتِ قریش میں لکھنا، کیا سیدنا عثمانِ غنیؓ اس قرآن کو مستند اور اختلاف سے پاک اعتقاد نہیں کرتے تھے؟

جواب: یہاں قرآن میں اختلاف یا غلطی ہونے کا تصور نہیں بلکہ رسم الخط اور کتابت کا فرق مراد ہے۔ یعنی کسی لفظ کی کتابت میں اختلاف ہو تو قریشی زبان والے رسم خط اور لہجہ میں لکھنا کیونکہ ان کی ہی زبان میں اترا۔ چنانچہ ایسا ہی انہوں نے کہا۔ تو اب جو لکھا گیا وہ قرآن لغتِ قریش پر لکھا گیا جس پر اولاً اترا تھا۔ باقی لغات میں ادائیگی یا کتابت کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر اختلاف سے پاک رکھنے کے لیے اس اجازت کو نظر انداز کیا گیا۔

سوال نمبر 235: اگر جمع شدہ قرآن صحیح و مکمل تھا تو کمیٹی کیوں تشکیل دی گئی؟

جواب: مکمل تھا متعدد نسخے تیار کرنے کے لیے کاتبوں کی ڈیوٹی لگائی گئی۔

سوال نمبر 236: کیا حضرت عثمانؓ نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے یہ خدمت لینے کی سعی فرمائی؟

جواب: نہیں! یہ کام چھوٹے لوگوں کے مناسب سمجھا گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے وزیراعظم تھے اس مشورہ میں شریک تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے خود فرمایا: لوگو حضرت عثمانؓ نے یہ کام ہمارے مشورے سے ہی کیا ہے اور اگر ان کی جگہ میں خلیفہ ہوتا، تو اسی طرح کرتا۔ (تاریخ الخلفاء: فتح الباری)

سوال نمبر 237: بھی اس سے حل ہو گیا کہ اگر سیدنا عثمانؓ کے اس عمل سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اختلاف ہوتا تو برملا اظہار کرتے۔ وزارت سے استعفیٰ دیتے۔ پھر اپنے پنج سالہ دورِ خلافت میں قرآن کی نئی تدوین اور اشاعت فرماتے۔

سوال نمبر 238: کیا سیدنا عثمانؓ حافظِ قرآن تھے؟

جواب: جی ہاں! ایک رات میں ایک یا دو رکعتوں میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔ (حلیتہ الاولیاء)

صفحہ 4 از 11